بےنظیر نشوونما پروگرام کی مدت میں مزید تین سال کی توسیع

دستیاب شواہد کے مطابق پروگرام میں شامل بچوں میں چھ ماہ کی عمر تک پہنچنے پر نشوونما میں رکاوٹ (سٹنٹنگ) کا خطرہ 22 فیصد کم دیکھا گیا۔

بےنظیر انکم سپورٹ بروگرام چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد، ورلڈ فوڈ پروگرام اور یونیسف اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے نمائندوں کے ساتھ نئے بےنظیر نشوونما پروگرام مرحلے کے سرکاری آغاز پر کھڑی ہیں (تصویر: بی آئی ایس پی)

حکومت پاکستان کے بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی)، اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی)، یونیسیف اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بےنظیر نشوونما پروگرام کی مدت میں مزید تین سال کی توسیع کا اعلان کیا ہے۔

اس فیصلے کے تحت ملک بھر میں مزید 33 لاکھ خواتین اور بچوں کو غذائی قلت سے بچانے اور صحت و غذائیت کی سہولیات فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں کیے گئے اعلان کے مطابق بےنظیر نشوونما پروگرام کو بی آئی ایس پی کے تحت جاری رکھا جائے گا اور اس کے ذریعے حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں اور دو سال تک کی عمر کے بچوں کو غذائی اور طبی خدمات فراہم کی جائیں گی۔

پروگرام اس وقت ملک بھر میں 578 سہولت مراکز اور 224 غذائیت بحالی مراکز کے ذریعے خدمات انجام دے رہا ہے۔

بیان کے مطابق سنہ 2020 میں آغاز کے بعد سے یہ پروگرام 47 لاکھ افراد تک پہنچ چکا ہے، جبکہ نئی توسیع کے بعد مستفید ہونے والوں کی مجموعی تعداد 80 لاکھ تک پہنچنے کی توقع ہے۔

بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بےنظیر نشوونما پروگرام اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ جب سماجی تحفظ، غذائیت، صحت کی سہولیات اور مضبوط شراکت داری کو یکجا کیا جائے تو ماؤں اور بچوں کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام بےنظیر بھٹو کے اس وژن کا تسلسل ہے جس میں کوئی ماں یا بچہ غربت کی وجہ سے بنیادی سہولیات سے محروم نہ رہے۔ ان کے بقول ’بی این پی 3.0‘ پر دستخط صرف ایک پروگرام کی توسیع نہیں بلکہ اس عزم کی تجدید ہے کہ ہر بچے کو زندگی کا صحت مند آغاز اور ہر ماں کو اپنے خاندان کے لیے بہتر مستقبل بنانے کا موقع فراہم کیا جائے۔

بی آئی ایس پی اور اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق یہ شراکت داری ایک ایسے سائنسی بنیادوں پر قائم پروگرام کو مزید مضبوط کرے گی جس کے نتائج عالمی سطح پر غذائیت کے شعبے میں نمایاں سمجھے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دستیاب شواہد کے مطابق پروگرام میں شامل بچوں میں چھ ماہ کی عمر تک پہنچنے پر نشوونما میں رکاوٹ (سٹنٹنگ) کا خطرہ 22 فیصد کم دیکھا گیا۔

پاکستان میں غذائی قلت ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پانچ سال سے کم عمر ہر دس میں سے چار بچے دائمی غذائی قلت کے باعث نشوونما میں رکاوٹ کا شکار ہیں، جن کی تعداد تقریباً ایک کروڑ بنتی ہے۔ اسی طرح شدید غذائی کمی یا ویسٹنگ کی شرح 17.7 فیصد ہے، جو تقریباً 50 لاکھ بچوں کو متاثر کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورت حال کے باعث پاکستان کو سالانہ تقریباً 17 ارب ڈالر کے معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کی پاکستان میں نمائندہ اور کنٹری ڈائریکٹر انیتا ہرش نے کہا کہ بےنظیر نشوونما پروگرام کے نتائج حوصلہ افزا ہیں اور یہ بچوں میں غذائی قلت کی روک تھام کے لیے مؤثر ثابت ہوا ہے۔ ان کے مطابق نئی تین سالہ توسیع کے ذریعے مزید ماؤں اور بچوں تک ضروری غذائی خدمات پہنچائی جا سکیں گی۔

یونیسیف کی پاکستان میں نمائندہ پرنیل آئرن سائیڈ نے حکومت پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پروگرام کے ذریعے کمزور طبقوں سے تعلق رکھنے والی ماؤں، نوعمر لڑکیوں اور بچوں کی غذائی صورت حال بہتر بنانے میں مدد مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غذائیت پر سرمایہ کاری دراصل پاکستان کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے پاکستان میں نمائندے ڈاکٹر لو داپینگ نے کہا کہ پروگرام کے مثبت نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ صحت، غذائیت، سماجی تحفظ، صاف پانی، خوراک کے نظام اور تعلیم کو یکجا کر کے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی گھر