جہاز، انشورنس اور جھوٹ: ہرمز میں کیا چل رہا ہے؟

ٹرمپ نے بحیرہ احمر میں نیوی گیشن کا کنٹرول کیوں سنبھالا؟ وہ نہر پاناما اور گرین لینڈ پر کیوں کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں؟حقیقت یہ ہے کہ خلیج میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے ان تمام پیش رفتوں سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔

25 فروری، 2026 کو آبنائے ہرمز کے مقام پر واقع ساحلی شہر فجیرہ کے قریب ایک مال بردار جہاز کی تصویر (اے ایف پی)

جون 2025 میں 12 روزہ جنگ کے دوران جب اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو مغربی میڈیا کے معتبر اداروں میں ایسی بہت سی رپورٹس سامنے آئیں، جن میں تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش اور عالمی منڈیوں اور معیشت پر اس کے اثرات پر بحث کی گئی۔

قابل غور بات یہ ہے کہ ان رپورٹس میں اس موضوع پر ایرانی حکام کا کوئی مخصوص بیان شامل نہیں تھا لیکن ان سب میں ایک جیسی خاص بات یہ تھی کہ ان میں اہم نکات کو دہرایا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کسی پبلک ریلیشنز مہم کا حصہ ہیں۔

جو چیز انہیں دلچسپ بناتی ہے وہ ان کا وقت ہے کیونکہ ایشیائی کمپنیاں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی فراہمی کے طویل مدتی معاہدوں پر دستخط کرنے کے لیے کسی شراکت دار کی تلاش میں ہیں۔

ان کمپنیوں کو امریکی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کرنے تھے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی جنگوں ان کی جانب سے بار بار ٹیرف کے نفاذ اور ان کی مسلسل بدلتی پالیسیوں نے ان کمپنیوں کو قطر اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدوں پر توجہ مرکوز کرنے پر مجبور کر دیا۔

ان خبروں اور مضامین کا مقصد، جن کی توجہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے پر مرکوز تھی، ان کمپنیوں کو یہ باور کروانا تھا کہ قطر یا متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدہ انہیں ایران کے ہاتھوں یرغمال بنا دے گا، جو جب چاہے آبنائے ہرمز کو بند کر سکتا ہے۔

لہٰذا منطق کا تقاضا ہے کہ وہ امریکی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کریں اور ہم یہاں اگلی تین دہائیوں کے دوران سینکڑوں ارب ڈالر کی بات کر رہے ہیں۔

مائع قدرتی گیس (ایل این جی) امریکی خارجہ پالیسی کا ایک لازمی حصہ اور قومی سلامتی کا ایک ستون بن چکی ہے، اس لیے امریکی ایل این جی کے کسی بھی مقابلے کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

اس منطق کی بنیاد پر امریکہ نے یورپ میں اپنی ایل این جی مارکیٹ کی حفاظت کے لیے کئی اقدامات کیے اور اپنا حصہ بڑھانے کے لیے مزید اقدامات کیے ہیں۔

ان اقدامات میں جرمنی کو نورڈ سٹریم ٹو پائپ لائن کے ذریعے روسی گیس درآمد کرنے سے روکنا (جو پانچ سال قبل اپنی تکمیل کے بعد سے فعال نہیں ہوئی)، نورڈ سٹریم ون پائپ لائن پر بمباری، امریکی گیس کو دوبارہ گیس میں تبدیل کرنے کے لیے چار ٹرمینلز بنانے میں جرمنی کی مدد کرنا اور روس کی گیس کی نئی تنصیبات اور ان کے تمام کیریئرز پر پابندی عائد کرنا شامل ہیں۔

یہ تمہید یہ سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ گذشتہ ہفتے کو آبنائے ہرمز میں کیا ہوا۔ اچانک، تیل اور مائع گیس کے ٹینکروں کو ای میلز ملنا شروع ہوئیں، جن میں کہا گیا تھا کہ یہ ای میلز ایرانی پاسداران انقلاب کی طرف سے ہیں اور یہ کہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا ہے اور وہ اسے عبور کرنے کے لیے آگے نہیں بڑھ سکتے۔

درحقیقت، چند گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز میں تیل یا مائع گیس کا کوئی ٹینکر موجود نہیں تھا اور یہ سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔

اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ اتوار کو جن تین بحری جہازوں پر حملے کی میڈیا میں رپورٹنگ کی گئی، انہیں نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان میں سے دو خالی اور تیسرا بھرا ہوا تھا۔

ان میں سے دو پر فضا میں تباہ کیے گئے میزائلوں کے ٹکڑے گرے۔ ان جہازوں میں سے ایک چھوٹا ہے اور اسے ایران اور انڈیا کے درمیان تیل کی مصنوعات سمگل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

آبنائے ہرمز کو عبور کرنے والے آئل ٹینکرز کے معیار کے مطابق یہ جہاز عام طور پر جو مقدار لے کر جاتا ہے وہ بہت کم ہوتی ہے۔

اگر اسے واقعی نشانہ بنایا گیا تھا تو یہ سمگلروں اور پاسداران انقلاب کے درمیان کا مسئلہ ہے کیونکہ پاسداران انقلاب مختلف ممالک کے گینگز کے ساتھ سمگلنگ کی کارروائیوں کی نگرانی کرتے ہیں۔

یہاں سوال یہ ہے کہ مغربی میڈیا نے سمگلنگ میں استعمال ہونے والے پہلے چھوٹے جہاز کے مسئلے کو کیوں بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور انشورنس کمپنیوں اور جہازوں کے مالکان کو ڈرانا کیوں شروع کیا اور یہ کیوں نہیں بتایا کہ یہ سمگلروں کا ایک چھوٹا جہاز تھا؟

اور اس نے یہ کیوں کہا کہ ان تین جہازوں میں سے ایک پر حملہ کیا گیا جبکہ جو کچھ ہوا وہ اس کے قریب تھا اور اسے بالکل بھی نہیں لگا؟

کیا اس مبالغہ آرائی کے پیچھے کوئی سیاسی اور معاشی مقاصد ہیں؟ جواب ہاں میں ہے، یہ یقینی طور پر ایک دانستہ مبالغہ آرائی ہے۔

مغربی میڈیا نے کہا کہ پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا، جس کا مطلب ہے کہ ایران نے کسی فوجی قوت کی موجودگی کے بغیر ہی آبنائے ہرمز کو بند کر دیا اور یہ ایک ایسی آبنائے ہے جو زیادہ تر اومان میں واقع ہے۔

پھر میڈیا نے یہ جھوٹ بھی بولا کہ پاسداران انقلاب صرف چینی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے رہے ہیں اور دیگر جہازوں کو نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حقیقت یہ ہے کہ ان پیغامات کے ذرائع کے بارے میں کوئی نہیں جانتا اور اس مسئلے کی تائید میں کوئی باضابطہ ایرانی بیان نہیں آیا، تو یہ پیغامات کس نے بھیجے؟

اس پر دو آرا ہیں: پہلی یہ کہ ’ایرانی الیکٹرانک آرمی‘ میں کام کرنے والے نوجوان ایرانیوں نے یہ کام ایرانی رہنماؤں کی ہدایت کے بغیر اپنی مرضی سے کیا۔ دوسری یہ کہ غیر ملکی عناصر نے یہ پیغامات بھیجے تھے۔

لیکن سچ یہ ہے کہ آئل ٹینکروں کی نقل و حرکت اس لیے رک گئی کیونکہ انہیں یورپی انشورنس کمپنیوں کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے جن میں ان کی انشورنس پالیسیوں کی منسوخی یا پریمیم میں نمایاں اضافے کی اطلاع دی گئی تھی۔

دوسرے لفظوں میں ایسے آئل ٹینکرز ہیں جو انشورنس کے بغیر یا بڑھا ہوا پریمیم ادا کرنے کے بعد اپنی کمپنی کے فیصلے کے بغیر حرکت نہیں کر سکتے۔ یعنی، مسئلہ انشورنس کا ہے، نہ کہ ایران کی جانب سے جہازوں کو آبنائے سے گزرنے سے روکنے کا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ کارگو اور کنٹینر جہاز بغیر کسی واقعے کے گزر گئے اور بعد میں دیگر بحری جہاز بھی بغیر کسی واقعے یا دھمکی کے وہاں سے گزر گئے تو پھر تیل اور مائع گیس پر ہی کیوں توجہ مرکوز کی گئی؟

یہ خبر کہ پاسداران انقلاب صرف چینی ٹینکروں کو اجازت دیتے ہیں، من گھڑت ہے۔ وجہ یہ ہے کہ انشورنس کا مسئلہ ان چینی جہازوں کو متاثر نہیں کرتا جو چینی کمپنیوں سے انشورنس حاصل کرتے ہیں، اس لیے ان کا اپنا سفر جاری رکھنا منطقی بات ہے۔

یہاں سوال یہ ہے کہ اس طرح خبریں پھیلانے سے کس کو فائدہ ہوتا ہے؟ اور صدر ٹرمپ نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کرنے والی انشورنس کمپنیوں کے اقدامات کو نظر انداز کیوں کیا؟

اس تحریر کو لکھنے کے وقت قطر نے مائع قدرتی گیس کی پیداوار روکنے کا اعلان کیا تو خلیج سے تیل اور مائع قدرتی گیس کی برآمدات رکنے سے کس کو فائدہ ہوتا ہے؟ یہ ٹرمپ اور پوتن ہیں۔

اور نقصان کس کا ہے؟ یہ یورپ کا اور بعد میں چین کا ہے۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ خلیجی ممالک اور عراق مختصر اور طویل مدتی دونوں حوالوں سے منفی طور پر متاثر ہوں گے۔

لیکن بات اس سے بھی آگے کی ہے۔ ٹرمپ نے بحیرہ احمر میں نیوی گیشن کا کنٹرول کیوں سنبھالا؟ وہ نہر پاناما اور گرین لینڈ پر کیوں کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ اور انہوں نے وینزویلا پر کنٹرول کیوں حاصل کیا؟

حقیقت یہ ہے کہ خلیج میں جو کچھ ہو رہا ہے، اسے ان تمام پیش رفتوں سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔

نوٹ: یہ تحریر اس سے قبل انڈپیندنٹ العربیہ پر چھپ چکی ہے، جسے یہاں ترجمہ کر کے شائع کیا گیا۔ انڈپینڈنٹ اردو کا کالم نگار کی آرا سے متفق ہونا ضروی نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ