پاکستانی وزیر داخلہ سکیورٹی اور انسداد منشیات پر مذاکرات کے لیے سعودی عرب میں

پاکستانی وزیر داخلہ سعودی عرب میں، سکیورٹی اور انسداد منشیات پر مذاکرات کریں گے۔

پاکستان کی وزارت داخلہ کے مطابق ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سعودی وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نائف نے محسن نقوی کا خیرمقدم کیا (ایس پی اے)

پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی سعودی عرب میں موجود ہیں جہاں وہ بدھ کو ریاض میں سکیورٹی، انسداد منشیات اور ادارہ جاتی تعاون سے متعلق مذاکرات میں حصہ لیں گے۔

پاکستان کی وزارت داخلہ کے مطابق ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سعودی وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نائف نے محسن نقوی کا خیرمقدم کیا۔

سرکاری میڈیا ریڈیو پاکستان نے کہا ہے کہ اس دورے سے توقع ہے کہ دونوں ممالک کو داخلی سلامتی کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے، منشیات کی سمگلنگ کے خلاف مشترکہ کوششوں کو فروغ دینے، اور دونوں وزارتِ داخلہ کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو وسعت دینے کا موقع ملے گا۔

یہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ کشیدگی کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران کے نمائندے مذاکرات کے لیے قطر میں موجود ہیں۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی اور امن کے لیے مفاہمتی یاداشت پر اتفاق رائے قائم کرنے میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا اور اس عمل میں وزیر داخلہ محسن نقوی بھی پیش رہے تھے۔

پاکستان نے اپریل میں اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان براہِ راست اعلیٰ سطحی مذاکرات کی میزبانی کی تھی۔

یہ پیش رفت پاکستان کی جانب سے کئی ہفتوں کے تنازعے کے بعد جنگ بندی کرانے میں مدد کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے بعد محسن نقوی نے تہران کے متعدد دورے کیے اور ایران کی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے برقرار رکھتے ہوئے قطر اور دیگر علاقائی شراکت داروں کے ساتھ قریبی مشاورت جاری رکھی۔

ان کوششوں کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے، جو پاکستان کی ثالثی میں تیار کردہ ایک فریم ورک ہے۔ اس کے تحت واشنگٹن اور تہران نے جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی اور ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں اور وسیع تر علاقائی سکیورٹی معاملات پر مذاکرات کے ذریعے جامع حل تلاش کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

گذشتہ ماہ سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن اسٹاک میں امریکی اور ایرانی اعلیٰ حکام نے اسی فریم ورک کے تحت مذاکرات کیے۔ بعد ازاں پاکستان اور قطر نے اعلان کیا کہ ان مذاکرات میں 60 دن کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ طے کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پیش رفت کی نگرانی کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی گئی اور پابندیوں، جوہری معاملات، آبنائے ہرمز کی بحری سکیورٹی اور لبنان میں جنگ بندی کے نفاذ سمیت مختلف امور پر تکنیکی مذاکرات بھی شروع کر دیے گئے ہیں۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سیاسی، اقتصادی، سکیورٹی اور دفاعی شعبوں میں قریبی تعلقات قائم ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے اتوار، 28 جون، کو ایک بیان میں بتایا سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے جلد پاکستان کے دورے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا