اقلیتوں کا پاکستان 

اپنے قومی بیانیے میں ایک بات ہمیں اچھی طرح سمجھ  لینی چاہے کہ یہ پاکستان جتنا ہمارا ہے، اتنا ہی اقلیتوں کا بھی۔

11 اگست 2023 کو کراچی میں قومی یوم اقلیت کے موقعے پر ریلی کے دوران اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے شرکا نے پلے کارڈز اٹھائے ہوئے ہیں (اے ایف پی)

اپنے قومی بیانیے میں ایک بات ہمیں اچھی طرح سمجھ  لینی چاہے کہ یہ پاکستان جتنا ہمارا ہے، اتنا ہی اقلیتوں کا بھی ہے۔

ریاست پر اقلیتوں کے اس حقِ ملکیت کو نہ صرف تسلیم کرنے کی ضرورت ہے بلکہ انہیں اس بات کا احساس دلانا بھی ضروری ہے کہ وہ ریاست اور اس معاشرے میں سوتیلے نہیں بلکہ برابر کے شہری ہیں۔

یہاں اگر راشد منہاس اور میجر عزیز بھٹی جیسے دلاوروں نے وطن عزیز پر جان نچھاور کی تو وہیں دو مرتبہ ستارہ جرات حاصل کرنے والے کمانڈر مارون لیزلے مڈل کوٹ اور سکواڈرن لیڈر پیٹر کرسٹی بھی اس ملک کی خاطر جان سے گزر گئے۔

یہاں اگر کیپٹن سرور شہید نشانِ حیدر نے ملک پر جان قربان کی تو وہیں اسی پہاڑی پر ان کے ساتھ یعقوب مسیح بھی ملک پر قربان ہوئے۔ یہاں اگر ایئر مارشل نور خان کی خدمات بہت ہیں تو ایئر وائس مارشل ایرک جی ہال کی خدمات بھی کم نہیں۔

یہاں ڈیسمنڈ ہارنے جیسے دلاور کو کون بھول سکتا ہے۔ قانون کی دنیا کو دیکھ لیں تو جسٹس کارنیلیس کوئی معمولی نام نہیں، یہاں جسٹس بھگوان داس کا نام بھی ہمیشہ عزت و احترام سے لیا جاتا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

پھر بھٹو کے حق میں فیصلہ سنانے والے جسٹس دراب پٹیل کو کون بھلا سکتا ہے۔ یہاں سفارت کاروں میں جشمید مارکر جیسے لوگ گزرے ہیں، کرکٹ میں دانش کنیریا تھے۔ یہاں فلمی دنیا شبنم کے تذکرے کے بغیر ادھوری ہے۔

یہاں موسیقی میں بنجمن سسٹرز کے سُر اب تک قائم ہیں۔ یہاں کالم نگاری میں جو رنگ کاؤس جی نے جمایا، کس نے جمایا ہو گا۔ دل پر ہاتھ رکھ کر بتایے چٹاگانگ کے چکما قبیلے کے راجہ تری دیو رائے جیسی محبت پاکستان سے اور کس نے کی ہو گی۔

پاکستان ایک گل دستہ ہے جس میں پھولوں کا ایک تنوع ہے۔ یہاں ریاست کے لیے گراں قدر خدمات انجام دینے والوں میں سبھی شامل ہیں۔ یہ ملک سب کا ہے۔  

کہیں کہیں اگر کچھ فکری گرہیں باقی ہیں تو انہیں کھولنے کے لیے دستور پاکستان کا دیباچہ اور اس کے کچھ آرٹیکلز ہمارے نصاب کا حصہ ہونے چاہییں، جہاں قوم کا یہ عہد اجتماعی موجود ہے کہ اکثریت ہو یا اقلیت، ریاست سب کی ہے اور ریاست کی نظر میں سب برابر ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آئین پاکستان کے دیباچے میں جہاں یہ لکھا گیا ہے کہ مسلمانوں کو اس قابل کیا جائے گا کہ وہ اپنی زندگیاں قرآن و سنت کے مطابق گزار سکیں، وہیں یہ بھی لکھا ہے کہ اقلیتوں کو نہ صرف اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے کی مکمل آزادی ہو گی بلکہ انہیں اس بات کی بھی آزادی ہو گی کہ وہ اپنے کلچر کو فروغ دے سکیں۔

یاد رہے عبادات تو چار دیواری میں ہوتی ہیں لیکن یہ کلچر بالکل ایک سماجی اور تہذیبی پہلو ہے اور اس کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔ اس وسعت پر نہ صرف غور کرنا چاہیے بلکہ ہمارے قومی بیانیے کا حصہ ہونا چاہیے۔

آرٹیکل 20 کہتا ہے کہ قانون، امن عامہ اور اخلاقیات کے دائرے میں ہر شہری کو، چاہے وہ کسی بھی مذہب کا ماننے والا ہو، یہ حق ہو گا کہ وہ اپنے مذہب کو مانے، اس پر عمل کرے اور اس کی تبلیغ کرے۔  

پاکستان میں چونکہ غالب اکثریت مسلمانوں کی ہے، اس لیے اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لیے آرٹیکل 22 میں کچھ بنیادی اصول طے کر دیے گئے ہیں۔ پہلا یہ کہ کسی شہری کو کسی بھی سرکاری تعلیمی ادارے میں داخلے سے اس بنیاد پر محروم نہیں کیا جائے گا کہ اس کا تعلق کسی خاص مذہب سے ہے۔

دوسرا یہ کہ کسی بھی طالب علم کو ایسی تعلیم پر مجبور نہیں کیا جائے گا، جس کا تعلق طالب علم کے مذہب کے علاوہ کسی اور مذہب سے ہو۔ نہ ہی کسی طالب علم کو کسی ایسی تقریب میں شرکت پر مجبور کیا جا سکتا ہے، جس کا تعلق اس کے مذہب کی بجائے کسی اور مذہب سے ہو۔ 

کسی مذہب کے ماننے والے اگر اپنی تعلیمات کے لیے کوئی تعلیمی ادارہ چلا رہے ہیں تو انہیں اس سے نہیں روکا جائے گا۔ اسی طرح آرٹیکل 25 میں ایک بنیادی اصول طے کر دیا گیا ہے کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔

کون کس مذہب کا ماننے والا ہے، قانون کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ اقلیتوں کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 36 میں بہت اہم بات کی گئی ہے۔

لکھا ہے کہ وفاقی اور صوبائی ملازمتوں میں اقلیتوں کو مناسب نمائندگی دی جائے گی، یعنی صرف ایسا نہیں کہ میرٹ پر سب آئیں اور ملازمت لے لیں بلکہ یہ اس سے کچھ بڑھ کر ہے کہ میرٹ سے ہٹ کر اقلیتوں کی مناسب نمائندگی کا اہتمام ہو۔

ماضی قریب میں جب پنجاب پبلک سروس کمیشن کی اقلیتوں کے لیے مخصوص کوٹے کی ملازمت کی کچھ نشستیں خالی رہ گئیں تو ایک شہری نے اسے عدالت میں چیلنج کر دیا کہ اب ان پر اوپن میرٹ پر تعیناتی کر لیں۔

سپریم کورٹ نے یہ درخواست رد کر دی۔ سیٹیں بھلے خالی پڑی تھیں لیکن یہ اقلیتوں کا کوٹا ہی رہیں، ان پر اوپن میرٹ پر بھرتی نہ کی جا سکی۔ 

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی لکھا کہ اقلیت کا لفظ صرف اس لیے استعمال کیا جاتا ہے کہ ان کی تعداد کم ہے اور وہ کُل آبادی کا قریب تین فی صد ہیں۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ایک شہری کے طور پر ان کا مقام، مرتبہ یا حیثیت میں کوئی کمی ہے۔

پاکستان میں اقلیتوں کے حوالے سے صورت حال اگر مثالی نہیں تو ایسی بری بھی نہیں۔ اقلیتوں کے حوالے سے بہت کچھ کیا جا رہا ہے۔

اقلیتوں کے لیے سینیٹ میں چار، قومی اسمبلی میں 10 اور صوبائی اسمبلیوں میں متناسب مخصوص نشستیں مختص کی گئی ہیں، وفاقی سرکاری ملازمتوں میں اقلیتوں کے لیے پانچ فیصد کوٹہ  ہے۔

گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے مختلف سرکاری عہدوں پر 2000 سے زائد اقلیتی شہری خدمات انجام دے رہے ہیں۔ نیشنل کمیشن فار مائناریٹیز تشکیل دیا جا چکا ہے۔ اقلیتوں کے مذہبی تہواروں کو سرکاری سطح پر تسلیم کرتے ہوئے ہولی، دیوالی اور ایسٹر کے لیے عام تعطیلات کی جاتی ہیں۔  

ہندوبرادری کے تحفظ کے لیے ہندو شادی ایکٹ 2017 نافذ کیا گیا، پنجاب میں سکھ شادی ایکٹ پر عمل درآمد کیا گیا، اقلیتوں کے تحفظ کے لیے شکایات کے ازالے کے لیے اقلیتی ٹاسک فورسز اور ضلعی سطح پر مختلف کمیٹیاں بھی قائم کی گئیں جبکہ مذہبی آزادی کو درپیش خطرات کے حوالے سے شکایات کے ازالے کے لیے شکایتی مرکز قائم کیا گیا۔

یعنی ایسا نہیں کہ پاکستان نے اقلیتوں کے حقوق صرف آئین میں لکھ چھوڑے ہوں اور ان پر عمل نہ کیا ہو۔ ہاں یہ درست ہے کہ ابھی اس ضمن میں مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ملک سب کا ہے۔ اس کا احساس ملکیت بھی سبھی کو ہونا چاہیے۔

یہ تحریر مصنف کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر