پاکستان فوج نے اتوار کو ایک بیان میں بتایا خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں سکیورٹی فورسز کے قافلے اور عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں آٹھ عسکریت پسند مارے گئے جبکہ دو افسران سمیت چھ اہلکار جان سے گئے۔
فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے اپنے بیان میں بتایا کہ جان سے جانے والوں میں کیپٹن ابوذر فاروق اور لیفٹیننٹ شیراز بابر شامل ہیں۔
بیان کے مطابق کیپٹن ابوذر فاروق کی عمر 23 سال اور ان کا تعلق ضلع گوجرانوالہ سے تھا جبکہ 22 سالہ لیفٹیننٹ شیراز بابر ضلع چکوال کے رہائشی تھے۔
دونوں افسران کے بارے میں فوج نے کہا ’دونوں بہادر افسران اپنے دستوں کی قیادت آگے بڑھ کر کر رہے تھے، شدید فائرنگ کے دوران بہادری سے لڑے اور اپنے چار جوانوں کے ساتھ جامِ شہادت نوش کیا۔‘
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ علاقے میں کسی اور عسکریت پسند کی موجودگی کے پیش نظر کلیئرنس آپریشن جا رہی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ہنگو میں اتوار کی جھڑپ ایسے وقت ہوئی ہے جب رواں سال ملک میں عسکریت پسندی سے جڑا تشدد بلند سطح پر ہے۔
اس سے پہلے 30 جولائی کو ہنگو کی ایک پولیس چوکی پر حملے میں کم از کم 11 پولیس اہلکار جان سے گئے تھے۔
پولیس کے بیان کے مطابق حملہ آوروں نے پہلے دھماکہ خیز مواد سے لیس کواڈ کاپٹر استعمال کیے اور پھر چوکی پر گھات لگا کر حملہ کیا جب کہ آٹھ اگست کو آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ہنگو میں خفیہ اطلاعات پر کارروائی کے دوران سات عسکریت پسند مارے گئے۔
جب کہ رواں ماہ آئی ایس پی آر کے مطابق 15 سے 17 ستمبر کے دوران خیبر پختونخوا میں مختلف کارروائیوں میں 10 عسکریت پسند مارے گئے۔