سندھ میں پہلی بار سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم ہندو طلبہ کو مذہبی مضمون میں اخلاقیات (ایتھکس) کی بجائے ان کے اپنے مذہب کی باقاعدہ سرکاری نصابی کتب پڑھائی جائیں گی۔
سندھ حکومت نے جماعت سوم سے پنجم تک ہندو مذہبی تعلیم کی پہلی سرکاری نصابی کتب جاری کر دی ہیں، جنہیں آئین پاکستان کے تحت اقلیتوں کے مذہبی اور تعلیمی حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں ان ہندو مذہبی نصابی کتاب کی رونمائی کی۔
اس موقعے پر صوبائی وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ، وزیر ایکسائز مکیش کمار چاؤلہ، رکن سندھ اسمبلی مہیش کمار ہسیجہ، ڈاکٹر شام سندر اور دیگر متعلقہ شخصیات موجود تھیں۔
محکمہ تعلیم سندھ کے مطابق ہندو مذہبی تعلیم کا نصاب مختلف ہندو مذہبی تنظیموں، ماہرین تعلیم اور دیگر سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد تیار کیا گیا۔
ابتدائی مرحلے میں جماعت سوم سے پنجم تک کی کتابیں متعارف کرائی گئی ہیں، جنہیں جلد صوبے بھر کے سرکاری سکولوں میں فراہم کیا جائے گا۔
محکمہ تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق سندھ بھر کے سرکاری سکولوں میں اس وقت ایک لاکھ 29 ہزار 119 ہندو طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔
ان میں سب سے زیادہ 26 ہزار 642 طلبہ ضلع تھرپارکر جبکہ 21 ہزار 584 طلبہ ضلع عمرکوٹ کے سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم ہیں۔
’اقلیتوں کو اپنے مذہب کی تعلیم کا حق‘
صوبائی وزیرِ تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے کہا ہے کہ جس طرح مسلمان طلبہ کو اسلامیات پڑھائی جاتی ہے، اسی طرح ہندو طلبہ کو بھی اپنے مذہب کی تعلیم حاصل کرنے کا مکمل آئینی حق حاصل ہے۔
انہوں نے کہا ’آئین پاکستان اقلیتوں کو ان کے مذہب کے مطابق تعلیم حاصل کرنے کی ضمانت دیتے ہیں۔
’قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی 11 اگست، 1947 کی اپنی تاریخی تقریر میں ایسے پاکستان کا تصور پیش کیا تھا جہاں ہر شہری کو اپنے مذہب پر آزادی سے عمل کرنے کا حق حاصل ہو۔‘
سردار علی شاہ کے مطابق ہندو مذہبی تعلیم کا نصاب تمام متعلقہ ہندو مذہبی تنظیموں کی متفقہ مشاورت سے تیار کیا گیا ہے۔
’فی الحال جماعت سوم سے پنجم تک کی کتابیں تیار کی گئی ہیں جب کہ سندھ نصاب کونسل کے آئندہ اجلاس میں اعلیٰ جماعتوں کے لیے بھی نصاب کی تیاری پر غور کیا جائے گا۔‘
وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ سندھ اس حوالے سے پاکستان کا پہلا صوبہ بن گیا ہے، تاہم حکومت کا منصوبہ صرف ہندو برادری تک محدود نہیں۔
انہوں نے مزید کہا ’آئندہ مسیحی، سکھ، پارسی، بہائی اور دیگر مذہبی برادریوں کے طلبہ کے لیے بھی ان کے اپنے مذاہب کی نصابی کتب تیار کی جائیں گی تاکہ ہر طالب علم کو اپنے عقیدے کے مطابق تعلیم حاصل کرنے کا حق مل سکے۔‘
صوبائی وزیر تعلیم کے مطابق مطابق یہ اقدام صرف نصاب میں تبدیلی نہیں بلکہ مذہبی ہم آہنگی، رواداری اور مساوی شہری حقوق کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
پاکستان کا چہرہ
سردار علی شاہ نے کہا کہ پاکستان کو عملی اقدامات سے دنیا کو یہ پیغام دینا چاہیے کہ یہاں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا ’یہ سندھ کے لیے ایک تاریخی سنگ میل اور پاکستان کے لیے ایک نئی مثبت روایت ہے، جو مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کو فروغ دے گی۔‘
’ہمیں اسلامیات ہی پڑھنی پڑتی تھی‘
رکن سندھ اسمبلی مہیش کمار ہسیجہ، جنہوں نے گذشتہ برس اگست میں سندھ اسمبلی میں ہندو مذہبی تعلیم سے متعلق قرارداد بھی پیش کی تھی، کہتے ہیں اس فیصلے سے ایک دیرینہ مطالبہ پورا ہوا ہے۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’جب میں خود طالب علم تھا تو ہمارے پاس اسلامیات پڑھنے کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا۔
’اس وقت میرے والد نے بھی اعتراض نہیں کیا، ہم نے اسلامیات پڑھی اور ہمیں چھ کلمے بھی یاد تھے۔‘
ان کے مطابق ہندو مذہبی تعلیم کی سرکاری نصابی کتب کا اجرا صرف ہندو برادری ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے مثبت پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا ’اس اقدام سے مختلف مذاہب کے درمیان موجود غلط فہمیاں کم ہوں گی اور ایک دوسرے کے بارے میں بہتر آگاہی پیدا ہوگی، جس سے معاشرے میں ہم آہنگی کو فروغ ملے گا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے مزید کہا اس اقدام کی ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اسے عملی شکل دینے میں اکثریتی مسلم قیادت نے کردار ادا کیا۔
’یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی اور مساوی شہری حقوق کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں کی جا رہی ہیں اور یہی قائد اعظم محمد علی جناح کے پاکستان کا وژن بھی تھا۔‘
حکومت سندھ کے مطابق ہندو مذہبی تعلیم کی نصابی کتب کے اجرا کے بعد آئندہ مرحلے میں دیگر اقلیتی مذاہب کے طلبہ کے لیے بھی ان کے اپنے مذہب کے مطابق نصاب تیار کیا جائے گا تاکہ آئین پاکستان کے تحت تمام شہریوں کو مساوی تعلیمی اور مذہبی حقوق میسر آ سکیں۔