کوہاٹ: پولیس لائن میں دھماکہ، پانچ اہلکاروں سمیت 16 اموات

وزیراعظم کی امدادی کارروائیاں تیز کرنے اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔

18 ستمبر 2026 کو کوہاٹ کے پولیس لائن میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے دھماکے کے بعد جائے وقوعہ پر افراتفری کے مناظر (سکرین گریب/ حسن بنگش)

صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع کوہاٹ میں پولیس لائن میں  نماز جمعہ کے وقت دھماکے میں حکام کے مطابق کم از کم 16 افراد جان سے گئے۔

کوہاٹ پولیس کے مطابق دھماکے کے بعد ایک خود کش حملہ آور نےسپیشل برانچ بلڈنگ کے قریب خود کو دھماکے سے اڑایا۔ ’موصولہ اطلاعات کے مطابق دھماکے میں 5 پولیس اہلکار اور 11 سویلین جان سے گئے۔‘

پولیس کے مطابق ایک ’دہشت گرد‘ سنائپر مقابلے میں مارا گیا اور ’فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔‘

صوبائی ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال احمد فیضی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کم از کم 30 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

دھماکے کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز کے مطابق فائرنگ کی آواز بھی سنی گئی اور پولیس کی اضافی نفری علاقے میں پہنچ گئی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کوہاٹ کے پرانا پولیس لائن میں ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔

انہوں نے زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے اور متعلقہ حکام سے دھماکے کی نوعیت اور وجوہات کے بارے میں رپورٹ طلب کرلی۔

وزیراعظم کی امدادی کارروائیاں تیز کرنے اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)


افغانستان سے متصل صوبے خیبرپختونخوا میں حالیہ دنوں میں عسکریت پسندی میں اضافہ ہوا ہے، جہاں عسکریت پسند گروہوں نے سکیورٹی فورسز، پولیس اور شہریوں کو مسلسل نشانہ بنایا ہے، جن میں متعدد اموات ہوئی ہیں۔

صوبے میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں بھی جاری ہیں۔

وفاقی حکومت نے حال ہی میں خیبر پختونخوا کے چھ ریجنز کے 26 اضلاع کو عسکریت پسندی کے حوالے سے ’ہارڈ ایریا‘ قرار دیا تھا، جس میں کوہاٹ بھی شامل ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان