کوئٹہ: 6 سالہ بچے کے قتل کا معمہ حل، ’فریج سے بوتل نکالنے پر چچی نے گلا دبایا‘

سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ کے ہاتھوں گرفتار ملزمہ نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ بچے نے ان کی اجازت کے بغیر فریج سے پانی کی بوتل نکالی تھی، جس پر انہوں نے غصے میں آکر اس کا گلا دبا دیا۔

31 جنوری 2023 کو پشاور میں ایمبولینس کے لیے راستہ بنایا جا رہا ہے (اے ایف پی)

کوئٹہ پولیس نے بتایا ہے کہ گذشتہ ماہ ایک چھ سالہ بچے علی شاہ کے قتل میں ان کی چچی ملوث تھی، جنہوں نے فریج سے پانی کی بوتل نکالنے پر غصے میں آ کر یہ قدم اٹھایا۔

سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ کے ہاتھوں گرفتار ملزمہ نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ بچے نے ان کی اجازت کے بغیر فریج سے پانی کی بوتل نکالی تھی، جس پر انہوں نے غصے میں آکر اس کا گلا دبا دیا۔

سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ تھانے کے انچارج اسد خان مندوخیل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ 20 اگست کو دوپہر 12 بجے کوئٹہ کے علاقے ساسولی گلی، سبزل روڈ سے مدرسے کا چھ سالہ طالب علم علی شاہ لاپتہ ہوگیا تھا۔

بچے کے والد حفیظ اللہ پولیس ملازم ہیں۔ انہوں نے بیٹے کی گمشدگی کی اطلاع پولیس کو دی، جس کے بعد بچے کی تلاش شروع کر دی گئی۔

گمشدگی کی خبر سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور مختلف افواہیں گردش کرنے لگیں۔ بعض لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ بچے کے والد کے پولیس ملازم ہونے کی وجہ سے کسی کالعدم تنظیم نے اسے اغوا کیا ہوگا۔

گمشدگی کے دو روز بعد 22 اگست کی صبح تقریباً پانچ بجے ایک نامعلوم شخص اس کی بوری بند لاش گھر کے سامنے پھینک گیا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس موقعے پر پہنچی اور لاش کو تحویل میں لے کر ہسپتال منتقل کر دیا۔ پولیس کے مطابق بچے کی لاش خراب حالت میں تھی۔

کیس کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اعلیٰ حکام نے اس کی تفتیش سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی۔

اسد خان مندوخیل کے مطابق بچے کی لاش گھر کے قریب ملنے پر پولیس کو شبہ ہوا کہ واقعے میں خاندان کا کوئی قریبی فرد ملوث ہوسکتا ہے۔ پولیس نے 25 سے زیادہ افراد سے پوچھ گچھ کی، تاہم ابتدا میں کوئی اہم سراغ نہ مل سکا۔

انہوں نے بتایا کہ مقتول کے تین چچا ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔ پولیس نے فاتحہ خوانی کے دوران اپنے ذرائع کی مدد سے گھر کی خواتین کی سرگرمیوں پر نظر رکھی۔ اس دوران بچے کی دو چچیوں کی حرکات مشکوک محسوس ہوئیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پولیس نے گھر کی خواتین سے پوچھ گچھ کے لیے اعلیٰ حکام سے اجازت طلب کی۔ اجازت ملنے کے بعد پولیس کی ٹیکنیکل ٹیم نے بچے کی دونوں چچیوں سے تفتیش شروع کی۔ پولیس کے مطابق ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران ہی ایک خاتون نے قتل کا اعتراف کر لیا۔

پولیس کے مطابق ملزمہ نے دوران تفتیش بتایا کہ واقعے کے روز بچہ ان کے کمرے میں آیا اور اجازت کے بغیر فریج سے پانی کی بوتل نکال لی۔ اس پر انہیں شدید غصہ آیا اور انہوں نے بچے کا گلا دبا دیا، جس سے اس کی موت ہوگئی۔

ملزمہ کے مبینہ اعتراف کے مطابق انہوں نے خوف کے باعث لاش بوری میں ڈال کر پانی کی ٹینکی میں چھپا دی۔ 

خاتون کے مطابق دو روز بعد پانی کا ذائقہ خراب ہونے اور ٹنکی سے بدبو آنے پر انہوں نے علی الصبح گھر کے مردوں کے نماز کے لیے مسجد جانے کے بعد لاش ٹینکی سے نکال کر گھر کے سامنے پھینک دی۔

اسد خان مندوخیل کے مطابق یہ اندھا قتل تھا، تاہم پولیس نے تفتیش کے دوران ملزمہ کا سراغ لگا لیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ایک مشترکہ گھرانہ ہے جہاں خواتین کے درمیان جھگڑے، حسد اور رنجشیں بھی موجود ہیں۔

پولیس کے مطابق واقعے کی وجہ صرف فریج سے پانی کی بوتل نکالنا نہیں تھی بلکہ اس کے پس منظر میں خاندانی جھگڑے اور باہمی رنجشیں بھی کارفرما تھیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان