مغربی ایشیا میں ایسی جنگ جس میں کوئی فاتح نہیں

اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ اس جنگ میں کوئی بھی فریق فاتح نہیں رہے گا۔ یہ جنگ جتنی جلدی ختم ہو جائے، امریکہ، ایران، خلیجی ریاستوں اور عالمی معیشت کے لیے اتنا ہی بہتر ہوگا۔

تہران کے مرکزی علاقے کی جمہوری سٹریٹ پر 27 جولائی 2026 کو ایک خاتون امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے انتقام لینے کے عزم پر مبنی ایک بڑے بل بورڈ کے پاس سے گزر رہی ہیں (اے ایف پی)

مغربی ایشیا میں جنگ کے شعلے دوبارہ بھڑک اٹھے۔ فریقین نے دوبارہ ایک دوسرے پر حملے کیے اور اب بات چیت شروع کرنے پر آمادہ ہوئے ہیں، البتہ اس تنازعے کی جڑ مفاہمت کی یادداشت کا پیراگراف نمبر 5 ہے۔

ایران، امریکہ پر 17 جون کو دونوں کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کی شرائط کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتا ہے۔ دوسری جانب امریکہ، ایران پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فائرنگ کرنے کا الزام لگاتا ہے۔

فریقین اس پیراگراف کی مختلف تشریح کرتے ہیں۔ ایران کا موقف ہے کہ یہ طے پایا تھا کہ ’ایران 60 دنوں تک آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی بلا معاوضہ اور محفوظ گزرگاہ کے لیے انتظامات کرے گا۔‘

نیز یہ کہ ایران، خلیج عرب کے ساحلی ممالک کے ساتھ مشاورت اور قابلِ اطلاق بین الاقوامی قوانین اور آبنائے کے ساحلی ممالک کے خودمختار حقوق کے مطابق، آبنائے میں ’مستقبل کے انتظامی امور اور سمندری خدمات کے تعین‘ کے لیے عمان کے ساتھ تعاون کرے گا، تاہم امریکہ کا ماننا ہے کہ ایران آبنائے سے بلا روک ٹوک اور غیر مشروط گزرگاہ کی اجازت دینے پر رضامند ہوا تھا۔

2 جولائی 2026 کو ایران نے سعودی اور قطری آئل ٹینکروں پر اس وقت حملہ کیا جب وہ ایران کے اعلان کردہ جہاز رانی کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عمان کے ساحل کے قریب آبنائے ہرمز سے گزر رہے تھے۔

امریکہ نے 7 جولائی کو ایران پر جوابی فوجی حملے کیے۔ امریکہ کی جانب سے ایران پر بمباری کے دوبارہ آغاز اور ایران کے جوابی ردعمل کے نتیجے میں آبنائے ہرمز سے تیل اور گیس کی ترسیل، جو دنیا کی توانائی کی کل فراہمی کا 20 فیصد ہے، دوبارہ رک گئی ہے، جس سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

جنگ کے اس دور میں فریقین کو بھاری خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ ایران کے لیے، جب تک صورت حال دوبارہ مستحکم نہیں ہو جاتی، منجمد اثاثوں کی بحالی، امریکی پابندیوں سے ریلیف، یا اپنا تیل فروخت کرنے جیسے اقدامات ممکن نہیں ہوں گے۔

دوم، خلیجی ریاستیں، جنہیں پہلے ہی امریکی سکیورٹی چھتری (تحفظ) کے حوالے سے شکوک و شبہات لاحق ہو چکے تھے، ایران کے ساتھ ممکنہ مفاہمت پر اپنا اعتماد کھو بیٹھیں گی۔ سوم، لڑائی کے دوبارہ شروع ہونے سے اسرائیل کو امریکہ کے ساتھ اپنے مضبوط تعلقات میں کھوئی ہوئی کچھ ساکھ بحال کرنے میں مدد ملے گی۔

جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے، لڑائی کے دوبارہ آغاز نے ملک میں اس بحث کو پھر سے ہوا دے دی ہے کہ آیا یہ امریکہ کی اپنی جنگ تھی۔ 28 فروری کو شروع ہونے والی 40 روزہ جنگ کے دوران امریکی رائے عامہ جنگ کے خلاف ہو گئی تھی کیونکہ بڑے پیمانے پر یہ سمجھا جا رہا تھا کہ امریکہ اپنی نہیں بلکہ اسرائیل کی جنگ لڑ رہا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کردہ ایک رائے شماری کے مطابق معیشت کے معاملے میں صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی آئی ہے اور 60 فیصد لوگ ان کی کارکردگی سے غیر مطمئن ہیں۔ تنازعے کا طول پکڑنا اور اس کے نتیجے میں عالمی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات صدر ٹرمپ اور رپبلکن پارٹی کے لیے مزید سیاسی نقصان کا باعث بنیں گے کیونکہ پارٹی کو نومبر میں وسط مدتی انتخابات کا سامنا کرنا ہے۔

فریقین کے لیے ان نقصانات اور اس حقیقت کے پیشِ نظر کہ عالمی معیشت توانائی کے طویل بحران کی متحمل نہیں ہو سکتی، مذاکرات کی میز پر واپس آنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

ایران کے نقطہ نظر سے، آبنائے ہرمز اب اس کی قومی سلامتی کی ضامن ہے۔ وہ مخالفین کو خلیج عرب کے پانیوں کو ایران کے خلاف سیاسی، عسکری اور اقتصادی دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا، تاہم ایران بخوبی سمجھتا ہے کہ طویل تنازع خلیجی ریاستوں کو اپنے تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے خلیج کے متبادل ذرائع، جیسے پائپ لائنز اور زمینی راہداریاں تلاش کرنے پر مجبور کر دے گا۔

آبنائے ہرمز کی طویل بندش دنیا کو تیل اور گیس کی فراہمی بھی روک دے گی۔ قیمتوں میں اضافے کی صورت میں، عالمی رائے ایران کے خلاف ہو سکتی ہے کیونکہ وہ خلیج کو ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ رہنے دینے کی بجائے اس پر اپنا تسلط قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہوگا، لہٰذا ایران کے پاس مفاہمت کی یادداشت  کی طرف واپس آنے کی معقول وجہ موجود ہے۔

امریکہ کے لیے یہ تنازع علاقائی اور عالمی معاملات میں اس کے کردار کے حوالے سے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ امریکہ خلیج میں اپنے اتحادیوں کو غیر محفوظ حالت میں نہیں چھوڑ سکتا، تاہم فوجی طاقت اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔ امریکہ بخوبی سمجھتا ہے کہ جنگ جیتے بغیر تنازعے کا طول پکڑنا نہ صرف اسے اندرونی سیاسی قیمت چکانے پر مجبور کرے گا بلکہ عالمی سپر پاور کے طور پر اس کی حیثیت کو بھی کمزور کر دے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

40 روزہ جنگ نے یہ واضح کر دیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ افواج بھی ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے میں ناکام رہیں۔ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ بمباری کی اس نئی مہم کے نتائج مختلف ہوں گے۔ مزید برآں، خلیجی ریاستوں کے خلاف ایران کا جوابی ردعمل ان کی معیشتوں کو تباہ کر دے گا، خاص طور پر اگر جنگ کا دائرہ کار تیل و گیس کی تنصیبات، پاور گرڈز اور پانی کو قابلِ استعمال بنانے والے پلانٹس (ڈی سیلینیشن پلانٹس) تک پھیل گیا۔

چین اور روس، جو دونوں ایران کی حمایت کرتے ہیں، مغربی ایشیا میں امریکہ کو کمزور یا مشکلات کا شکار ہوتے دیکھ کر شاید کوئی قدم نہ اٹھائیں، لہذا امریکہ کے پاس بھی مفاہمت کی یادداشت کی طرف واپس آنے کی معقول وجہ موجود ہے۔

40 روزہ جنگ کے دوران، پاکستان نے ایک دیانت دار ثالث کے طور پر اپنی ساکھ منوائی جو اپنے ہی خطے میں جنگ کی آگ بجھانے کا خواہاں تھا۔ 4 اپریل کو جنگ بندی کے حوالے سے پاکستان کی تجویز کو ایران اور امریکہ دونوں نے قبول کر لیا اور ایک ہفتے کے اندر ہی فریقین اپنی تاریخ کی پہلی براہِ راست بات چیت کے لیے اسلام آباد میں موجود تھے۔

تب سے، پاکستان نے قطر کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کو ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے پر کامیابی سے قائل کیا ہے، جس میں فریقین کے درمیان مزید بات چیت کے لیے 14 ایجنڈا نکات طے کیے گئے ہیں۔ چونکہ اس تنازعے میں تمام فریقین کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت کے بھی اہم مفادات وابستہ ہیں، اس لیے امریکہ اور ایران دونوں کے لیے مذاکرات کی میز پر واپس آنا ضروری ہے۔

یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے کہ پاکستان اور قطر نے جاری کشیدگی کو روکنے اور مفاہمت کی یادداشت کی طرف واپسی کے لیے 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے۔ اس تجویز کے تحت توقع کی جائے گی کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا جبکہ امریکہ ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندیاں اٹھا لے گا اور ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ ختم کر دے گا۔

امریکہ کو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات پر بھی نظرِ ثانی کرنے کی ضرورت ہوگی، جس نے غزہ اور اب لبنان میں نسل کشی کا ارتکاب کیا ہے۔ نسل کشی میں ملوث اسرائیل کا رویہ امریکہ کے بنیادی نظریات پر ایک کاری ضرب ہے۔ اس سلسلے میں امریکہ میں چند معروف آوازوں کا اٹھنا خوش آئند ہے۔

ایک حالیہ انٹرویو میں، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیلی حکومت کے کچھ ارکان اور اسرائیل کی بھرپور حمایت کرنے والے بااثر حامیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ ایران کے ساتھ امریکہ کے امن مذاکرات کو سبوتاژ کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے جنگوں کے خاتمے کے وعدے پر اپنی انتخابی مہم جیتی تھی۔ اسرائیل کی خاطر ایران کے ساتھ جنگ ​​اس بنیادی اصول کی نفی کرتی ہے جس پر ٹرمپ انتظامیہ نے آنے والے برسوں کے لیے اپنی قومی سلامتی کی حکمت عملی استوار کی تھی۔

بمباری اور حملوں کے ایک اور تیرا روزہ سلسلے کے بعد فریقین دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنے کو آمادہ ہوئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ اس جنگ میں کوئی بھی فریق فاتح نہیں رہے گا۔ یہ جنگ جتنی جلدی ختم ہو جائے، امریکہ، ایران، خلیجی ریاستوں اور عالمی معیشت کے لیے اتنا ہی بہتر ہوگا۔

مصنف ’صنوبر انسٹی ٹیوٹ‘ کے چیئرمین اور پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ