پاکستانی کشمیر میں الیکشن کا دوسرا مرحلہ: سکیورٹی سخت اور احتجاج جاری

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں قانون ساز اسمبلی انتخابات 2026 کے دوسرے مرحلے کے تحت کل مظفرآباد ڈویژن میں پولنگ ہو گی۔

27 جولائی، 2026 کی اس تصویر میں پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے شہر میرپور میں عام انتخابات 2026 کے دوران ووٹ ڈالے جا رہے ہیں(تصویر: انڈپینڈنٹ اردو)

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں قانون ساز اسمبلی انتخابات 2026 کے دوسرے مرحلے کے تحت کل مظفرآباد ڈویژن میں پولنگ ہو گی۔

 اس مرحلے میں مظفرآباد، نیلم اور جہلم ویلی کے اضلاع میں ووٹر اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کریں گے۔

مظفرآباد ڈویژن کے نو انتخابی حلقوں میں مجموعی طور پر 207 امیدوار مدِمقابل ہیں، جن میں ضلع مظفرآباد کے پانچ، جہلم ویلی کے دو اور نیلم کے دو حلقے شامل ہیں۔

اسی روز پاکستان میں مقیم کشمیری پناہ گزینوں کے لیے مختص 12 نشستوں پر بھی پولنگ ہوگی، جہاں 137 امیدوار میدان میں ہیں۔

 ان نشستوں میں سے چھ کشمیر ویلی جبکہ چھ جموں ریجن کے لیے مختص ہیں۔ یہ وہی نشستیں ہیں جن پر کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔

مظفرآباد کے ڈپٹی کمشنر منیر احمد نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’انتخابات اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق ہوں گے۔‘

 ان کا کہنا تھا کہ اس وقت شہر میں امن و امان کی صورت حال قابو میں ہے اور انتظامیہ نے پرامن پولنگ کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔

مظفرآباد ڈویژن میں مجموعی طور پر آٹھ لاکھ 95 ہزار 66 رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے، جن میں چار لاکھ 27 ہزار 400 مرد جبکہ تین لاکھ 82 ہزار 167 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔

دوسری جانب، پاکستان میں مقیم کشمیری پناہ گزینوں کی 12 نشستوں پر مجموعی ووٹرز کی تعداد چار لاکھ 38 ہزار 834 ہے، جن میں دو لاکھ 47 ہزار 776 مرد اور ایک لاکھ 91 ہزار 54 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔

پولنگ کے لیے مظفرآباد ڈویژن میں مجموعی طور پر ایک ہزار 483 پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔

ان میں سے 533 کو انتہائی حساس، 741 کو حساس جبکہ 209 کو نارمل قرار دیا گیا، جبکہ پاکستان میں مقیم کشمیری پناہ گزینوں کی 12 نشستوں کے لیے ایک ہزار 57 پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔

پولنگ سے قبل کشیدگی، انٹرنیٹ بندش اور سکیورٹی کارروائیاں

مظفرآباد میں احتجاجی مظاہروں کے دوبارہ شروع ہوتے ہی انٹرنیٹ سروس ایک بار پھر معطل کر دی گئی۔ یہ سروس تقریباً 55 روز کی بندش کے بعد صرف ایک روز قبل ہی بحال ہوئی تھی، تاہم بحالی ایک دن بھی برقرار نہ رہ سکی۔

مظفرآباد سے تعلق رکھنے والے مقامی صحافی فرحان طارق نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’شہر مکمل طور پر بند ہے اور مختلف مقامات پر سڑکوں پر پتھر رکھ کر آمد و رفت معطل کر دی گئی ہے۔‘

 ان کے مطابق وقفے وقفے سے مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’گذشتہ روز ایک شخص جان سے گیا، جس کی شناخت جامعہ آزاد جموں و کشمیر کے ایک ملازم کے طور پر ہوئی ہے۔‘

 ان کا کہنا تھا کہ ’مقامی افراد کا الزام ہے کہ وہ سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے جان سے گئے‘، تاہم حکام کی جانب سے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی گئی۔

فرحان طارق کے مطابق ’نیلم جانے والی مرکزی شاہراہ بھی بند ہے۔‘

 ان کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ روز سکیورٹی فورسز نے دھرنے کو منتشر کر دیا تھا، جبکہ مختلف علاقوں سے وقفے وقفے سے شیلنگ کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’تھانہ صدر کی حدود میں مظاہرین نے الیکشن کمیشن کی گاڑیوں کو بھی روک لیا، جس کے باعث انتخابی عمل سے متعلق نقل و حرکت متاثر ہوئی۔‘

حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات کے حق میں نو جون کو بھمبر سے مظفرآباد تک لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا تھا۔

اس سے چار روز قبل پانچ جون کو، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

مظفرآباد پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے دو اگست 2026 کو ہونے والے انتخابات میں امن و امان خراب کرنے کی مبینہ سازش ناکام بنا دی ہے۔

پولیس کے مطابق انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی گئی کارروائیوں کے دوران تین مختلف مقامات سےمتعدد افراد کو گرفتار کیا گیا، جو مبینہ طور پر سڑکیں بند کرنے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور انتخابی عمل میں خلل ڈالنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پرامن، آزاد اور شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا جائے گا اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے گی۔

پہلا مرحلہ: کم ٹرن آؤٹ اور مسلم لیگ (ن) کی برتری

قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن میں کم ووٹر ٹرن آؤٹ، پرتشدد تصادم اور انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات چھائے رہے۔

غیر سرکاری نتائج کے مطابق، پیر کو میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں میں سے نو پر پاکستان مسلم لیگ (ن) نے کامیابی حاصل کی، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی چار نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی۔

میرپور ڈویژن میں ووٹر ٹرن آؤٹ گذشتہ انتخابات کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم رہا، جس کی ایک بڑی وجہ کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے انتخابی بائیکاٹ تھا۔

ہر حلقے میں سرفہرست دو امیدواروں کے حاصل کردہ مجموعی ووٹوں کی بنیاد پر اندازہ لگایا گیا کہ میرپور ڈویژن کے تقریباً 14 لاکھ رجسٹرڈ ووٹروں میں سے کم از کم پانچ لاکھ 44 ہزار 62 افراد نے ووٹ کاسٹ کیے، جس کے مطابق کم از کم ووٹر ٹرن آؤٹ 38.8 فیصد رہا۔

یہ شرح 2021 کے انتخابات میں انہی حلقوں میں ریکارڈ کیے گئے 61 فیصد ٹرن آؤٹ سے نمایاں طور پر کم ہے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی اپنی قانون ساز اسمبلی، اپنے وزیرِاعظم اور صدر موجود ہیں، تاہم دفاع، خارجہ امور اور کرنسی جیسے اہم شعبے پاکستان کی وفاقی حکومت کے دائرۂ اختیار میں ہیں۔

یہ علاقہ وسیع تر کشمیر خطے کا حصہ ہے، جو 1947 سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان تقسیم ہے اور دونوں ممالک پورے خطے پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔

انتخابات کے دوسرے مرحلے میں دو اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور پاکستان میں مقیم کشمیری پناہ گزینوں کی 12 نشستوں پر پولنگ ہو گی، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں ووٹنگ ہو گی۔

ان مراحل کے نتائج سے یہ واضح ہو گا کہ کیا پاکستان مسلم لیگ (ن) ابتدائی برتری کو برقرار رکھتے ہوئے 53 رکنی قانون ساز اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کر پاتی ہے یا نہیں۔

دوسری جانب پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ خطے میں پرامن اور منصافانہ انتخابات کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔

پاکستان بھر میں یکجہتی احتجاج اور مظاہرین زیر حراست

جمعے کو اسلام آباد، لاہور، کراچی اور پاکستان کے دیگر شہروں میں احتجاج ہوئے، جس میں طلبا، وکلا، انسانی حقوق پر کام کرنے والی تنظیموں اور خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ 

سینیٹر مشتاق احمد خان کے سوشل میڈٰیا پر ہفتے کو پوسٹ کیا گیا کہ کل کشمیر کے حق میں احتجاج کرنے کے جرم میں ان کو ان کے ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا گیا۔

انڈپینڈنٹ اردو نے اس حوالے سے پولیس کا موقف جاننے کی کوشش کی تاہم ان کی طرف سے جواب موصول نہیں ہوا۔ پولیس کا موقف ملتے ہی اسے اس خبر میں شامل کر دیا جائے گا۔

کل لاہور پولیس کی جانب سے حراست میں لیے گئے حقوقِ خلق پارٹی کے سیکریٹری اطلاعات حسنین جمیل فریدی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری صورت حال سے اظہارِ یکجہتی کے لیے مختلف ترقی پسند تنظیموں نے لاہور پریس کلب کے باہر احتجاج کی کال دی تھی، جس میں حقوقِ خلق پارٹی، پروگریسو سٹوڈنٹس کلیکٹو، خلق یوتھ فرنٹ، عورت مارچ اور دیگر تنظیمیں شامل تھیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’احتجاج شام چار بجے ہونا تھا، لیکن جب ہم پونے چار بجے کے قریب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ تقریباً 150 پولیس اہلکار پہلے سے موجود تھے۔ ہمیں اندازہ ہو گیا تھا کہ گرفتاریاں کی جائیں گی، اس لیے ہم نے فیصلہ کیا کہ پہلے ایک اور مقام پر جمع ہوں تاکہ بڑی تعداد میں اکٹھے ہو کر پریس کلب کی طرف جائیں۔

’تاہم جو لوگ انفرادی طور پر یا چھوٹے گروپوں کی صورت میں پہنچ رہے تھے، پولیس نے انہیں راستے ہی میں حراست میں لینا شروع کر دیا۔‘

حسنین کے مطابق: ’بعد ازاں تقریباً 30 سے 35 افراد کی ریلی کی صورت میں جب ہم پریس کلب کے باہر پہنچنے لگے تو 25 سے 30 پولیس اہلکاروں نے ہمیں دھکے دیے اور منتشر کرنے کی کوشش کی۔‘

’ہم نے نعرے بازی کی، جس کے بعد ہمیں گرفتار کر کے تھانہ قلعہ گجر سنگھ منتقل کر دیا گیا۔ وہاں ہمیں تقریباً ایک سے دو گھنٹے تک رکھا گیا اور بعد ازاں ہمارے بیانات لیے گئے، جس کے بعد ہمیں رہا کر دیا گیا۔‘

انہوں نے کہا کہ ٰ’ہماری رہائی میں سول سوسائٹی کے دباؤ نے اہم کردار ادا کیا۔‘

 ان کے بقول: ’تھانے کے باہر سول سوسائٹی کے متعدد افراد جمع ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ مشترکہ ایکشن کمیٹی، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے کارکنان اور دیگر افراد بھی وہاں پہنچے۔ فاروق طارق کی گرفتاری پر بھی شدید ردعمل سامنے آیا۔ مجموعی طور پر تقریباً 50 سے 60 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا، تاہم عوامی دباؤ کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔‘

حسنین نے کہا کہ ’ان کی جماعت پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے عوام سے اظہارِ یکجہتی کی مہم جاری رکھے گی اور آئندہ بھی اس حوالے سے احتجاج اور دیگر سرگرمیوں کا منصوبہ بنایا جائے گا۔‘

اسلام آباد میں ہونے والے مظاہرے میں شریک سردار لقمان، جن کا تعلق پلندری، ضلع سدھنوتی سے ہے، نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں صورت حال انتہائی تشویش ناک ہے۔ ہمارا مؤقف ہے کہ نہتے شہریوں، بچوں اور مظاہرین پر طاقت کا استعمال بند ہونا چاہیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ہمارے رہنماؤں پر دہشت گردی کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، جبکہ ہماری تحریک پرامن ہے۔ ہم بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ صورت حال کا نوٹس لیں۔ ہمارے مطالبات صرف یہ ہیں کہ لوگوں کی جانوں کا تحفظ کیا جائے اور ان کے بنیادی حقوق کا احترام کیا جائے۔‘

ڈاکٹر نایاب، جن کا تعلق راولاکوٹ سے ہے نے، انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے یہاں آئی ہوں۔‘

ان کے مطابق: ’گذشتہ دو ماہ سے حالات کی وجہ سے اپنے گھر نہیں جا سکی۔ ہمارے خاندانوں کا ایک دوسرے سے رابطہ بھی متاثر ہوا ہے۔ میری ریاست سے اپیل ہے کہ کشمیریوں کے ساتھ طاقت کے استعمال کے بجائے ان کے تحفظ اور مسائل کے حل کو ترجیح دی جائے۔‘

ایک اور شہری صوفیہ کمال نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ہم یہاں اس لیے احتجاج کر رہے ہیں کہ ہمارے مطالبات سنے جائیں اور تشدد بند کیا جائے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے ہمارا اپنے عزیز و اقارب سے رابطہ منقطع ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کو بنیادی حقوق دیے جائیں اور حالات معمول پر لائے جائیں۔‘

ایک طالبہ عائشہ انجم انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں لوگ دو ماہ سے اپنے بنیادی حقوق کے لیے پرامن احتجاج کر رہے ہیں۔

’ہماری درخواست ہے کہ ان کے مطالبات سنے جائیں اور طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت کا راستہ اپنایا جائے۔ اگر بنیادی حقوق کا مطالبہ کرنا جرم سمجھا جاتا ہے تو پھر یہ ایک تشویش ناک صورت حال ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ریاست کشمیری عوام کے ساتھ مذاکرات کرے اور ان کے مسائل کا پرامن حل نکالے۔‘

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے گذشتہ کئی ماہ سے احتجاج جاری ہے جبکہ حالیہ دنوں میں کئی علاقوں میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق مظاہرین میں قانون نافذ کرے والے اداروں کے درمیان تصادم کے کئی واقعات ہوئے ہیں جن میں اب تک متعدد افراد کی اموات ہو چکی ہیں جن میں سرکاری اہلکار اور مظاہرین دونوں شامل ہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان