’خاموش وبا‘: جنریشن زی روزانہ 451 الفاظ کم کیوں بول رہی ہے؟

حقیقی زندگی میں جنریشن زی کی اپنی نسل سے باہر کے لوگوں سے بات چیت کرنے کی صلاحیت میں جو کمی آئی ہے، وہ حیران کن ہے اور حالات مسلسل بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔

8 جون 2021 کو ایران کے دارالحکومت تہران میں واقع مصنوعی جھیل چیتگر کے کنارے ایک ایرانی نوجوان ہیڈفون لگائے دوڑ لگا رہا ہے (عطا کنارے / اے ایف پی)

چند ہفتے پہلے مجھ سے میرا ایک ہیڈفون گم ہو گیا۔ یہ ایک عجیب احساس تھا، جیسے مجھے زبردستی اپنے اردگرد کے ماحول کو محسوس کرنا پڑ رہا ہو۔ میری عمر 24 سال ہے اور عام طور پر میری زندگی کا طریقہ یہی ہے کہ میں اپنے اردگرد کی ہر چیز کو ایک فاصلے پر رکھوں۔ لیکن اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ تھی کہ میں خود کو تقریباً ہر اس اجنبی سے بات کرنے پر مجبور پاتی تھی جس سے میرا سامنا ہوتا تھا۔

چاہے وہ اپنے کتے کو گھمانے والی کوئی خاتون ہو یا اسی راہداری میں خریداری کرنے والا کوئی شخص، ہم باتیں کرنے لگتے تھے۔ اور یہ تجربہ حیرت انگیز طور پر بہت اچھا تھا۔

اس ماہ جریدے Perspectives on Psychological Science میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق سروے میں شامل افراد کے روزانہ بولے جانے والے اوسط الفاظ کی تعداد 2005 سے 2019 کے درمیان ہر سال تقریباً 338 الفاظ کم ہوتی گئی۔ یہ بہت بڑی کمی ہے۔ مجموعی طور پر یہ تقریباً 28 فیصد کمی بنتی ہے، یا یوں کہیے کہ روزانہ 20 سے 30 جملے کم۔

25 سال سے کم عمر شرکا میں یہ کمی اور بھی زیادہ تھی۔ ان میں 2005 کے بعد گزرنے والے ہر سال کے ساتھ اوسطاً 451 الفاظ کم ہو گئے۔ دوسرے الفاظ میں نوجوان شرکا بزرگ شرکا کے مقابلے میں سالانہ تقریباً 44 فیصد زیادہ الفاظ کھو بیٹھے۔

ایک ایسے انسان کے طور پر جو محسوس کرتا ہے کہ وہ حقیقی دنیا جتنا ہی وقت ڈیجیٹل دنیا میں بھی گزارتا ہے، میرا خیال ہے کہ یہ 451 کھوئے ہوئے الفاظ دراصل وہ باتیں ہیں جو ہم پہلے اجنبیوں کے ساتھ کیا کرتے تھے۔

جہاں ہم کبھی دکان کے سیلز اسسٹنٹ سے بات کرتے تھے، وہاں اب ’سیلف چیک آؤٹ‘ مشینیں ہیں۔ جہاں ہم کبھی کافی بنانے والے عملے سے گپ شپ کرتے تھے، وہاں اب ہم موبائل ایپس کے ذریعے کافی منگواتے ہیں اور خاموشی سے قطار میں کھڑے رہتے ہیں، یہاں تک کہ کوئی اپنا ہاتھ بلند کر کے کپ دکھاتے ہوئے زور سے پکارے: ’ایسمو!‘

اور جہاں ہم کبھی اپنے کتوں کو گھمانے نکلتے تھے اور دوسرے لوگوں سے بات کرتے تھے، وہاں اب ہم ہیڈفون لگا لیتے ہیں اور ایسا ظاہر کرتے ہیں جیسے دنیا کا وجود ہی نہ ہو۔

اجنبیوں کے ساتھ میل جول اب روزمرہ زندگی کا عام حصہ نہیں رہا۔ اب ایسی ملاقاتیں ہمیں صرف اس لیے یاد رہ جاتی ہیں کیونکہ وہ اتنی نایاب ہو چکی ہیں۔ ہماری موجودہ زندگی نہ تو ہم سے نامعلوم لوگوں سے گفتگو کا تقاضا کرتی ہے اور نہ ہی ایسے مواقع فراہم کرتی ہے۔

اور اس کے اثرات اب واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔

یہ بات پہلے ہی اچھی طرح دستاویزی شکل میں موجود ہے کہ ہم اس وقت ایک ایسی ’تنہائی کی وبا‘ سے گزر رہے ہیں جو اتنی شدید ہو چکی ہے کہ میری نسل سوشل میڈیا پر ’لونلی نیس انفلوئنسرز‘ کو پسند اور فالو کرتی ہے۔

یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی دوستوں سے محروم، تنہا نوجوان زندگی کی کہانیاں آن لائن شیئر کرتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ فالوورز حاصل کر سکیں۔

وہ چھوٹی ویڈیوز بناتے ہیں جن میں دکھایا جاتا ہے کہ وہ جمعے کی رات کس طرح تنہا اپنے گھر میں گزارتے ہیں، حالانکہ وہ نیویارک جیسے پرکشش اور متحرک شہروں میں رہتے ہیں، یعنی ایسے مقامات جہاں لوگ عموماً بھرپور سماجی زندگی کی توقع کے ساتھ رہنے کا انتخاب کرتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی طرح ’سافٹ ہرمٹنگ‘ یعنی سماجی روابط سے شعوری طور پر دور رہنے کا رجحان بھی ٹک ٹاک پر وائرل ہو چکا ہے۔ RiseGuid کے ایک سروے کے مطابق جنریشن زی کے 32 فیصد افراد نے سال کے دوران ایک سے تین دن تک کسی دوسرے انسان سے بات کیے بغیر گزارے۔

اس کے علاوہ ایک اور نقصان بھی ہو رہا ہے، جو زیادہ خاموش لیکن اتنا ہی خطرناک ہے۔ یہ ایک تدریجی تبدیلی ہے جو ہماری پوری نسل کے دنیا سے تعلق رکھنے کے انداز میں پیدا ہو رہی ہے۔ ہم نے سہولت اور رفتار کی خاطر وہ 451 الفاظ قربان کر دیے ہیں، اور اس کے نتیجے میں ہم ایک بہت اہم چیز کھو رہے ہیں۔

یہ نقصان مختلف نسلوں کے درمیان رابطے کا نقصان ہے۔

یہ مختلف پس منظر رکھنے والے لوگوں کے درمیان گفتگو کا نقصان ہے۔

یہ ان افراد کے درمیان مکالمے کا نقصان ہے جو مختلف عقائد رکھتے ہیں یا دنیا کو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں۔

یقیناً ہم اب بھی اپنے دوستوں اور سماجی حلقوں میں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں، لیکن یہ گفتگو روز بروز ان ہی محدود دائروں تک سمٹتی جا رہی ہے۔

جب میں نے اپنی تحقیق کے نتائج دوستوں کے ساتھ شیئر کیے تو ایک دوست نے کہا: ’اچھا، یہ بات مکمل طور پر درست نہیں ہے۔ پچھلے ہفتے میری پارک میں ایک خاتون سے بات ہوئی تھی۔ بہت شان دار تجربہ تھا!‘ یہ سن کر خوشی ہوئی، لیکن یہی تو میرا اصل نکتہ ہے۔

اگر کسی اجنبی سے چند منٹ کی عام سی گفتگو اب ایک غیرمعمولی اور یادگار واقعہ محسوس ہونے لگی ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ ایسی بات چیت ہماری زندگیوں سے تقریباً غائب ہو چکی ہے۔

اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ بالکل سوشل میڈیا کی طرح ہماری دنیا بھی تیزی سے ایسے ’ایکو چیمبرز‘ میں تبدیل ہو رہی ہے جہاں ہمیں صرف اپنی ہی طرح کی آراء اور خیالات سننے کو ملتے ہیں۔ اس سے ان لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنا اور بھی مشکل ہو جاتا ہے جنہیں ہم ’اجنبی‘ سمجھتے ہیں، اور یوں معاشرے میں موجود تقسیم مزید گہری ہوتی جاتی ہے۔ کل رات میری بہن نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں سالگرہ پر نئے ہیڈفون لینا چاہوں گی؟

ماننا پڑے گا، یہ ایک پرکشش پیشکش تھی۔ جب بھی آپ چاہیں دنیا اور اس میں موجود لوگوں کی آوازوں کو اپنے کانوں سے دور کر دینے کی صلاحیت میں واقعی ایک عجیب سکون ہوتا ہے۔

لیکن کچھ غور و فکر کے بعد مجھے احساس ہوا کہ شاید میں ان 451 الفاظ کو زیادہ مس کروں گی۔

© The Independent

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ