ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) پولیس کوئٹہ شوکت عمران نے کہا ہے کہ لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب پھینکے جانے کے واقعے کے بعد پولیس نے ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں ایک ہزار اہلکاروں کو تعینات کیا، جس کی وجہ سے ملزم کی نہ صرف بروقت نشاندہی ہوئی بلکہ مزاحمت پر وہ جوابی فائرنگ میں مارا بھی گیا۔
انہوں نے اس بات کی بھی تردید کی کہ ڈاکٹر ماہ نور اور ملزم ہمایوں شاہ کے درمیان شادی کا معاملہ چل رہا تھا۔
انڈپینڈنٹ اردو کو دیے گئے انٹرویو میں ڈی آئی جی نے بتایا کہ لیڈی ڈاکٹر کے خاندان نے بھی اس قسم کی افواہوں کو مسترد کیا اور پولیس کو بھی دوران تفتیش اس قسم کے شواہد نہیں ملے۔
چھ جون کو کوئٹہ کے سینڈیمن سول ہسپتال کے سرجیکل وارڈ میں ایک لفٹ آپریٹر نے مبینہ طور پر ڈاکٹر ماہ نور پرتیزاب پھینکا تھا، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گئی تھیں۔ واقعے کے بعد انہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد کراچی منتقل کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق تیزاب گردی میں ملوث ملزم ہمایوں شاہ واقعے کے بعد فرار ہو گیا تاہم سرچ آپریشن کے دوران انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس دوران ملزم نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کرتہ ہوئے فائرنگ کی، جس کے بعد جوابی کاروائی میں وہ مارا گیا۔
ڈی آئی جی کوئٹہ نے انٹرویو کے دوران بتایا کہ واقعے کے بعد ملزم جائے وقوع سے فرار ہوگیا تھا۔ ’میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شریک تھا، اطلاع ملتے ہی فوری طور پر سول ہسپتال پہنچا اور تمام ایس پیز اور دیگر افسران کو بلایا۔‘
بقول ڈی آئی جی: ’ملزم ایک ٹھیکیدار کے ماتحت کئی ماہ سے لفٹ آپریٹر کے طور پر کام کر رہا تھا۔ ٹھیکیدار سے ان کی شناختی کارڈ کی کاپی اور تصاویر حاصل کیں اور تصاویر اور شناختی کارڈ کو پولیس سسٹم میں ڈالا گیا۔ تمام چیک پوسٹوں پر ملزم کی تصاویر پہنچائیں تاکہ وہ شہر سے باہر نہ جا سکے۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’میں فخریہ کہتا ہو کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے ہزار کے قریب اہلکاروں کو تعینات کیا گیا۔‘
شوکت عمران کے مطابق: ’ایک بس اڈے پر ملزم کی شناخت ہوئی۔ پولیس نے انہیں زندہ گرفتار کرنے کی کوشش کی، لیکن ان کے پاس پستول تھا جس میں چھ گولیاں تھیں، پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے فائرنگ کردی اور پولیس کی جوابی فائرنگ سے ملزم جان سے گیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
شوکت عمران نے اس بات کو سختی سے مسترد کیا کہ پولیس نے ملزم کی گرفتاری کی کوشش نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا: ’ہمارا محکمہ اور میں بحثیت ڈی آئی جی ماورائے عدالت قتل کے سخت خلاف ہیں۔ کسی کو اس طرح غیر قانونی کام کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’اگر تھوڑی بہت زندہ پکڑنے کی گنجائش ہوتی تو ہم ملزم کو زندہ پکڑ لیتے۔‘
انہوں نے بتایا کہ اب تک کی تفتیش کے مطابق اس واقعے میں کوئی دوسرا شخص ملوث نہیں۔ ’ملزم کی طرف سے یک طرفہ کوشش ہے۔ ملزم کا موبائل فون آئی بی کے حوالے کیا گیا، جس میں ڈیلیٹ شدہ میسجز کو بھی چیک کیا جا رہا ہے، یہ ایک لمبا عمل ہے، جس میں ابھی وقت لگے گا اور جیسے ہی مزید شواہد سامنے آئیں گے، میڈیا سے شیئر کر دیں گے۔‘
ڈی آئی جی کے مطابق ڈاکٹر ماہ نور چونکہ واقعے کی براہ راست متاثر ہیں اور ایک تکلیف دہ عمل سے گزر رہی ہیں، لہذا ان سے کوئی بات یا تفتیش نہیں کی گئی، البتہ وہ خاندان والوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ کچھ افواہیں تھی جن کی تصدیق کے لیے رابطہ کیا گیا، لیکن انہوں نے اس کی تردید کی۔‘
شوکت عمران کا کہنا تھا کہ ’ہمارا کام ملزم کو گرفتار کر کے عدالت سے سزا دلوا کر کیفر کردار تک پہنچانا تھا، تاہم حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ہم نے اپنا کام مکمل کیا۔‘
کوئٹہ کی وحدت کالونی میں چھ افراد کے قتل کے بعد ملزم کی خودکشی کے واقعے کی تفتیش کے حوالے سے ڈی آئی جی نے بتایا کہ ’واقعے کے فوری بعد پولیس متاثرہ مقام پر پہنچی تو گھر کا دروازہ بند تھا۔ خودکشی کرنے والے شخص کے بھائی کی موجودگی میں دروازہ توڑا گیا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’خودکشی کرنے والے محمد آصف کی آخری ویڈیو میں جن تین سرکاری افسران کے نام لیے گئے تھے، پولیس نے آدھے گھنٹے میں ان تینوں افراد کو حراست میں لے لیا اور مرنے والے کے بھائی کی مدعیت میں شام تک ایف آئی آر بھی درج کی گئی۔‘
بقول ڈی آئی جی: ’اس وقت تینوں افراد پولیس کی حراست میں ہیں اور تفتیش کا عمل جاری ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ متاثرہ شخص اور ان کی بیوی کا موبائل فون بھی قبضے میں لیا گیا، جن کی فرانزک کروائی ہے۔ ’اس واقعے کا ہر زاویے سے جائزہ لے رہے ہیں۔ پولیس نے بہت سارے اہم ڈیجیٹل ثبوت حاصل کیے۔ گرفتار سرکاری افسران کے موبائل سے فرانزک کے ذریعے کچھ شواہد ملے ہیں۔ کچھ میسیجز ڈیلیٹ ہوئے ہیں، ان کو بھی ریکور کرہے ہیں۔‘
ڈی آئی جی شوکت عمران کے مطابق: ’واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے ایک سپیشل ٹیم بنائی گئی ہے، جس میں مختلف اداروں کے افسران موجود ہیں اور بہت جلد حقائق سامنے لائیں گے۔‘