امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا ہے کہ ایران نے ہم سے ’مذاکرات‘ جاری رکھنے کی درخواست کی ہے۔
ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے پیغام میں ان کا کہنا ہے ’ہم نے اس پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، لیکن امریکہ نے انہیں واضح اور دوٹوک الفاظ میں بتا دیا کہ جنگ بندی اب ختم ہو چکی۔‘
مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جھڑپوں اور کشیدگی کے بعد پاکستان، قطر اور دیگر علاقائی ثالث دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم کرنے اور امن معاہدے سے متعلق مذاکرات بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بات ایک امریکی میڈیا ادارے ایکسیوس نے جمعے کو اپنی رپورٹ میں بتائی۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ نے گذشتہ دو دن کے دوران ایران پر نئے فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں تہران نے مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا۔
فریقین کے درمیان اس کارروائی نے اس عبوری معاہدے کو خطرے میں ڈال دیا، جس کا مقصد خطے میں جاری جنگ کے خاتمے میں مدد فراہم کرنا تھا۔
جمعرات سے ایک روز قبل سمیت دونوں جانب سے ہونے والے حملوں نے متعدد بار جنگ بندی کو خطرات سے دوچار کیا۔ جمعرات کے حملے نسبتاً زیادہ وسیع نوعیت کے دکھائی دیے۔
بحرین میں، جہاں امریکی بحریہ کے پانچویں بحری بیڑے کا ہیڈکوارٹر قائم ہے، کم از کم تین مرتبہ خطرے کے سائرن بجے جبکہ کویت اور قطر کی جانب میزائل فائر کیے گئے۔
امریکی خبر رساں ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق ثالثی میں شامل ممالک کا کہنا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے باوجود فریقین جوہری معاہدے پر ہونے والی پیش رفت کو برقرار رکھنا اور امن معاہدے کو ناکام ہونے سے بچانا چاہتے ہیں۔
ایکسیوس نے ثالثی کے عمل میں شامل ایک علاقائی ذریعے کے حوالے سے کہا ’وسیع سفارتی کوششیں جاری ہیں تاکہ پہلے دونوں فریقوں کو کشیدگی میں کمی پر آمادہ کیا جائے اور پھر تکنیکی ٹیموں کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ طے کی جا سکے۔‘
ایک ایرانی عہدے دار نے الزام عائد کیا کہ امریکہ نے جمعرات کو ایران کے واحد جوہری بجلی گھر کے اطراف کے علاقے کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی دوپہر کے دوران دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب چند گھنٹے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حالیہ ایرانی حملے ایک کمزور جنگ بندی کے خاتمے کا اشارہ ہیں، اور اگر یہ کارروائیاں نہ رکیں تو تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
اس بیان کے بعد خدشات پیدا ہوئے کہ خطہ دوبارہ ایسی جنگ کی طرف جا سکتا ہے جو کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لے اور آبنائے ہرمز سے توانائی کی ترسیل معطل ہو جائے، جو عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔
پاکستان اس سال کے آغاز میں اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی اعلیٰ حکام کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی میزبانی کے بعد اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا تھا۔
اگرچہ یہ مذاکرات فوری کامیابی پر منتج نہیں ہوئے تھے، تاہم انہوں نے مسلسل سفارتی رابطوں کی راہ ہموار کی، جس کے نتیجے میں گذشتہ ماہ ایک عبوری امن معاہدہ طے پایا جسے اسلام آباد یادداشت مفاہمت کا نام دیا گیا۔