’فری فلسطین‘ کے نعرے لگانے پر میکلمور، ایڈ شیرن کے ٹور سے باہر

ایڈ شیرن کے امریکی ’لوپ ٹور‘ کے منتظمین کے مطابق آنے والے شوز کے مقامات نے واضح کیا تھا کہ اگر میکلمور پروگرام کا حصہ رہے تو وہ کنسرٹ کی اجازت نہیں دیں گے۔

30  اگست 2026 کو فرانس کے شہر ڈیجون میں میکلمور پرفارم کر رہے ہیں (اے ایف پی)

امریکی ریپر میکلمور کو فلسطین کے حق میں بیانات دینے کے بعد گلوکار ایڈ شیرن کے امریکی دورے کے باقی شوز سے ہٹا دیا گیا ہے۔

ایڈ شیرن کے امریکی ’لوپ ٹور‘ کے منتظمین کے مطابق آنے والے شوز کے مقامات نے واضح کیا تھا کہ اگر میکلمور پروگرام کا حصہ رہے تو وہ کنسرٹ کی اجازت نہیں دیں گے، جس سے پورا دورہ منسوخ ہونے اور لاکھوں مداحوں کے متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔

شو پروموٹر میسینا ٹورنگ گروپ نے ’رولنگ سٹون‘ کو بتایا کہ متعلقہ فریقوں سے بات چیت کے بعد میکلمور کو باقی شوز میں پرفارم نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

میکلمور نے انسٹاگرام پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس خبر کے بعد کیا کہیں، اس لیے وہ ’دل کی بات اور سچ‘ بیان کریں گے۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by BEN (@macklemore)

انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں ایڈ شیرن یا گلوکارہ پنک متاثرہ فریق نہیں بلکہ فلسطین کے وہ ’مرد، خواتین اور بچے‘ اصل متاثرین ہیں جو ان کے بقول ’قتل، بھوک، بے گھری اور ناقابل تصور تشدد‘ کا سامنا کر رہے ہیں۔

میکلمور نے کہا کہ ایڈ شیرن ان کے دوست ہیں اور ان کا ردعمل گلوکار کی شخصیت کو ’نقصان پہنچانے‘ کے لیے نہیں ہے تاہم ان کے بقول ایڈ شیرن سے فون پر کئی مرتبہ بات کے باوجود ’ہماری دوستی سچ بتانے کی میری ذمہ داری تبدیل نہیں کر سکتی۔‘

میکلمور کے مطابق ایڈ شیرن نے انہیں بتایا کہ میسچوسٹس کے گِلٹ سٹیڈیم کے مالک اور کاروباری شخصیت رابرٹ کرافٹ نے کہا تھا کہ اگر میکلمور کو دورے سے نہ ہٹایا گیا تو وہاں ہونے والا کنسرٹ نہیں ہو گا۔

میکلمور نے کہا کہ ایڈ شیرن ایک مشکل صورت حال میں تھے اور ان کا ’غیر سیاسی رہنے کا مؤقف‘ اس نوعیت کے دباؤ کا پہلے کبھی سامنا نہیں کر چکا تھا۔ ان کے مطابق دونوں نے اس معاملے پر گفتگو کی لیکن آخر میں ایڈ شیرن کا مؤقف یہی رہا کہ وہ ’کسی فریق کا ساتھ نہیں لیتے۔‘

میکلمور نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی شخص فریق نہ بننے کا فیصلہ کیوں کر سکتا ہے کیونکہ اس کی ایک قیمت ہوتی ہے، تاہم ’ظالم اور مظلوم کے درمیان کوئی غیر جانب دار مؤقف نہیں ہوتا۔‘

میکلمور نے اسرائیل پر تنقید اور فلسطین کی حمایت کو یہود مخالف جذبات سے جوڑنے پر بھی اعتراض کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا: ’اسرائیل پر تنقید، صہیونیت کی مخالفت یا ’فری فلسطین‘ کہنا جب یہودیوں سے نفرت کے مترادف قرار دیا جاتا ہے تو اس سے یہودیوں کا تحفظ نہیں ہوتا، بلکہ اسرائیل کو جواب دہی سے بچایا جاتا ہے۔‘

میکلمور نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ یہ اختلاف ان کی ایڈ شیرن سے 13 سالہ دوستی کو ختم نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں گلوکار کے ساتھ طے شدہ تمام 10 شوز کی ضرورت بھی نہیں تھی، صرف دو شوز ہی کافی تھے۔

ان کے بقول اگر ’فری فلسطین‘ کہنا ان سے سٹیج چھیننے کا سبب بنا لیکن اس سے اس معاملے پر گفتگو میں کوئی معنی خیز تبدیلی آئی تو ’یہ میرے لیے اب تک کا سب سے کامیاب دورہ ہو گا۔‘

میکلمور اس سے پہلے بھی فلسطین کی حمایت میں کھل کر آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ چار ستمبر کو نیو جرسی میں ایڈ شیرن کے ایک کنسرٹ کے دوران ان کے ’فری فلسطین‘ کہنے کے بعد امریکن اسرائیل کونسل نے ایک درخواست شروع کی تھی جس میں انہیں دورے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

بعد ازاں میکلمور نے سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے الفاظ ’بلند اور واضح‘ ہوں تاکہ ’غزہ سے لے کر مقبوضہ مغربی کنارے تک لوگ جانیں کہ ہم انہیں نہیں بھولے۔‘

یہ بیان دینے کے بعد انہوں نے ’ہندز ہال‘ پیش کیا تھا، جو 2024 میں جاری ہونے والا ان کا احتجاجی گانا ہے اور غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے خلاف احتجاج کرنے والے امریکی طلبہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔

گِلٹ سٹیڈیم کے مالک رابرٹ کرافٹ نے بھی تصدیق کی کہ انہوں نے میکلمور کی موجودگی کی صورت میں ایڈ شیرن کا شو نہ ہونے دینے کی دھمکی دی تھی۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ میکلمور کے ’حالیہ اقدامات، نیو جرسی میں ایڈ شیرن کے شوز کے دوران سٹیج سے کیے گئے بیانات اور یہود مخالف بیانات و تصاویر کی وسیع تر تاریخ‘ کی بنیاد پر کیا گیا۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by BEN (@macklemore)

کرافٹ نے کہا کہ وہ میکلمور کے اس مؤقف سے متفق ہیں کہ بہت زیادہ لوگ مارے گئے اور بہت سے لوگ مصیبت کا شکار ہوئے، تاہم ان کے بقول گزشتہ ایک دہائی سے ان کی توجہ یہود مخالف جذبات اور ہر قسم کی نفرت کے خلاف جدوجہد پر رہی ہے۔

انہوں نے کہا: ’میں میکلمور کے ساتھ بیٹھ کر حقائق پر بات کرنے کا موقع خوشی سے قبول کروں گا، کیونکہ بالآخر ہمارا مقصد ایک ہی ہے — تمام لوگوں کے لیے امن، مصیبت کا خاتمہ اور ہر قسم کی نفرت کا خاتمہ۔‘

میکلمور کی حمایت کرنے والوں میں بچوں کی معروف تفریحی شخصیت مس ریچل بھی شامل ہیں، جنہوں نے کہا کہ ایڈ شیرن کے پاس یہ دکھانے کا موقع تھا کہ ’فلسطین کی حمایت کرنے والے لوگوں کو سزا دینے کے لیے دباؤ میں نہیں آئیں گے‘، لیکن ان کے بقول وہ ’ان لوگوں کے سامنے جھک گئے جو فلسطین کی حمایت قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔‘

سویڈن کی سماجی کارکن گریٹا تھنبرگ نے بھی میکلمور کی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کی حمایت کی اور کہا: ’مکمل یکجہتی، اور آزاد فلسطین۔ ناانصافی اور نسل کشی کے سامنے فنکاروں کی فعال خاموشی فراموش نہیں کی جائے گی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ