اینڈی برنم نے وزیراعظم کے طور پر اپنی پہلی تقریر میں کہا: ’میری نسل کے سیاست دانوں کو اپنی کارکردگی بہتر بنانی ہوگی، چیلنج کا مقابلہ کرنا ہوگا تاکہ ہماری سیاست بہتر طریقے سے کام کر سکے۔ ہم کافی اچھے ثابت نہیں ہوئے۔‘
ان کی ’میری نسل‘ والی بات نے مجھے چونکایا، کیونکہ اینڈی وہ پہلے حقیقی جنریشن ایکس سیاست دان ہیں، جو 1970 میں پیدا ہوئے۔ ان کی عمر 56 سال ہے اور دسمبر میں میری عمر بھی اتنی ہی ہوگی۔
جنریشن ایکس کے طور پر ہم زندگی کے درمیانی دور کے طوفان کے بادشاہ اور ملکہ ہیں۔ ہم نے نسبتاً دیر سے بچے پیدا کیے جبکہ ہمارے والدین اب عمر رسیدہ ہیں۔ اس لیے ہم ’سینڈوچ کیئرر جنریشن‘ ہیں، یعنی ایک طرف بچوں کی ذمہ داری اور دوسری طرف بوڑھے والدین کی دیکھ بھال اور یہ سب کچھ اس وقت جب ہم اپنے کیریئر کی بلند ترین سطح پر ہوتے ہیں۔
اینڈی برنم کے وزیراعظم بننے سے ایک دن پہلے ان کا دی سنڈے ٹائمز کو دیا گیا انٹرویو شائع ہوا، جس میں انہوں نے اپنی کامیابی کے لمحے پر چھائے ایک سائے کا ذکر کیا۔ ان کے والد راوئے ڈیمنشیا کا شکار ہیں، اس لیے انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کا بیٹا اب برطانیہ کا وزیراعظم ہے۔
یہ صورت حال اس لیے مزید دردناک ہے کہ اینڈی اپنے محبوب والد راوئے کو اپنی لیبر پارٹی سے وابستگی کا اصل سرچشمہ قرار دیتے ہیں۔ 1979 میں مارگریٹ تھیچر کے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد برنم نے اپنے والد سے آگے چلتی ایک گاڑی پر لگے سٹیکر کے بارے میں پوچھا، جس پر لکھا تھا: ’مجھے الزام نہ دو، میں نے لیبر کو ووٹ دیا تھا۔‘
تھیچر اور ان کی نیو لبرل پالیسیوں سے ہونے والا نقصان، جس نے برطانیہ کے شمالی صنعتی علاقوں کو تباہ کیا، آج صبح برنم کی تقریر کا بھی ایک اہم موضوع تھا۔
ان کے والد یقیناً بے حد فخر محسوس کرتے۔ اپنے والد کے بارے میں اینڈی نے کہا: ’گذشتہ اتوار ہم ان (راوئے) کے ساتھ تھے۔ ہم ان کے کیئر ہوم گئے تھے۔ میرے دونوں بھائی وہاں تھے، میری والدہ بھی موجود تھیں۔ اس طرح ہم پانچوں ایک ساتھ تھے، جو بہت خوشی کی بات تھی۔ ہم اس بارے میں بات کر رہے تھے، لیکن میرا خیال نہیں کہ وہ اپنی حالت کی وجہ سے کبھی سمجھ سکے کہ کیا ہو رہا ہے۔ یہ ایک اداسی کی بات ہے کیونکہ وہ بہت فخر محسوس کرتے۔ میں اسے اس طرح دیکھتا ہوں کہ یہ ان کی کامیابی بھی ہے۔ یہ پورے خاندان کی مشترکہ کامیابی ہے، اگرچہ انہیں اس کا علم نہیں۔‘
یہ ایک ایسا درد بھرا لمحہ تھا جس سے بہت سے لوگ خود کو جوڑ سکتے ہیں۔ برطانیہ میں تقریباً 10 لاکھ افراد ڈیمنشیا کا شکار ہیں، جبکہ الزائمرز سوسائٹی کے مطابق تقریباً نصف برطانوی خاندانوں میں کوئی نہ کوئی فرد اس بیماری سے متاثر ہے۔
برنم اس جاری غم کو جانتے ہیں جو اس وقت محسوس ہوتا ہے جب کوئی پیارا انسان اپنی زندگی کی باریک ترین تفصیلات یا اپنے عزیزوں کی زندگیاں، یاد رکھنا چھوڑ دے۔ اپنے اسی ذاتی تجربے کی بنیاد پر برنم سماجی نگہداشت کے نظام کو ’ٹوٹا ہوا‘ قرار دے چکے ہیں اور انہوں نے وزیراعظم کی حیثیت سے اس کی اصلاح کو اپنی عزت کا مسئلہ بنا لیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ دیگر حکومتوں کی طرح وہ اس مسئلے کو مستقبل پر نہیں ٹالیں گے بلکہ اس کا براہِ راست سامنا کریں گے۔
جنریشن ایکس کا یہی زاویۂ نظر پہلے ہی برنم کے حکومتی پروگرام کے مرکز کے طور پر نظر آ رہا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو دوبارہ روزگار کی طرف لانے کے لیے ذہنی صحت کی سہولیات بڑھانے کی بات کی۔
معمول کے خاندانوں کو درپیش دباؤ، خواہ وہ بوڑھے والدین کی دیکھ بھال ہو یا بڑھتی ہوئی مہنگائی، کو سمجھنا ہی ان کی انتخابی مقبولیت کا بنیادی سبب بنا، جس کی بدولت انہوں نے گذشتہ ماہ میکرفیلڈ کے ضمنی انتخاب میں زبردست کامیابی حاصل کی اور ریفارم پارٹی کے چیلنج کو بھاری اکثریت سے شکست دی۔
اپنے والد کی حالت کے بارے میں اتنی کھل کر بات کر کے وہ نہ صرف اپنے ذاتی تجربے کے ساتھ سچے رہتے ہیں بلکہ ان بے شمار جنریشن ایکس افراد کی نمائندگی بھی کرتے ہیں جو ان ہی کی طرح زندگی کے درمیانی دور میں نگہداشت کی اس ٹکراؤ والی کیفیت سے گزر رہے ہیں۔
کون جانتا ہے کہ اپنی زندگیوں اور کیریئر کی لہروں پر سوار ہونا کتنا مشکل ہے، جبکہ ہم بیمار بزرگوں اور جنریشن زی کے بچوں کی دیکھ بھال کے نشانے میں بیٹھے ہیں، جو ایک غیر یقینی مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
صرف گذشتہ ہفتے وہ اپنی بیٹی کو کارڈف یونیورسٹی سے گریجویٹ ہوتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ اولاد کو زندگی کے سفر پر بھیجنا اور اسی وقت عمر رسیدہ والدین کی ذمہ داری نبھانا کوئی آسان کام نہیں اور اب اینڈی برنم نہ صرف اس کیفیت کو سمجھتے ہیں بلکہ ایسی حیثیت میں بھی آ گئے ہیں کہ اس بارے میں کچھ کر سکیں۔
ہم پہلے ہی جانتے ہیں کہ اپنے والد کی دیکھ بھال کے نظام سے نمٹنے کے تجربے نے انہیں اس شعبے میں اصلاحات پر آمادہ کیا ہے۔ شاید ایک ایسی نسل میں گریجویٹ ہونے والی بیٹی، جس پر طلبہ قرضوں کا بھاری بوجھ ہے، انہیں گریجویٹ قرضوں کے بحران پر بھی زیادہ توجہ دینے پر مجبور کرے؟ جنریشن ایکس کا یہ ہی نقطۂ نظر ان کے حکومتی ایجنڈے کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔
انہوں نے نوجوانوں کو اضافی ذہنی صحت کی معاونت دے کر دوبارہ روزگار کی طرف لانے کی بات کی، کیونکہ جنریشن زیڈ کے والدین ہونے کے ناطے ہم جانتے ہیں کہ یہ کتنا ضروری ہے۔
تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ 50 سال کی عمر تک پہنچنے والے نصف سے زیادہ افراد طلاق، کسی عزیز کی موت، ملازمت کے خاتمے، بوڑھے والدین کی دیکھ بھال، ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار جنریشن زی بچوں اور اپنی صحت و مالی مشکلات میں سے کم از کم پانچ بڑے چیلنجوں کا سامنا کر چکے ہوتے ہیں۔ اکثر یہ تمام مسائل ایک ہی وقت میں زندگی کے درمیانی دور میں اکٹھے آ جاتے ہیں۔
ماضی کی نسلوں میں شاید وزیراعظم کی اہلیہ سے توقع کی جاتی کہ وہ نگہداشت کی کچھ ذمہ داریاں سنبھالتیں، لیکن برنم اس معاملے میں بھی حقیقی جنریشن ایکس ہیں۔
ان کی اہلیہ میری فرانس وان ہیل، جن سے ان کی ملاقات 35 سال پہلے کیمبرج یونیورسٹی میں ہوئی تھی اور جن سے انہوں نے 2000 میں شادی کی، کل وقتی ملازمت کرتی ہیں۔ وہ آئیڈونا انفراسٹرکچر کی چیف مارکیٹنگ آفیسر ہیں، جو برقی گاڑیوں کے چارجنگ نیٹ ورک ’بی ای وی‘ کی مالک کمپنی ہے۔
وہ ایک خودمختار پیشہ ور خاتون ہیں جن کی اپنی زندگی اور ذمہ داریاں ہیں، اور انہیں اپنی صحت سے متعلق مسائل کا بھی سامنا رہا ہے۔2012 میں جب ان میں چھاتی کے کینسر کے BRCA جین کی تشخیص ہوئی تو انہوں نے احتیاطی طور پر دونوں چھاتیوں کی سرجری کروائی۔
اینڈی اپنی والدہ ایلین کے بہت قریب ہیں، جو ایک پختہ کیتھولک ہیں اور جنہیں وہ اپنے مضبوط ایمان کا سبب قرار دیتے ہیں۔ جب ان سے ان کے مذہبی عقیدے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا: ’اگر میں اس سوال کا جواب نفی میں دوں تو میری والدہ مجھے کبھی معاف نہیں کریں گی۔‘
پیر کی صبح جب وہ 10 ڈاؤننگ سٹریٹ پہنچ رہے تھے تو ایلین ان کے لیے دعائیں مانگ رہی تھیں اور اپنی تسبیح کے دانے گھما رہی تھیں، لیکن ایک بیمار شوہر کے ساتھ انہیں خود بھی مدد کی ضرورت ہوگی۔
یہ تمام باتیں اس لیے اہم ہیں کیونکہ برنم، جدید تاریخ میں شاید کسی بھی دوسرے وزیراعظم سے زیادہ، اس عزم کے ساتھ نمبر 10 میں داخل ہوئے ہیں کہ وہ اپنی نسل کے سیاست دانوں کی کارکردگی بہتر بنا کر برطانیہ کو سب کے لیے مؤثر بنائیں گے۔ یہ محض سیاسی نعرہ نہیں، وہ واقعی اس پر یقین رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا: ’میرے سیاسی کیریئر میں جب بھی میں غلط ہوا ہوں تو اس کی وجہ یہ تھی کہ میں اپنی جبلت کے مطابق نہیں چلا۔ شاید یہ کہنا عجیب لگے لیکن میری جبلتیں کافی اچھی ہیں۔ میں لوگوں کی بات ضرور سنتا ہوں اور یہیں سے مجھے ہمیشہ حالات کا اندازہ ہوتا ہے۔‘ انہوں نے وضاحت کی کہ وہ موقع ملنے پر اپنی محبوب فٹ بال ٹیم ایورٹن کے میچ دیکھنے سٹیڈیم میں اپنے معمول کی نشست پر جا کر بیٹھتے رہیں گے۔
ان کا اصرار ہے: ’لوگوں کے قریب رہنا، زمینی حقیقتوں سے جڑے رہنا... اصل مقصد لوگوں کی مدد کرنا ہے۔‘
برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنم کون ہیں؟#Independenturdu #AndyBurnham #UnitedKingdom pic.twitter.com/bjIOqTgCH1
— Independent Urdu (@indyurdu) July 20, 2026
جنریشن ایکس ایک ایسے دور میں پروان چڑھی جب نہ ہیلی کاپٹر والدین کا تصور تھا، نہ ضرورت سے زیادہ حفاظتی ضابطے۔ ہمارے ابتدائی سال کان کنوں کی ہڑتال، پول ٹیکس فسادات اور 30 لاکھ سے زائد بے روزگار افراد والے ہنگامہ خیز دور میں گزرے۔ اس نسل کے بہت سے بچوں نے اپنے والدین کو روزگار اور مکان کھوتے دیکھا، جب شرح سود آسمان کو چھونے لگی اور جائیداد کا کاروبار تباہ ہو گیا۔
ہم نے بہت جلد سمجھ لیا تھا کہ ہمیں بچانے کوئی نہیں آئے گا۔ ہمیں اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا، ہم ہفتہ وار جزوقتی ملازمتوں سے کماتے تھے اور کام کرنے والی ماؤں اور بڑھتی ہوئی طلاقوں کے دور میں خودانحصاری سیکھتے تھے۔ ہم ایک اینالاگ نسل تھے جو ابتدائی کمپیوٹر گیمز کے ساتھ جوان ہوئی، لیکن سمارٹ فونز کے بغیر۔ ہم نے نوّے کی دہائی کی ریو پارٹیاں بھی کیں، اور ان میں سے کچھ بھی کسی کیمرے میں محفوظ نہیں ہوا۔
یہی وجہ ہے کہ ہماری نسل خودانحصاری، محنت اور زندگی سے لطف اٹھانے کے منفرد امتزاج کے لیے مشہور ہے۔ میرے لیے یہ معاملہ ذاتی نوعیت کا بھی ہے۔ میں بھی 1970 میں پیدا ہوئی تھی اور اینڈی برنم کے ساتھ ہی اپنے عملی کیریئر کا آغاز کیا تھا۔
جب ہم بیس کی دہائی کے اوائل میں تھے، آکسبرج سے انگریزی ادب میں گریجویٹ ہونے کے بعد، ہم ایک ہی دفتر میں کام کرتے تھے۔ 1993 میں ٹینک ورلڈ میگزین میں اینڈی میرے باس تھے۔ کمپنی میں صرف ہم دو ملازم تھے۔ ہماری کھڑکیوں سے برینٹفورڈ میں ایم فور فلائی اوور دکھائی دیتا تھا۔ دوپہر کا کھانا عموماً ایک ایسو گیراج پیٹرول پمپ سے ملنے والا باسی سینڈوچ ہوتا تھا۔ نوّے کی دہائی کے آغاز میں معاشی کساد بازاری تھی۔ ٹینک کنٹینرز پر لکھنا ہم دونوں کے لیے خوابوں کی نوکری نہیں بلکہ کیریئر کا آغاز تھا، لیکن اس سے بل ادا ہو جاتے تھے۔
ہم دونوں بڑی کامیابیوں کے خواہش مند تھے۔ میں نے اینڈی کو اپنی سوتیلی والدہ ٹیسا جوول کے پاس متعارف کروایا، جو پارلیمانی محقق کی تلاش میں تھیں۔ تب بھی اینڈی اس بات کے لیے پُرجوش تھے کہ وارنگٹن میں ان کے ساتھ بڑے ہونے والے بچوں کو منصفانہ مواقع ملیں۔ وہ تعلیمی طور پر بہت باصلاحیت تھے اور اسی لیے یونیورسٹی تک پہنچ گئے، لیکن وہ اکثر ان دوستوں کا ذکر کرتے جو فنی تعلیم اور ملازمتوں کی کمی کے باعث معاشرے میں پیچھے رہ گئے تھے، کیونکہ تھیچر نے صنعتی بنیاد کو تباہ کر دیا تھا۔
ان میں ہمیشہ یہ مضبوط احساس رہا کہ ملک سب کے لیے بہتر طریقے سے کام کرے۔ جب وہ ’ہوا کے رخ کا اشارہ دینے والے تنکے‘ کی بات کرتے ہیں اور حکومتی وقت، سرمایہ اور توانائی کو ان چیزوں پر لگانے کی بات کرتے ہیں، جو عام لوگوں کی زندگی میں واقعی فرق لا سکیں، تو وہ واقعی سنجیدہ ہوتے ہیں۔
اور پہلے حقیقی جنریشن ایکس وزیراعظم کے طور پر، برنم میں وہ مضبوطی موجود ہے جو ہم سب نے اپنے بچپن میں حاصل کی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں عوامی جذبات کی نبض پر بھی ہاتھ رکھنے کا ہنر آتا ہے، جس کی مدد سے وہ اپنی پوری نسل کو درپیش مسائل کا سامنا کر سکتے ہیں؛ چاہے وہ مہنگائی ہو، بوڑھے والدین کی نگہداشت ہو، بھاری قرضوں تلے دبی ہوئی ہماری اولادوں کی نئی زندگی ہو، میاں بیوی دونوں کا ملازمت کرنا ہو، وقت کی شدید کمی ہو یا ہر سمت سے آنے والے چیلنجز، اینڈی ان سب کو سمجھتے ہیں۔
سر کیئر سٹارمر کی عوامی احساسات سے دوری کے بعد شاید وہ لیبر کے عوامی مینڈیٹ کو استعمال کرتے ہوئے وہ تبدیلی لا سکیں جس کی پورے ملک کو ضرورت ہے۔ انہوں نے ’امید‘ کو واپس لانے کی بات کی۔ کافی عرصے بعد پہلی بار فضا میں ایک خوش آئند امید محسوس ہو رہی ہے کہ شاید واقعی چیزیں مختلف ہو سکتی ہیں اور جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ کیا حالات بہتر ہوں گے؟ یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔
© The Independent