افغانستان عسکریت پسندوں کی پناہ گاہیں اور تربیتی نیٹ ورک ختم کرے: پاکستان

پاکستان کی وزارت اطلاعات ونشریات نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں سمیت ان کی بھرتی اور معاونت کے بنیادی ڈھانچے کی موجودگی ملکی سکیورٹی کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔

18 ستمبر، 2026 کو کوہاٹ میں پولیس ہیڈکوارٹرز کے اندردھماکے کے بعد سکیورٹی اہلکار موقعے پر موجود ہے (اے ایف پی)

 پاکستان نے ہفتے کو افغانستان کی طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین پر عسکریت پسندوں کی پناہ گاہوں اور بھرتی و تربیت کے نیٹ ورکس کو ختم کرے اوراسلام آباد  خطرات کو ختم کرنے کا ’عزم اور صلاحیت‘ رکھتا ہے چاہے وہ کہیں بھی ہوں۔

وزارت اطلاعات نے ایکس پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ ’افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے ساتھ ساتھ ان کی بھرتی اور معاونت کے بنیادی ڈھانچے کی موجودگی پاکستان کی سکیورٹی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔

جمعے کی نماز کے دوران کوہاٹ کی اولڈ پولیس لائنز پر حملے میں 17 پولیس اہلکاروں سمیت 23 افراد جان سے چلے گئے۔ ہفتے کو سکیورٹی فورسز کا رات بھر جاری رہنے والا کلیئرنس آپریشن مکمل ہونے پر آٹھ عسکریت پسند مارے گئے۔

اسلام آباد طویل عرصے سے افغان طالبان پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کے ارکان کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا رہا ہے، جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے اندر حملوں کی منصوبہ بندی اور انہیں انجام دینے کے لیے افغان سرزمین استعمال کرتے ہیں۔ کابل ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

'یہ تحفظات افغان طالبان حکومت اور ان کے نمائندوں تک بار بار پہنچائے گئے ہیں۔ انہیں اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی کرنے کے بجائے ان نیٹ ورکس کو ختم کرنا چاہیے۔‘

پاکستانی وزارت اطلاعات ونشریات نے افغان طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ عسکریت پسند گروہوں کے خلاف ’قابل اعتبار، قابل تصدیق اور دیرپا اقدامات‘ کریں اور انہیں پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی، سہولت کاری یا انہیں انجام دینے سے روکیں۔

بیان میں کہا گیا کہ اسلام آباد نے کابل کے ساتھ ہمیشہ مذاکرات اور تعمیری روابط کو جاری رکھا ہے لیکن وہ ’مذاکرات کے بہانے‘ کو پاکستان کے لیے خطرہ بننے والوں کی ڈھال بننے کی اجازت نہیں دے گا۔

وزارت نے کہا: ’پاکستان کے پاس دہشت گردی کے خطرات کو ختم کرنے کا عزم اور صلاحیت دونوں موجود ہیں چاہے وہ کہیں بھی ہوں، اور وہ اپنے شہریوں، سرزمین اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق تمام ضروری اقدامات کرے گا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزارت اطلاعات کا یہ بھی کہنا تھا کہ طالبان حکومت 2020 کے دوحہ معاہدے کے تحت انسداد دہشت گردی کی اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی نہیں کر سکتی، جس کے تحت طالبان نے عہد کیا تھا کہ وہ افغان سرزمین کو کسی بھی ایسے گروہ یا فرد کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے جو دوسرے ممالک کی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہوں۔

افغانستان کی وزارت خارجہ نے ہفتے کو کوہاٹ حملے کی مذمت کی، اور عبادت گاہوں پر حملوں کو ناقابل جواز قرار دیتے ہوئے متاثرین کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

پاکستان کی وزارت اطلاعات نے اس مذمت کا اعتراف کیا لیکن اس بات کی نشاندہی کی کہ افغان بیان میں ’دہشت گردی‘ کا ذکر نہیں تھا۔

وزارت نے کہا کہ 'تاہم، مذمت کے ساتھ ٹھوس کارروائی بھی ہونی چاہیے۔‘

اس سے قبل پاکستان کے فوجی ترجمان نے کہا کہ اگر طالبان حکومت عسکریت پسندوں کو سرحد پار حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے سے روک دے تو افغانستان کے ساتھ تعلقات بحال کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر کابل نے اسلام آباد کے سکیورٹی خدشات دور نہ کیے تو پاکستان اپنے دفاع میں کارروائی کر سکتا ہے۔

پاکستان کے اقوام متحدہ میں مندوب عاصم افتخار احمد نے رواں ہفتے سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران کہا کہ گذشتہ تین برسوں میں افغانستان سے ہونے والے عسکریت پسندوں کے حملوں میں 4,700 سے زائد پاکستانی مارے جا چکے ہیں۔

انہوں نے کابل کو خبردار کیا کہ اسلام آباد اپنے دفاع میں کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعرات کو عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا تنازع افغانستان یا اس کے عوام کے ساتھ نہیں بلکہ کابل میں موجود طالبان حکام کے ساتھ ہے۔

انہوں نے افغانستان کی حکومت کو ’غیر شمولیتی اور غیر نمائندہ حکومت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا طالبان حکومت سے صرف ایک مطالبہ ہے۔

انہوں نے کہا ’اور دنیا انہیں جانتی ہے۔ وہ انہیں جانتے ہیں۔ اور وہ یہ کہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کی سرپرستی نہ کریں۔ یہ ایک بہت سادہ، بہت معقول اور بالکل واضح مطالبہ ہے۔ ایک جملہ جو سب کچھ ٹھیک کر سکتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان