ایک طرف ایران کے سفیر سعودی عرب کا شکریہ ادا کر رہے ہیں، تو دوسری طرف سویلین اہداف پر حملے جاری ہیں۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای 2023 کے بیجنگ معاہدے کو بچا پائیں گے، یا تہران میں طاقت کا اصل مرکز فوج ہی رہے گی؟
سعودی عرب
احمد فاروق کے مطابق: ’پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ہمیشہ یہ اصولی مؤقف رہا ہے کہ جب بھی سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو خطرہ لاحق ہو گا تو پاکستان مدد کے لیے آئے گا۔‘