’maxxing‘ (میکسنگ) 2026 کا ’ورڈ آف دی ایئر‘ قرار

اس اصطلاح کو بڑے پیمانے پر شہرت اس وقت ملی جب 2020 کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں زیادہ تر مرد کانٹینٹ کری ایٹرز نے ٹک ٹاک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس کے بارے میں گفتگو شروع کی۔

(گرافک: اے آئی کو پائلٹ)

اگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سال 2026 میں ہر چیز اپنی انتہا کو پہنچ گئی ہے، تو اس سال کے منتخب لفظ کو اس کیفیت کے لیے خاصا موزوں کہا جا سکتا ہے۔

ڈکشنری ڈاٹ کام نے پیر کو ’maxxing‘ (میکسنگ) کو 2026 کا ’ورڈ آف دی ایئر‘ قرار دیا۔ لغت کے مطابق اس لفظ سے مراد ’کسی سرگرمی کو بھرپور حد تک انجام دینے یا اپنی زندگی کے کسی خاص پہلو کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنانے کی کوشش‘ ہے۔

ڈکشنری ڈاٹ کام کے مطابق ’maxxing‘ کی جڑیں انگریزی کے الفاظ maximum اور max میں ملتی ہیں اور اسے عموما دوسرے الفاظ کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جاتا ہے۔

گذشتہ ایک سال کے دوران maxxing کے استعمال کی نمایاں ترین مثالوں میں سے ایک ’looksmaxxing‘ (لکس میکسنگ) ہے، یعنی اپنی جسمانی شکل و صورت اور ظاہری شخصیت کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرنے کا عمل۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس اصطلاح کو بڑے پیمانے پر شہرت اس وقت ملی جب 2020 کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں زیادہ تر مرد کانٹینٹ کری ایٹرز نے ٹک ٹاک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس کے بارے میں گفتگو شروع کی۔ رواں سال کے اوائل میں اے بی سی نیوز کے پروگرام ’IMPACT x Nightline: LOOKSMAXXED‘ میں بھی اس رجحان کے بارے میں رپورٹ کیا گیا تھا۔

رواں سال ’looksmaxxing‘ میں لوگوں کی دلچسپی میں نمایاں اضافہ ہوا۔ ڈکشنری ڈاٹ کام کے مطابق اسی سال ’maxxing‘ کی سرچ میں بھی تیزی آئی اور یہ لفظ بذات خود ایک ٹرینڈ بن گیا۔

’Maxxing‘ بطور فعل بھی استعمال ہوتا ہے اور اب اسے کسی دوسرے لفظ کے بغیر بھی بولا جانے لگا ہے، مثلا: ’میں اپنی زندگی کی ہر چیز کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنا رہا ہوں۔‘

’Maxxing‘ ان تازہ الفاظ میں شامل ہے جن کا استعمال پہلے سوشل میڈیا اور انفلوئنسرز میں شروع ہوا اور پھر یہ عام بول چال کا حصہ بن گئے۔ گذشتہ سال skibidi، delulu، tradwife اور lewk جیسے الفاظ بھی Cambridge Dictionary میں شامل کیے گئے تھے۔

ڈکشنری ڈاٹ کام کے مطابق یہ اصطلاح روایتی ’brainrot‘ سلیگ کی پیداوار ہے، جس میں ’جان بوجھ کر بے معنی اور بے تکی زبان استعمال کی جاتی ہے اور اصل دلچسپی اسی مضحکہ خیز بے معنویت کا حصہ بننے میں ہوتی ہے۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ