برطانیہ نے 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی

یہ فیصلہ ایک حکومتی مشاورت کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں بڑی تعداد میں والدین نے شرکت کی۔ تقریباً 91 فیصد والدین نے 16 سال کم از کم عمر مقرر کرنے کی حمایت کی۔

آٹھ دسمبر 2025 کو آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ایک بچہ اپنے گھر پر ٹیبلٹ سے سوشل میڈیا استعمال کر رہا ہے (سعید خان / اے ایف پی)

برطانوی وزیراعظم کیئرسٹارمر نے ملک میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس ماڈل کو ’آسٹریلیا پلس‘ ماڈل کہا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نوجوانوں کو نہ خوش‘ بنا رہے ہیں اور انہیں خطرناک اور لت کے طور متاثر کر رہے ہیں۔

یہ پابندی ٹک ٹاک، انسٹاگرام، ایکس (ٹوئٹر)، انیپ چیٹ، یوٹیوب اور فیس بک جیسے پلیٹ فارمز پر لاگو ہوگی، تاہم واٹس ایپ جیسی میسجنگ سروسز اس سے مستثنیٰ رہیں گی۔

اس پالیسی کو آسٹریلیا کے ماڈل سے متاثر قرار دیا جا رہا ہے، جہاں پہلے ہی 16 سال سے کم عمر افراد پر ایسی پابندی عائد کی جا چکی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ دسمبر تک اس قانون کو منظور کرانے کی کوشش کریں گے ، جبکہ پابندی کا نفاذ آئندہ سال بہار میں متوقع ہے۔ ان کے مطابق یوٹیوب کڈز، لیگو پلے اور گوگل کلاس روم جیسے پلیٹ فارمز کو پابندی سے باہر رکھا جا سکتا ہے۔

حکومت کے مطابق گیمنگ ایپس اور لائیو سٹریمنگ پلیٹ فارمز پر بھی ایسے فیچرز محدود کیے جا سکتے ہیں جن کے ذریعے اجنبی افراد بچوں سے رابطہ کرتے ہیں، جیسے آن لائن چیٹ رومز۔

حکومت ان فیچرز پر بھی پابندی لگانے پر غور کر رہی ہے جن میں خودکار طور پر غائب ہونے والی تصاویر اور لوکیشن شیئرنگ شامل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

برطانوی اخبار دی سپیکٹیٹر کے مطابق اس پابندی کے تحت 18 سال سے کم عمر بچوں کو رومانوی یا جنسی نوعیت کے AI چیٹ بوٹس تک رسائی سے بھی روکا جا سکتا ہے۔

یہ فیصلہ ایک حکومتی مشاورت کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں بڑی تعداد میں والدین نے شرکت کی۔ تقریباً 91 فیصد والدین نے 16 سال کم از کم عمر مقرر کرنے کی حمایت کی۔

تاہم اس اقدام پر مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔ کچھ بچوں کی فلاحی تنظیموں نے اسے مثبت قدم قرار دیا ہے، جبکہ دیگر نے خبردار کیا ہے کہ اس سے بچے کم ضابطہ یافتہ اور زیادہ خطرناک آن لائن پلیٹ فارمز کی طرف جا سکتے ہیں۔

یوٹیوب کے ترجمان نے بھی خبردار کیا ہے کہ مکمل پابندی بچوں کو ’کم محفوظ سروسز‘ کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

وزیراعظم سٹارمر کا کہنا ہے کہ جیسے حقیقی زندگی میں کسی بچے کو کسی اجنبی کے ساتھ اکیلا نہیں چھوڑا جاتا، اسی طرح آن لائن دنیا میں بھی بچوں کو غیر محفوظ حالات سے بچانے کے لیے اقدامات ضروری ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ