’انڈین اور احمدی لابی کا ہاتھ‘: ایوارڈ واپس لیے جانے پر طاہر اشرفی کا ردعمل

پاکستان علما کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمد اشرفی نے انگلینڈ میں دیا گیا ایک ایوارڈ واپس لیے جانے کے فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ان کے بیانات کو ’سیاق و سباق‘ سے ہٹ کر پیش کیا گیا اور اس کے پیچھے ’انڈین اور احمدی لابی‘ کا ہاتھ ہے۔

حافظ محمد طاہر محمود اشرفی اور ان کی اہلیہ کو کینٹربری کی آرچ بشپ ڈیم سارہ مولالی کی جانب سے مفاہمت اور بین المذاہب تعاون کے لیے 11 ستمبر 2026 کو ہیوبرٹ والٹر ایوارڈ پیش کیا جا رہا ہے (نیل ٹرنر/لیمبیتھ پیلس)

پاکستان علما کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمد اشرفی نے انگلینڈ میں دیا گیا ایک ایوارڈ واپس لیے جانے کے فیصلے پر جمعے کو اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ان کے بیانات کو ’سیاق و سباق‘ سے ہٹ کر پیش کیا گیا اور اس کے پیچھے ’انڈین اور احمدی لابی‘ کا ہاتھ ہے۔

حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کو جمعے کو نائن الیون حملوں کی 25ویں برسی کے موقعے پر لیمبیتھ پیلس میں بین المذاہب مفاہمت اور تعاون کے لیے یہ اعزاز ڈیم سارہ مولالی نے پیش کیا تھا۔ اس حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ طاہر اشرفی کو ’پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی کے سفیر کے طور پر ان کی نمایاں خدمات‘ کے اعتراف میں اعزاز دیا جا رہا ہے۔

تاہم بعدازاں کینٹربری کے آرچ بشپ کے دفتر نے طاہر اشرفی کو دیا جانے والا اعزاز ماضی میں القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کے حوالے سے ان کے ایک مبینہ بیان کے باعث واپس لے لیا۔

حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ آرچ بشپ آف کینٹربری نے تین ماہ قبل ان سے رابطہ کیا تھا اور انہیں اس ایوارڈ کے بارے میں آگاہ کیا تھا اور تفصیلات مانگی تھیں۔ پھر 11 ستمبر کو لندن میں ایک تقریب میں انہیں یہ ایوارڈ دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ تین روز قبل آرچ بشپ کے دفتر نے ان سے تین باتوں پر وضاحت طلب کی تھی، جن میں توہین مذہب کے قانون، سلمان رشدی کے خلاف بیان، اسامہ بن لادن اور ان کی اہلیہ کے حجاب پر اعتراض شامل تھا۔

بقول طاہر اشرفی: ’میں نے واضح کیا کہ میں توہین مذہب کے قانون کے موجود رہنے کے حق میں ہوں لیکن اس کے غلط استعمال کے خلاف ہوں۔ اسامہ کی بابت میں نے وضاحت کی کہ میں مذہب کے دہشت گردی کے لیے استعمال کے خلاف ہوں اور سیف اللہ کی اس وقت ایک مثال دی تھی، تاہم سلمان رشدی کے بارے میں، میں نے کہا کہ وہ بیان میں واپس نہیں لے سکتا۔ میرے نظریات پر بات ہوئی، میں ان سے ہٹ نہیں سکتا۔‘

2007 میں پاکستان علما کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ 11 ستمبر کے دہشت گرد حملوں کے ماسٹر مائنڈ اسامہ بن لادن کو ’سیف اللہ‘ یعنی ’اللہ کی تلوار‘ کا لقب دیں گے، کیونکہ ان کے بقول بن لادن نے ’کافروں کے خلاف جہاد کر کے مسلمانوں کی خدمت‘ کی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیمبیتھ پیلس نے کہا: ’امام اشرفی کے ماضی میں دیے گئے ایسے بیانات سامنے آئے ہیں جن کی وجہ سے لیمبیتھ پیلس کو اس اعزاز پر دوبارہ غور کرنا پڑا ہے اور اب ہم تصدیق کر سکتے ہیں کہ یہ اعزاز واپس لے لیا گیا ہے۔‘

تاہم طاہر اشرفی نے کہا کہ ان کے سابقہ بیانات کو ’مناسب سیاق و سباق کے بغیر‘ رپورٹ کیا جا رہا ہے۔

2007 میں اسامہ بن لادن سے متعلق ان کے بیانات پاکستان میں ان مظاہروں کے دوران سامنے آئے تھے، جن میں برطانیہ کی جانب سے ناول ’شیطانی آیات‘ (The Satanic Verses) کے مصنف سلمان رشدی کو نائٹ ہڈ دینے کے فیصلے کی مخالفت کی جا رہی تھی۔

طاہر اشرفی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس وقت وہ صرف ’ایک مثال دے رہے تھے‘ تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ سلمان رشدی کو اعزاز دینے سے مسلمانوں کو پہنچنے والی تکلیف کس قدر شدید تھی۔ انہوں نے زور دیا کہ اسامہ بن لادن کو یہ لقب کبھی باضابطہ طور پر نہیں دیا گیا۔

بقول طاہر اشرفی: ’میں سلمان رشدی کو بھی دہشت گرد سمجھتا ہوں، جس نے مسلمانوں کے جذبات کی توہین کی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انہیں یہ ایوارڈ ملنے کے بعد انڈین اور احمدی لابی سرگرم ہو گئی تھی اور ان کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا گیا۔

لیمبیتھ پیلس نے بتایا تھا کہ طاہر اشرفی کو اعزاز اصل میں ’پاکستان میں مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسیحی برادری کے لیے امام اشرفی کی طویل عرصے سے جاری حمایت کے اعتراف میں دیا گیا تھا، جسے پاکستان میں بہت سے مسیحی افراد، جن میں اس کا اینگلیکن چرچ بھی شامل ہے، قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔‘

تاہم ان کے سابقہ بیانات کے سامنے آنے کے بعد پیلس نے طاہر اشرفی سے رابطہ کر کے انہیں آگاہ کیا کہ ان کا اعزاز واپس لے لیا گیا ہے۔

اس حوالے سے طاہر اشرفی نے کہا: ’مجھے ایوارڈ واپس لینے سے فرق نہیں پڑتا، میرے لیے سب سے بڑا ایوارڈ او آئی سی کا تھا، جس کا میں نے کبھی چرچا نہیں کیا۔‘

طاہر اشرفی نے اعزاز دیے جانے کے موقعے پر لی گئی تصویر میں اپنی اہلیہ اور بیٹی کے حجاب پر منتظمین کی جانب سے ہونے والی تنقید پر بھی ردعمل دیا اور کہا کہ یہ ان کا ذاتی فیصلہ تھا۔ ’یہ ہمارا مذہی فرض تھا۔‘

وہ گذشتہ ہفتے لیمبیتھ ایوارڈ حاصل کرنے والے 27 افراد میں شامل تھے، جو ’چرچ آف انگلینڈ، اینگلیکن کمیونین اور وسیع تر معاشرے کے لیے غیر معمولی خدمات‘ انجام دینے والے افراد کو دیے گئے۔

یہ پہلا موقع تھا جب ڈیم سارہ نے رواں سال کے آغاز میں اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد لیمبیتھ ایوارڈز کی میزبانی کی۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان