پاکستان نے انڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کی یکطرفہ معطلی اور پانی بند کرنے کی دھمکیوں کے حوالے سے جمعرات کو کہا ہے کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کے لیے زندگی کی علامت ہے، کوئی جنگی ہتھیار نہیں۔
ان خیالات کا اظہار اقوام متحدہ میں پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے جمعرات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد 2788 کے مطابق تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر ہونے والی کھلی بحث کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا: ’بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کو اسی طرح نظر انداز کرنے کا مظاہرہ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے انڈیا کے یکطرفہ اور غیر قانونی فیصلے سے بھی ہوتا ہے۔
’دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کے لیے زندگی کی علامت ہے، کوئی جنگی ہتھیار نہیں۔ انڈیا کا ایسا لاپروا رویہ جنوبی ایشیا میں امن اور سکیورٹی کو ہی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔‘
پاکستانی سفارت کار نے کہا کہ ستم ظریفی ہے کہ انڈیا بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے امن کا پرچار کر رہا ہے۔
صائمہ سلیم کے مطابق: ’آج جب رکن ممالک نے تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے نظام کو مضبوط بنانے اور قرارداد 2788 پر عمل کرنے پر توجہ دی، ایک ملک کے وفد نے حقیقت سے انکار، باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کر کے، جھوٹے الزامات لگا کر اور اپنے کردار کو انتہائی غلط انداز میں پیش کر کے اصل بحث کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جموں و کشمیر نہ تو انڈیا کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا اندرونی معاملہ ہے۔ انڈیا کا انکار تاریخ کو دوبارہ نہیں لکھ سکتا، جموں و کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا یا کشمیری عوام کے خلاف انسانی حقوق کی تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط منظم خلاف ورزیوں کو نہیں چھپا سکتا، جن میں ان کے حق خودارادیت سے انکار بھی شامل ہے۔‘
صائمہ سلیم نے مزید کہا کہ انڈیا خود جموں و کشمیر کے تنازعے کو سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا لیکن اب بھی اس کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ ’انڈیا کے وفد کو یاد دلا دوں کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی میعاد ختم ہونے کی کوئی تاریخ نہیں ہوتی۔‘
پاکستانی سفارتی نمائندے کا کہنا تھا کہ پاکستان اور انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے درمیان فرق بالکل واضح ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں، کشمیری آزادی سے رہتے ہیں، سیاسی زندگی میں حصہ لیتے ہیں اور اپنی آواز اٹھاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں آواز کو دبا دیا جاتا ہے، اختلاف رائے کو جرم قرار دیا جاتا ہے، حراستوں، ماورائے عدالت اموات، جبری گمشدگیوں اور تنازعات سے متعلق جنسی تشدد کے ہزاروں واقعات کو جبر کے ہتھیاروں کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
صائمہ سلیم نے مزید کہا کہ آبادی میں تبدیلی مسلط کی جاتی ہیں، اور حق خودارادیت سے انکار کیا جاتا ہے۔ استعمال کیے گئے حقوق کو چھینے گئے حقوق کے برابر نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا کہ انڈیا ’دہشت گردی کا ریاستی سرپرست‘ ہے۔ پاکستان نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور مجید بریگیڈ جیسی پراکسیز کے ذریعے کی جانے والی ’دہشت گردی‘ میں تقریباً ایک لاکھ شہری کھوئے ہیں جن میں بے گناہ مرد، خواتین اور بچے شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ان پراکسیز کو انڈیا کی جانب سے مالی امداد، ہتھیار، اور ہر قسم کی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ انڈین بحریہ کے حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن یادو سے لے کر شمالی امریکہ میں انڈیا کے ایجنٹوں سے جڑے قتل کے منصوبوں اور اموات تک، انڈیا کی دہشت گردی کا نیٹ ورک علاقائی سطح سے نکل کر عالمی سطح تک پھیل چکا ہے۔‘
صائمہ سلیم نے کہا کہ انڈیا میں ہندوتوا سے متاثر دائیں بازو کی فاشسٹ آر ایس ایس۔بی جے پی حکومت نے اسلامو فوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے، جس سے 20 کروڑ سے زائد مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم اور نسل کشی معمول بن گئی ہے۔
’دنیا کی سب سے بڑی منافقت میں مسیحیوں سمیت دیگر اقلیتوں پر ظلم کیا جاتا ہے، دلتوں کی تذلیل کی جاتی ہے اور سکھوں کو ان کے حقوق سے محروم کیا جاتا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کا طرز عمل خود بولتا ہے۔ اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود، ہم نے تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، بات چیت کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھا ہے اور اپنے خطے اور اس سے باہر محاذ آرائی کے بجائے ہمیشہ تنازعات کے پرامن حل کا انتخاب کیا ہے۔‘
صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ نہ تو انکار میں ہے اور نہ ہی ہٹ دھرمی میں، بلکہ اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری میں ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ’انڈیا آج پیش کی گئی سفارشات پر اپنا محاسبہ کرے گا اور قرارداد 2788 پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کرنے کی اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرے گا۔ اپنے معاہدوں کی پاسداری کرے گا، اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازعے کے پرامن حل کے لیے خلوص نیت سے حصہ لے گا۔‘