مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جھڑپوں اور کشیدگی کے بعد پاکستان، قطر اور دیگر علاقائی ثالث دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم کرنے اور امن معاہدے سے متعلق مذاکرات بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بات ایک امریکی میڈیا ادارے ایکسِیوس نے جمعے کو اپنی رپورٹ میں بتائی۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ نے گذشتہ دو دن کے دوران ایران پر نئے فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں تہران نے مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا۔
فریقین کے درمیان اس کارروائی نے اس عبوری معاہدے کو خطرے میں ڈال دیا، جس کا مقصد خطے میں جاری جنگ کے خاتمے میں مدد فراہم کرنا تھا۔
جمعرات سے ایک روز قبل سمیت دونوں جانب سے ہونے والے حملوں نے متعدد بار جنگ بندی کو خطرات سے دوچار کیا۔
جمعرات کے حملے نسبتاً زیادہ وسیع نوعیت کے دکھائی دیے۔ بحرین، جہاں امریکی بحریہ کے پانچویں بحری بیڑے کا ہیڈکوارٹر قائم ہے، میں کم از کم تین مرتبہ خطرے کے سائرن بجے، جبکہ کویت اور قطر کی جانب میزائل فائر کیے گئے۔
امریکی خبر رساں ویب سائٹ ایکسِیوس کے مطابق ثالثی میں شامل ممالک کا کہنا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے باوجود فریقین جوہری معاہدے پر ہونے والی پیش رفت کو برقرار رکھنا اور امن معاہدے کو ناکام ہونے سے بچانا چاہتے ہیں۔
ایکسِیوس نے ثالثی کے عمل میں شامل ایک علاقائی ذریعے کے حوالے سے کہا: ’وسیع سفارتی کوششیں جاری ہیں تاکہ پہلے دونوں فریقوں کو کشیدگی میں کمی پر آمادہ کیا جائے اور پھر تکنیکی ٹیموں کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ طے کی جا سکے۔‘
ایک ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکہ نے جمعرات کو ایران کے واحد جوہری بجلی گھر کے اطراف کے علاقے کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا، جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی دوپہر کے دوران دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب چند گھنٹے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حالیہ ایرانی حملے ایک کمزور جنگ بندی کے خاتمے کا اشارہ ہیں، اور اگر یہ کارروائیاں نہ رکیں تو تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
اس بیان کے بعد خدشات پیدا ہوئے کہ خطہ دوبارہ ایسی جنگ کی طرف جا سکتا ہے جو کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لے اور آبنائے ہرمز سے توانائی کی ترسیل معطل ہو جائے، جو عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔
پاکستان اس سال کے آغاز میں اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی اعلیٰ حکام کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی میزبانی کے بعد اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا تھا۔
اگرچہ یہ مذاکرات فوری کامیابی پر منتج نہیں ہوئے تھے، تاہم انہوں نے مسلسل سفارتی رابطوں کی راہ ہموار کی، جس کے نتیجے میں گذشتہ ماہ ایک عبوری امن معاہدہ طے پایا جسے اسلام آباد یادداشتِ مفاہمت (MoU) کا نام دیا گیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے جمعرات کو پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور کہا کہ واشنگٹن پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے عبوری امن فریم ورک کی پابندی نہیں کر رہا۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا (IRNA) کے مطابق عراقچی نے عاصم منیر سے گفتگو میں کہا: ’امریکی حکام کے بیانات، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اسلام آباد یادداشتِ مفاہمت پر عمل نہیں کر رہے، معاہدے کی خلاف ورزی اور واشنگٹن کی جنگی پالیسیوں کے تسلسل کا واضح ثبوت ہیں۔‘
پاکستان نے اس گفتگو پر تاحال کوئی عوامی تبصرہ نہیں کیا، جبکہ فوج کی جانب سے بھی اس رابطے کی کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
اسلام آباد نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں اپنے کردار کے حوالے سے عمومی طور پر خاموشی اختیار کیے رکھی ہے اور ثالثی کے پورے عمل کے دوران دونوں فریقوں کے درمیان رابطوں کی بہت کم تفصیلات سامنے لائی ہیں۔
ایران کی وزارتِ صحت کے مطابق دو روز کے امریکی فضائی حملوں میں کم از کم 14 افراد جان سے گئے اور 78 زخمی ہوئے ہیں۔ مارے جانے اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر ایرانی مسلح افواج کے اہلکار شامل بتائے گئے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کویت کی فوج نے کہا کہ گرتے ہوئے ملبے سے ایک شخص زخمی ہوا، جبکہ کویت نے تین بیلسٹک میزائل، ایک کروز میزائل اور 10 ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
بحرین نے بھی آنے والے حملے ناکام بنانے کا اعلان کیا، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ قطر میں فوری طور پر کسی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے پہلے کہا تھا کہ اس نے ایران بھر میں 90 اہداف کو نشانہ بنایا۔
جاری کردہ ویڈیو میں ایک ہوائی اڈے کے رن وے اور میزائل لانچروں پر حملے دکھائے گئے۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو خطرے میں ڈالنے کی ایرانی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا تھا۔
جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا میں تجارت ہونے والے تیل اور قدرتی گیس کا تقریباً پانچواں حصہ اسی آبی گزرگاہ سے گزرتا تھا۔
گذشتہ ماہ عارضی معاہدے کے تحت آبی راستہ کھولے جانے کے بعد بحری نقل و حرکت میں کچھ اضافہ دیکھا گیا ہے۔
بحری اعداد و شمار فراہم کرنے والی کمپنی لائیڈز لسٹ انٹیلیجنس کے مطابق ابتدائی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جون میں کم از کم 576 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ مئی میں یہ تعداد 233 تھی۔
جون 2025 میں 3,100 سے زائد جہاز اس آبی گزرگاہ سے گزرے تھے۔