پاکستان میں پہلی بار ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کے کسی رہائشی منصوبے کو بجلی کی تقسیم کا باقاعدہ لائسنس مل گیا ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے 24 جولائی کو ڈی ایچ اے انرجی سپلائی کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ (DHAESCPL) کو ڈی ایچ اے سٹی کراچی کے لیے 20 سالہ نان ایکسکلوسیو ڈسٹری بیوشن لائسنس جاری کر دیا ہے، جس کے بعد کمپنی یکم اکتوبر 2026 سے اپنی حدود میں بجلی کی تقسیم کی خدمات انجام دے سکے گی۔
ایم نائن موٹر وے سے متصل تقریباً 22 ہزار ایکڑ پر پھیلا ڈی ایچ اے سٹی کراچی ملک کے بڑے رہائشی منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
نیپرا کے مطابق یہ لائسنس 30 ستمبر 2046 تک مؤثر رہے گا، تاہم کمپنی کو ٹیرف، پاور پروکیورمنٹ، اوپن ایکسیس، مالی و تکنیکی اہلیت، صارفین کے تحفظ اور دیگر تمام ریگولیٹری تقاضوں پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔
’یہ صرف لائسنس نہیں بلکہ ایک سنگِ میل ہے‘
ڈی ایچ اے سٹی کراچی کے ہیڈ آف مارکیٹنگ اینڈ پبلک ریلیشنز کاشف فضل نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیپرا کی جانب سے ڈسٹری بیوشن اینڈ سپلائی آف لاسٹ ریزورٹ کا لائسنس ملنا ڈی ایچ اے سٹی کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے۔
بقول ان کے: ’اس لائسنس کے بعد ڈی ایچ اے سٹی اپنے رہائشیوں کو براہِ راست بجلی فراہم کرے گا، جبکہ بجلی نیشنل گرڈ اور لکی سیمنٹ کے گرڈ سے حاصل کی جائے گی۔‘
انہوں نے بتایا کہ ڈی ایچ اے سٹی تقریباً 22 ہزار ایکڑ پر مشتمل منصوبہ ہے، جہاں آئندہ پانچ سے چھ برس میں تقریباً 10 لاکھ افراد کی آبادی متوقع ہے۔ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے بجلی کی تقسیم کا جدید نظام تشکیل دیا جا رہا ہے۔
کاشف فضل کے مطابق: ’دو گرڈ سٹیشنز کا ڈیزائن مکمل ہو چکا ہے اور توقع ہے کہ جنوری 2027 میں ان کی تعمیر شروع ہو جائے گی۔ کار پارکنگ ایریا میں تقریباً تین میگاواٹ کے سولر پینلز پہلے ہی نصب کیے جا چکے ہیں، جبکہ ابتدائی مرحلے میں چھ سے سات میگاواٹ بجلی لکی سیمنٹ کے گرڈ سے حاصل کی جا رہی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے تحت بجلی کے کنکشن کے حصول کا عمل آسان ہوگا، دیکھ بھال کا نظام بہتر بنایا جائے گا اور معمول کے حالات میں صارفین کو بلا تعطل بجلی فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی، جبکہ بجلی کے نرخ نیپرا کے مقرر کردہ ٹیرف کے مطابق ہوں گے۔
ان کے مطابق ڈی ایچ اے سٹی کا بنیادی تصور ایک ایسا گرین، کلین اور پائیدار شہر تعمیر کرنا ہے، جہاں تمام جدید شہری سہولیات ایک ہی جگہ دستیاب ہوں۔
لائسنس پر کن اداروں نے اعتراضات اٹھائے؟
نیپرا نے 24 جولائی 2026 کو جاری اپنے تفصیلی فیصلے میں بتایا کہ درخواست پر عوامی اور ادارہ جاتی آرا طلب کی گئی تھیں۔
پانچ سٹیک ہولڈرز نے اپنی رائے جمع کرائی، جن میں دو نے درخواست کی حمایت کی، جبکہ کے الیکٹرک، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) اور سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے جی) نے مختلف اعتراضات اٹھائے۔
فیصلے کے مطابق پنجاب انڈسٹریل اسٹیٹس ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی اور ڈیفنس اینڈ کلفٹن ایسوسی ایشن (DCA) نے لائسنس کی حمایت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس اقدام سے ڈی ایچ اے سٹی کے رہائشیوں کو زیادہ قابلِ اعتماد بجلی، بہتر لوڈ مینجمنٹ، کم تعطل اور شکایات کے فوری ازالے کی سہولت حاصل ہوگی۔
کے الیکٹرک کے اعتراضات کیا تھے؟
کے الیکٹرک نے اپنے اعتراضات میں کہا کہ ڈی ایچ اے سٹی پہلے ہی اس کا صارف ہے اور اس کی بجلی کی طلب کمپنی کی کیپیسٹی پلاننگ کا حصہ ہے۔
کمپنی کا کہنا تھا کہ درخواست گزار نے پاور پروکیورمنٹ، ٹیرف، سرمایہ کاری، صارفین کے تحفظ اور گرڈ کوڈز پر عمل درآمد سے متعلق مکمل شواہد فراہم نہیں کیے۔
اس پر ڈی ایچ اے انرجی سپلائی کمپنی نے جواب دیا کہ کے الیکٹرک کے ساتھ موجودہ انتظام عبوری نوعیت کا ہے اور اس کا معاہدہ 30 ستمبر 2026 کو ختم ہو جائے گا۔
کمپنی کے مطابق ابتدائی مرحلے میں لکی سیمنٹ لمیٹڈ چھ میگاواٹ بجلی فراہم کرے گی، جبکہ لائسنس کے اجرا کے بعد ٹیرف، پاور ایکوزیشن پروگرام اور دیگر تمام ریگولیٹری درخواستیں نیپرا میں جمع کرائی جائیں گی۔
گیپکو اور سی پی پی اے جی نے کیا کہا؟
گیپکو نے اعتراض کیا کہ درخواست میں انٹرکنیکشن پوائنٹس، میٹرنگ، متوقع 924 میگاواٹ طلب پوری کرنے کے منصوبے، مالی استعداد اور مستقبل کی مسابقتی بجلی مارکیٹ (CTBCM) سے مطابقت کے بارے میں مکمل وضاحت موجود نہیں۔
کمپنی نے جواب میں کہا کہ منصوبہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس وقت بجلی لکی سیمنٹ لمیٹڈ سے حاصل کی جا رہی ہے، جبکہ مستقبل میں نیشنل گرڈ سمیت دیگر ذرائع سے انٹرکنیکشن کے لیے مطالعات جاری ہیں۔
دوسری جانب سی پی پی اے جی نے کمپنی کی مالی استعداد اور مستقبل میں بجلی کی خریداری کے طریقۂ کار پر تحفظات کا اظہار کیا، جس کے جواب میں ڈی ایچ اے انرجی سپلائی کمپنی نے یقین دہانی کرائی کہ وہ صرف بجلی کی تقسیم اور سپلائی تک محدود رہے گی۔
اگر مستقبل میں بجلی پیدا کرنے کی ضرورت پیش آئی تو اس مقصد کے لیے علیحدہ کمپنی قائم کی جائے گی، جبکہ پاور ایکوزیشن پروگرام کی منظوری کے بغیر کسی دوطرفہ بجلی خریداری معاہدے میں شامل نہیں ہوا جائے گا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
نیپرا نے کیا فیصلہ دیا؟
نیپرا نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگرچہ درخواست گزار کمپنی کا ادا شدہ سرمایہ اور موجودہ نیٹ ورتھ محدود ہے، تاہم اس کی سرپرست تنظیم ڈی ایچ اے کراچی مالی طور پر مستحکم ادارہ ہے، جس نے بجلی کے بنیادی انفراسٹرکچر پر اربوں روپے کی سرمایہ کاری بھی کی ہے۔
اتھارٹی نے گیپکو، سی پی پی اے جی، کے الیکٹرک اور دیگر فریقین کے اعتراضات اور کمپنی کے جوابات کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ درخواست گزار نے تمام متعلقہ نکات پر تسلی بخش وضاحتیں فراہم کی ہیں، اس لیے ڈی ایچ اے سٹی کراچی تک محدود سروس ایریا کے لیے 20 سالہ نان ایکسکلوسیو ڈسٹری بیوشن لائسنس جاری کیا جاتا ہے۔
اس فیصلے کے ساتھ ڈی ایچ اے سٹی کراچی پاکستان کا پہلا ڈی ایچ اے رہائشی منصوبہ بن گیا ہے، جسے اپنی حدود میں بجلی کی تقسیم کا باقاعدہ لائسنس حاصل ہوا ہے۔
تاہم کمپنی کو مستقبل میں بھی نیپرا کی مقررہ تمام ریگولیٹری شرائط، ٹیرف، پاور پروکیورمنٹ، اوپن ایکسیس اور صارفین کے حقوق سے متعلق قواعد کی پابندی کرنا ہوگی۔