’ایرانی حملے علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ‘: سعودی ولی عہد، اماراتی صدر میں رابطہ

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی ولی عہد اور یو اے ای کے صدر نے ٹیلی فونگ گفتگو میں کہا جی سی سی ممالک اپنے علاقوں کے دفاع کے لیے تمام دستیاب صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور متحدہ عرب کے صدر محمد بن زاید آل نہیان (اے ایف پی)

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید آل نہیان نے پیر کو فون پر گفتگو میں خلیجی ملکوں کے خلاف ایران کے مسلسل حملوں کو ایک خطرناک کشیدگی قرار دیا جو علاقائی سکیورٹی کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق دونوں رہنماؤں نے کہا کہ جی سی سی ممالک اپنے علاقوں کے دفاع اور علاقائی استحکام برقرار رکھنے کے لیے اپنی تمام دستیاب صلاحیتیں بروئے کار لانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔

دونوں ملکوں کے رہنماؤں کے درمیان رابطہ ایسے وقت ہوا جب سعودی عرب میں ایران کے سفیر علی رضا عنایتی نے تہران پر الزام آنے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی۔

انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ ’دشمن‘، جس سے مراد امریکہ اور اسرائیل ہیں، ’لوکاس ڈرون‘ کے نام سے ایسے ڈرون استعمال کر رہا ہے جو ایرانی ساختہ شاہد ڈرونز جیسے دکھائی دیتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

علی رضا عنایتی نے زور دے کر کہا کہ ایران خطے میں صرف امریکی اور اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنا رہا ہے اور خلیجی ملکوں پر حملوں کی ذمہ داری سے انکار کیا۔

ان کی پوسٹ پر بڑے پیمانے پر شکوک کا اظہار کیا گیا۔

ناقدین نے نشاندہی کی کہ ایران کی فوجی قیادت کھلے عام خلیجی ملکوں کو دھمکیاں دے چکی ہے اور یہ کہ اگر حملوں کا ہدف امریکی فوجی تنصیبات بھی ہوں تب بھی ان سے قریب کے شہری علاقے خطرے میں پڑتے ہیں۔

علاقائی حکام کا کہنا ہے کہ فروری کے آخر میں تنازع شروع ہونے کے بعد سے خلیج کی طرف ایران کے ہزاروں میزائل اور ڈرون داغے جا چکے ہیں، جن سے پورے خطے میں ایئرپورٹس، بندرگاہوں، توانائی کے ڈھانچے اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے گذشتہ ہفتے ایک قرارداد منظور کی تھی، جسے 15 میں سے 13 ارکان کی حمایت حاصل تھی اور 135 ملکوں نے اس کی مشترکہ سرپرستی کی جس میں ایران کے حملوں کی مذمت کی گئی اور فوری طور پر لڑائی روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا