تیزاب سے زیادہ خطرناک خاموشی

ڈاکٹر ماہ نور پر پھینکا جانے والا تیزاب صرف ایک ڈاکٹر کے چہرے کو مسخ کرنے کی کوشش نہیں تھی۔ یہ ہمارے سماجی رویوں، ادارہ جاتی کمزوریوں اور اس خاموشی پر بھی حملہ تھا جسے ہم اکثر برداشت، مصلحت یا عزت کے نام پر قبول کر لیتے ہیں۔

6 جون 2026 کو کوئٹہ کے ہسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے لیے گئے اس سکرین گریب میں تیزاب کے حملے کا نشانہ بنانے والی ڈاکٹر ماہ نور کو ایک نوجوان بچاتے ہوئے (کوئٹہ پولیس)

کوئٹہ کے ایک ہسپتال کی راہداریوں میں 6 جون کی دوپہر جو کچھ ہوا، وہ صرف ایک مجرمانہ واردات نہیں تھی بلکہ ہمارے رویوں کا امتحان بھی ہے۔

جنرل سرجری کی پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹر ماہ نور ناصر، جو دوسروں کے زخم بھرنے کی تربیت حاصل کر رہی تھیں، خود ایک ایسے حملے کا نشانہ بن گئیں، جس کا مقصد ان کے چہرے کے ساتھ ان کے حوصلے اور مستقبل کو بھی جھلسا دینا تھا۔

خوش قسمتی سے ڈاکٹر ماہ نور کی بینائی محفوظ رہی۔ اس وقت وہ کراچی کے آغا خان ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور معالجین کے مطابق ان کی طبیعت سنبھل رہی ہے۔

ڈاکٹر پرامید ہیں کہ جسمانی زخم وقت کے ساتھ بھر جائیں گے۔ مگر سوال یہ ہے کہ خوف، بے بسی اور اذیت کے جو نشانات دل و دماغ پر ثبت ہو جاتے ہیں، ان کے لیے کون سا وارڈ مخصوص ہے اور کون سا معالج دستیاب ہے؟

اس واقعے کی تحقیقات نے ایک اور تلخ حقیقت سامنے رکھی۔ وائٹل نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان کے وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ نے بتایا کہ ہسپتال کا ایک لفٹ آپریٹر کئی ماہ سے ڈاکٹر ماہ نور کو ہراساں کر رہا تھا اور اس حوالے سے شواہد بھی موجود ہیں۔

لیکن حیرت انگیز بات یہ نہیں کہ ایک شخص مسلسل ہراسانی کرتا رہا، حیرت اس بات پر ہے کہ ایک تعلیم یافتہ، بااعتماد اور پیشہ ور خاتون بھی اس بارے میں کھل کر شکایت نہ کر سکیں۔ اس کی وجہ خود وزیر نے بھی بیان کی کہ غالباً انہیں گھر والوں کے ردعمل کا خدشہ تھا۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

یہاں اصل ملزم صرف وہ شخص نہیں جو تیزاب لے کر آیا تھا۔ اصل ملزم وہ سماجی ماحول بھی ہے جس میں لڑکیوں کو اکثر یہ خوف رہتا ہے کہ شکایت کے بعد مجرم کے بجائے ان کی اپنی آزادی کٹہرے میں کھڑی ہو جائے گی۔ ہمارے ہاں اکثر بیٹیوں کو تحفظ دینے کے نام پر ان کی نقل و حرکت محدود کر دی جاتی ہے، جبکہ اصل خطرہ آزاد گھومتا رہتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بہت سی لڑکیاں ہراسانی برداشت کرتی رہتی ہیں، خاموش رہتی ہیں، نظر انداز کرتی ہیں اور امید باندھتی ہیں کہ شاید معاملہ خود ہی ختم ہو جائے گا۔ لیکن اکثر ایسے معاملات خود ختم نہیں ہوتے بلکہ ایک دن اخبار کی سرخی اور سوشل میڈیا کی وائرل پوسٹیں اور ٹی وی کی ہیڈلائنز بن جاتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنا ’کام‘ کردیا۔ ایک مجرم اپنے انجام کو پہنچا۔ مگر کیا کہانی یہاں ختم ہو گئی؟ کیا اس کے ساتھ وہ خوف بھی دفن ہو گیا جو ہر روز ہزاروں خواتین اپنے دل میں لیے گھر سے نکلتی ہیں؟ بدقسمتی سے ایسا نہیں ہے۔

ڈاکٹر ماہ نور کا واقعہ کسی ایک ہسپتال یا ایک شہر کا مسئلہ نہیں۔ یہ اس سوچ کا نتیجہ ہے جس میں تعاقب کو محبت، ضد کو وابستگی اور ہراسانی کو معمولی بات سمجھ لیا جاتا ہے۔ جب ابتدائی شکایتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا تو انجام اکثر سنگین ہی نکلتا ہے۔

سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ اگر ایک ڈاکٹر، جو معاشرے کے نسبتاً بااختیار طبقے سے تعلق رکھتی ہیں، ہراسانی کے خلاف آواز اٹھانے میں خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں تو فیکٹریوں، دفاتر، کھیتوں اور گھروں میں کام کرنے والی وہ خواتین کس کیفیت سے گزرتی ہوں گی جن کے پاس نہ وسائل ہیں، نہ سماجی حمایت اور نہ ہی مؤثر فورمز تک رسائی۔

ہمارے شہروں کے بازاروں، شاپنگ مالز، تعلیمی اداروں اور دفاتر میں نہ جانے کتنی لڑکیاں روزانہ ہراسانی، تعاقب اور نازیبا رویوں کا سامنا کرتی ہوں گی۔ ان میں سے کتنی ایسی ہوں گی جو گھر جا کر والدین کو سب کچھ بتانے کے بجائے خاموشی اوڑھ لیتی ہیں، آنسو تنہائی میں بہاتی ہیں اور ایک ایسا ذہنی بوجھ اٹھائے زندگی گزارتی ہیں، جس کے نشانات دوسروں کو نظر نہیں آتے مگر وہ خود عمر بھر انہیں محسوس کرتی رہتی ہیں۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

اس واقعے کے بعد شاید ہمیں اپنی بیٹیوں کو نصیحتیں دینے سے زیادہ اپنے رویوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی لڑکی کسی مسئلے، تعاقب، بلیک میلنگ یا ہراسانی کی شکایت کرتی ہے تو سب سے پہلے اس کی بات سنی جانی چاہیے، نہ کہ اس کی زندگی پر مزید پابندیاں عائد کی جائیں۔

معاشرے کی طاقت اس بات میں نہیں کہ وہ ایسے واقعات کے بعد خواتین کو گھروں میں بند رہنے یا خاموشی کی جانب دھکیل دے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ انہیں اعتماد دے کہ اگر ان کے ساتھ کچھ غلط ہوگا تو خاندان، ادارے اور قانون ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

ڈاکٹر ماہ نور پر پھینکا جانے والا تیزاب صرف ایک ڈاکٹر کے چہرے کو مسخ کرنے کی کوشش نہیں تھی۔ یہ ہمارے سماجی رویوں، ادارہ جاتی کمزوریوں اور اس خاموشی پر بھی حملہ تھا جسے ہم اکثر برداشت، مصلحت یا عزت کے نام پر قبول کر لیتے ہیں۔

تیزاب کے زخم شاید وقت کے ساتھ بھر جائیں، مگر خوف اور خاموشی کے زخم نسلوں تک اپنا نشان چھوڑ جاتے ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر