حوثیوں کا ریاض پر بیلسٹک میزائل حملہ ناکام بنا دیا: سعودی عرب

اے ایف پی کے مطابق ریاض کے بعض رہائشیوں نے ایک دھماکے کی آواز سنی جبکہ بعد میں کچھ لوگوں نے ہوائی اڈے کے قریب دھوئیں کا بادل اٹھتے دیکھا البتہ کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

یو جی سی (صارف کی جانب سے فراہم کردہ) ویڈیو سے لی گئی اس تصاویر میں جو 19 ستمبر 2026 کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی، ریاض کے ہوائی اڈے کے قریب دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے (اے ایف پی)

سعودی عرب نے ہفتے کو تصدیق کی کہ یمن کے حوثی باغیوں نے ایک بیلسٹک میزائل کے ذریعے اس کے دارالحکومت ریاض کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔

ایران کی حمایت یافتہ ان باغیوں کے ساتھ لڑائی میں شدت آنے کے بعد ریاض کو نشانہ بنانے کا یہ پہلا واقعہ ہے، جس نے ایران جنگ میں ایک نیا محاذ کھول دیا ہے۔

عرب نیوز نے فوجی ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے حوالے سے ہفتے کو بتایا کہ سعودی عرب کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد نے یمن کے حوثی گروہ کی جانب سے ریاض کی طرف داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا۔

المالکی نے کہا کہ میزائل کو قوانینِ جنگ کے مطابق روکا گیا اور فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں کوئی نقصان نہیں ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اتحادی افواج صورت حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور شہریوں اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کر رہی ہیں، جبکہ مملکت کی سکیورٹی کو لاحق خطرات کا مقابلہ بھی کیا جا رہا ہے۔

المالکی کے مطابق آٹھ ملین سے زائد آبادی والے شہر ریاض میں شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی حوثیوں کی مسلسل کوششیں اس ملیشیا کی ہٹ دھرمی اور شہری علاقوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی عکاسی کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فضائی دفاعی نظام نے بیش، طائف، فرسان اور ینبع میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی حوثیوں کی کوششیں بھی ناکام بنا دیں۔

المالکی نے مزید کہا کہ اتحادی قیادت کو بین الاقوامی انسانی قانون اور رائج بین الاقوامی اصولوں کے مطابق حوثیوں کے مزید حملوں کی روک تھام کے لیے وہ تمام اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے جنہیں وہ مناسب سمجھے۔

اے ایف پی کے مطابق ریاض کے بعض رہائشیوں نے ایک دھماکے کی آواز سنی جبکہ بعد میں کچھ لوگوں نے ہوائی اڈے کے قریب دھوئیں کا بادل اٹھتے دیکھا البتہ کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحلی شہر ینبع، جہاں سعودی عرب کی ایک اہم پائپ لائن ختم ہوتی ہے، اور طائف، بیش اور فرسان میں شہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم یہ حملے بھی ناکام بنا دیے گئے۔ مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

اس سے قبل حوثیوں نے بغیر کسی ثبوت کے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ریاض میں ’حساس مقامات‘ اور ینبع میں سعودی تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس سے ’بڑی آگیں‘ بھڑک اٹھیں۔ دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو نے ردعمل کے لیے رابطے کا جواب نہیں دیا۔

ترکی کی سعودی عرب کو مدد کی پیشکش

ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اشارہ دیا ہے کہ حال ہی میں دستخط کیے گئے دفاعی معاہدے کے تحت ترکی سعودی عرب کو فوجی مدد فراہم کر سکتا ہے۔

ٹی وی انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب پر مشتمل تین ملکی اتحاد حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی کر سکتا ہے یا نہیں، تو فیدان نے کہا کہ ترکی کسی بھی فوجی ضرورت کو پورا کرنے میں ’کسی مشکل کا سامنا نہیں کرے گا۔‘

انہوں نے نشریاتی ادارے این ٹی وی سے گفتگو میں کہا: ’ہم سعودی عرب کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری پر انتہائی سنگین حملے دیکھ رہے ہیں۔ ہمارے درمیان اتحاد کا معاہدہ موجود ہے اور ہم اپنے وعدے پر قائم ہیں۔‘

ایران نے امریکہ کو شرائط بھیج دیں

دریں اثنا، ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ نے کہا کہ تہران نے قطر کے ذریعے، جو ایک اہم ثالث ہے، جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی شرائط واشنگٹن کو بھیج دی ہیں۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے الجزیرہ کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ایران نے قطر کے ذریعے جنگ کے خاتمے سے متعلق اپنی شرائط امریکہ کو پہنچا دی ہیں اور اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جواب کا انتظار ہے۔

یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ شرائط کب بھیجی گئیں۔ رضائی کے مطابق ان شرائط میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، ایران کے ضبط شدہ اثاثوں کی واپسی اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے۔

قبل ازیں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ناکام ہو چکے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران چاہتا ہے کہ یمن اور سعودی عرب کے درمیان جاری لڑائی بھی ختم ہو۔

امریکہ کی سفری انتباہ کی تجدید

امریکی محکمہ خارجہ نے ہفتے کو مشرق وسطیٰ میں موجود یا سفر کرنے والے امریکی شہریوں کے لیے عمومی سفری انتباہ کی تجدید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایران کے ساتھ تنازع ’تیزی سے شدت اختیار کر سکتا ہے۔‘

ادھر خطے میں کم از کم 11 امریکی سفارت خانوں نے بھی خبردار کیا کہ سفری نظام میں خلل پڑ سکتا ہے۔

ایران میں شخص کو پھانسی

ایران کے سرکاری ٹی وی نے بتایا کہ حسین پدرام نامی شخص کو اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے جاسوسی کے الزام میں سزا یافتہ قرار دیے جانے کے بعد پھانسی دے دی گئی۔

رپورٹ کے مطابق پدرام نے ایران کے صوبہ اصفہان میں واقع ’حساس فوجی مقامات‘ سے متعلق خفیہ معلومات فراہم کیں۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ اس نے یہ معلومات کیسے حاصل کیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اطلاعات کے مطابق اسے ان مقامات کو امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران نشانہ بنائے جانے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ ان مقامات میں میزائل اڈے بھی شامل تھے۔

ایران میں حالیہ برسوں میں پھانسیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید احتجاج کیا ہے۔

امریکی فوج: آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل جاری

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ نے کہا کہ گذشتہ دو ماہ کے دوران فوج نے آبنائے ہرمز سے ایک ارب بیرل تیل کی ترسیل میں معاونت فراہم کی ہے اور دعویٰ کیا کہ امریکی ناکہ بندی کے باعث ایران نے ’ایک بیرل بھی برآمد نہیں کیا‘۔

ایڈمرل بریڈ کوپر کے مطابق آبنائے ہرمز کی مرکزی گزرگاہوں سے بارودی سرنگیں ہٹا دی گئی ہیں، اور گذشتہ دو ہفتوں کے دوران تیل، قدرتی گیس اور سامان کی ترسیل کا حجم گذشتہ چھ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

تاہم نگرانی کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ جہاز رانی کا حجم اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے کافی کم ہے۔ ایران بدستور بحری جہازوں پر حملے کر رہا ہے اور اس آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول جتانے کی کوشش کر رہا ہے، جہاں سے جنگ سے قبل دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر تجارتی تیل اور قدرتی گیس گزرتی تھی۔

غزہ میں اسرائیلی حملے

غزہ کی وزارت صحت اور شفا ہسپتال کے حکام کے مطابق غزہ شہر اور قریبی جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی حملوں میں تین افراد جان کھو بیٹھے۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے ’فوجی آپریٹوز‘ کو نشانہ بنایا۔

گذشتہ اکتوبر میں جنگ بندی کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان شدید لڑائی میں کافی کمی آئی ہے، تاہم غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اس کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں 13,780 سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے یہ بھی کہا کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ سے منسلک اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جب دو اسرائیلی فوجی ایسے دھماکہ خیز مواد سے زخمی ہوئے جس پر ان کی گاڑی چڑھ گئی تھی۔

لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی نے اطلاع دی کہ جنوبی قصبے نباتیہ الفوقہ پر تین اسرائیلی فضائی حملے کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق تیسرے حملے میں امدادی کارکن بال بال بچ گئے، تاہم کوئی زخمی نہیں ہوا۔

خواتین کو بغیر دوپٹے دوڑنے کی اجازت پر مقدمہ

ایران کے سرکاری ٹی وی نے بتایا کہ تہران پراسیکیوٹر کے دفتر نے ایک دوڑ کے منتظمین کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے کیونکہ کچھ خواتین نے اپنے بال نہ ڈھانپتے ہوئے ریس میں حصہ لیا، جس سے ’قانونی اور اسلامی شریعت‘ کی پابندی نہیں کی گئی۔

ایران کا مذہبی نظام خواتین کے لیے سر ڈھانپنے اور ڈھیلے لباس پہننے کو لازمی قرار دیتا ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں خواتین کو 10 کلومیٹر کی دوڑ بغیر سکارف کے مکمل کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

تہران کے محکمہ کھیل کے سربراہ حبیب ستودہ نژاد کے مطابق تقریباً پانچ فیصد شرکا نے ریس کے قواعد کی خلاف ورزی کی۔ مردوں اور خواتین کی دوڑ الگ الگ منعقد کی گئی تھی۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا