مظفرآباد: عوامی ایکشن کمیٹی کی احتجاج کی کال، سکیورٹی کے سخت انتظامات

حکام نے ممکنہ احتجاج کے پیشِ نظر مظفرآباد شہر میں پیراملٹری فورسز اور پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کی کال کے بعد سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

حکام نے ممکنہ احتجاج کے پیشِ نظر مظفرآباد شہر میں پیراملٹری فورسز اور پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی ہے تاکہ امن و امان کی صورت حال برقرار رکھی جا سکے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے تناظر میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے سیاحوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس جانب سفر سے گریز کریں اور جو پہلے سے ہی علاقے میں موجود ہیں انہیں فوری نکل جانے کا کہا ہے۔

کشمیر کی حکومت نے جمعے کو ایک نوٹیفیکشن میں عوامی ایکشن کمیٹی نامی جماعت کو کالعدم قرار دیا تھا۔

نوٹیفکیشن کے متن کے مطابق: ’تنظیم کے خلاف امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے کے معقول شواہد ہیں اور تنظیم ریاست میں انتشار پیدا کرنے میں ملوث پائی گئی۔‘

اس پابندی کے بعد ہفتے کو عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ تقریباً 72 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

تاہم پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم فیصل راٹھور نے اسلام آباد انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے دوبارہ رابطے کے سوال پر کہا تھا کہ ’اگر معاملہ حل کرنا مطلوب ہے تو بات ہو سکتی ہے۔‘

فیصل راٹھور نے ہفتے کو کشمیر کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر انتخابات میں تاخیر سے متعلق کہا تھا کہ ’تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ کیونکہ حالات جس طرف جا رہے ہیں، اس میں اندیشہ کیا جا سکتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی نے مظفر آباد میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے جو ان کے مطابق آغاز میں نو جون کی کال تھی لیکن اس پر اتوار سے ہی عمل شروع کیا جا رہا ہے۔

عوامی ایکشن کمیٹی کے ایک سپورٹر راحیل خان عباسی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے اتوار کو بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال 9 جون کے لیے مقرر تھی۔ تاہم پاکستان کی حکومت اور آزاد کشمیر کی حکومت کی نااہلی اور عوامی مسائل و خدشات کو مسلسل نظر انداز کرنے کے باعث، ہم آج ہی شٹر ڈاؤن احتجاج کرنے پر مجبور ہو گئے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’عوام متحد ہیں، مکمل طور پر تیار ہیں اور 9 جون کی کال میں بھی بھرپور شرکت کے لیے پُرعزم ہیں۔‘

ایک 23 سالہ طالب علم محمد المصدق کا کہنا ہے کہ ’آزاد کشمیر حکومت نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو ایک کالعدم تنظیم قرار دے دیا ہے۔ تاہم اس فیصلے سے نہ تو کمیٹی کے عزم میں کوئی کمی آئی ہے اور نہ ہی عوامی حمایت میں کوئی کمی واقع ہوئی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’کشمیر کے عوام اپنے جائز مطالبات کے حصول کے لیے پہلے سے زیادہ پُرعزم ہیں۔ عوامی جذبات کے مطابق وہ اپنے حقوق کی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اپنے لیے دستیاب تمام جمہوری اور آئینی ذرائع کے ذریعے اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان