اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ دنیا میں بین الاقوامی قوانین کے احترام میں ماضی کی نسبت خاصی کمی آئی ہے۔
سلامتی کونسل کے ایک مباحثے میں پیر کو خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قانونی اصولوں کے منتخب اطلاق، معاہدوں کی ذمہ داریوں میں کمی اور یکطرفہ اقدامات نے ریاستوں کے درمیان اعتماد کو کمزور کیا ہے اور ’اقوام متحدہ کے چارٹر میں موجود کثیرالجہتی نظام تناؤ کا شکار ہوا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’جب قانون طاقت یا مصلحت کا نتیجہ ہوتا ہے تو عدم استحکام مزید گہرا ہوتا ہے، تنازعات مزید بڑھ جاتے ہیں اور پرامن بقائے باہمی خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔‘
عاصم افتخار نے پاکستان کے ساتھ پیش آنے والے ایسی خلاف ورزیوں کے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے گذشتہ سال مئی میں انڈیا کی جانب سے حملوں کا ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’انڈیا نے بین الاقوامی قانون اور پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلا اشتعال فوجی جارحیت کی۔
’تاہم پاکستان نے (یو این) چارٹر کے آرٹیکل 51 کے مطابق عمل کرتے ہوئے اپنے دفاع کے موروثی حق کو ذمہ دارانہ، روک ٹوک اور متناسب طریقے سے استعمال کیا۔ ہمارے جواب نے ثابت کیا کہ جبر یا استثنیٰ کی بنیاد پر کوئی ’نیا معمول‘ نہیں ہو سکتا۔ بین الاقوامی قانون کا احترام بین ریاستی طرز عمل پر حکمرانی کرنے والا واحد جائز اصول ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کے خیال میں اس تنازعہ نے یہ بھی یاد دلایا کہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے جموں و کشمیر پر انڈیا کا غیر قانونی قبضہ ہے۔
’کشمیری عوام کے حق خودارادیت سے مسلسل انکار کے انسانی حقوق کے سنگین نتائج ہیں اور پائیدار امن کو خطرہ ہے۔‘
پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ انڈیا کی طرف سے سندھ آبی معاہدے کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی ایک اور صریح خلاف ورزی ہے، جس سے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں اور معاش کو خطرہ ہے اور امن و سلامتی کو خطرہ ہے۔
’پاکستان پانی اور دیگر قدرتی وسائل کو ہتھیار بنانے کو مسترد کرتا ہے۔ معاہدے کی تعمیل بین الاقوامی قانونی حکم کی بنیاد ہے۔‘
انہوں نے سلامتی کونسل کو موثر میکانزم وضع کرے اور اپنی قراردادوں کے نفاذ کی منظم نگرانی کا مشورہ دیا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ سلامتی کونسل بین الاقوامی عدالت انصاف کے ساتھ زیادہ منظم انداز میں رابطہ قائم کرے اور قانونی بریفنگز کو ادارہ جاتی شکل دے۔