سرگودھا میں ریپ کے بعد قتل کی جانے والی سات سالہ منتہا زہرہ کے چچا محمد شاہد نے کہا ہے کہ کچھ دن پہلے ان کی اس دکان دار سے، جس کی بالائی منزل سے منتہا کی لاش ملی، لین دین پر تلخ کلامی ہوئی تھی لیکن بات اتنی بڑی نہیں تھی کہ بچی سے ایسا سلوک کیا جاتا۔
محمد شاہد نے بتایا ’منتہا چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہے، دوسری کلاس میں پڑھتی تھی، ہمارے گھر کے سارے بچے اسی دکان سے پہلے بھی چیز لینے جاتے ہیں تو منتہا بھی وہیں کچھ لینے گئی تھی۔‘
انہوں نے بتایا ’جب کچھ دیر تک بچی واپس نہیں آئی تو ہم نے تلاش شروع کر دی۔ پھر پولیس کو فوری اطلاع دی لیکن تب تک دیر ہوچکی تھی۔‘
’کچھ دن پہلے ہماری دکان دار سے لین دین کے معاملے پر تلخ کلامی ہوئی تھی، لیکن وہ اتنی بڑی لڑائی نہیں تھی کہ بچی کے ساتھ ایسی درندگی کی جاتی۔‘
منتہا زہرہ کے چچا نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ’پیر کو دن 11 بجے بچی گھر سے قریبی کریانہ سٹور گئی لیکن واپس نہ آئی۔
’ہم نے سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا، بچی دکان میں داخل ہوئی مگر واپس نہ آئی۔ پھر پولیس کو اطلاع دی تو بچی کی تیسری منزل سے لاش برآمد ہوئی۔
’پولیس نے دکان مالک سمیت چار ملزمان کو گرفتار کیا۔‘
محمد شاہد نے بتایا کہ اگلے روز انہیں معلوم ہوا کہ مرکزی ملزم ارسلان پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
جائے وقوع کریانہ سٹور اور متاثرہ فیملی کی رہائش نوری گیٹ سرگودھا میں ہے۔
وہاں کام کرنے والے محمد زاہد نے بتایا کہ اہل علاقہ نے ارسلان کو اپنے قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت نہیں دی جس کے وجہ سے اسے قریبی گاوں میں دفنایا گیا، لیکن وہاں کسی کو جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
محمد زاہد نے یہ بھی کہا ’بچی کے قتل کا واقعہ ہونے کے بعد نامعلوم شہری اکھٹے ہوکر یہاں آئے اور اس کریانے کی دکان پر پتھراؤ کیا جس کی تیسری منزل پر یہ واقعہ پیش آیا تھا۔
’ان لوگوں نے گیٹ توڑ دیا اور سامان بھی اٹھا کر لے گئے۔ اب وہ دکان مکمل تباہ ہوچکی ہے، توڑ پھوڑ کرنے والوں کو ہم نہیں جانتے، لیکن یہ معلوم ہے کہ لوگوں نے اس دکان کو بچی سے ریپ کی وجہ سے تباہ کیا۔‘
سرگودھا سمیت پنجاب اور ملک کے دیگر شہروں میں بھی بچوں سے زیادتی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
رواں ہفتے فیصل آباد، پشاور اور کراچی میں بھی بچوں سے ریپ کے واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔
غیر سرکاری تنظیم ساحل کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں پاکستان میں بچوں کے اغوا اور ریپ کے کل 3606 کیسز رپورٹ ہوئے۔
سرگودھا کے ایس پی انویسٹیگیشن محمد عمران نے منتہا زہرہ کیس کے حوالے سے بتایا ’متاثرہ فیملی کی بچی کے لاپتہ ہونے کی کال پر پولیس فوری مدد کے لیے پہنچی۔ وہاں فرش پر خون کے قطروں سے شک پڑا تو تیسری منزل پر جانے کی کوشش کی۔
’لیکن سیڑھیوں کے دروازے کو تالا لگا تھا، دکان ملازم ارسلان کے پاس چابی تھی، وہ وہاں نہیں تھا۔
’جب اسے بلایا اور تیسری منزل پر گئے تو بچی کی چھری سے گلا کٹی لاش ملی لہٰذا ارسلان سمیت محمد عباس، محمد حنیف اور محمد احسان کو گرفتار کر لیا۔‘
ایس پی محمد عمران نے کہا ’اگلے روز ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا مرکزی ملزم ارسلان ہے لہٰذا وہ پولیس مقابلے میں کیفر کردار کو پہنچا جبکہ دیگر تین ملزمان پولیس کی حراست میں ہیں۔
’ان سے بھی تفتیش جاری ہے جس کا جو کردار ہوگا اسے قانون کے مطابق سزا دلوائی جائے گی۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سرگودھا پولیس کے مطابق بچی سے ریپ اور قتل میں ملوث ہونے کے شبے میں 18 افراد کے نمونے فرانزک لیب بھجوائے گئے۔
سرگودھا کے سماجی رہنما مرزا اسلم بیگ کا کہنا ہے ’اس طرح بچوں سے ریپ کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں لہٰذا قانونی کارروائی کے ساتھ خصوصی اقدامات کے زریعے ایسی سوچ رکھنے والوں کو خوف زدہ کرنا ضرورہ ہے۔
’لہٰذا ایسے کیسز میں ملوث مجرموں کو سرعام پھانسی جیسی سزائیں دینی چاہییں تاکہ بچے محفوظ رہ سکیں۔‘
ایس پی محمد عمران نے مزید کہا ’بچوں کے اغوا یا زیادتی کے کیس ویسے ہی پولیس کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ ایسے کسی ملزم کو رعایت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتے۔
’اس قسم کے کیسوں میں جس طرح پہلے عبرتناک سزائیں دی گئی اس کیس میں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔‘
انہوں نے کہا ’درندہ صفت افراد کو اگر پہلی حرکت پر ہی روک لیا جائے تو بڑے واقعات سے بچا جا سکتا ہے۔
’بچوں کا تحفظ یقینی بنانے کے قوانین بھی موجود ہیں اور ان پر عمل بھی ہو رہا ہے لیکن سب کو مل کر اس طرح کے واقعات روکنے کے لیے کردار ادا کرنا ہو گا۔‘
اس واقعے سے نہ صرف سرگودھا شہر بلکہ معاشرے میں ہر درد دل رکھنے والے شہری کے لیے فضا سوگوار ہے۔ ہر شہری اس جرم پر کو ناقابل یقین قرار دے رہا ہے۔
منتہا زہرہ کے چچا محمد شاہد کا کہنا ہے ’پولیس تین ملزمان کی تفتیش کر رہی ہے، ہمیں وزیر اعلیٰ اور دیگر حکام کا فون آیا ہے اور انصاف دلانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔‘