پاکستان نے منگل کو کہا کہ وہ ان اطلاعات کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ صومالی قزاقوں کے قبضے میں موجود ایک ٹینکر کو چھوڑ دیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت انسانی حقوق کی تنظیم انصار برنی ٹرسٹ کی جانب سے ایسی ریکارڈنگز جاری کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے، جن کے بارے میں تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ عملے کے ارکان کی جانب سے بھیجی گئی تھیں اور ان میں پانچ افراد کی اموات اور چار کے زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔
پلاؤ کے پرچم بردار ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کو 21 اپریل کو صومالیہ کے شمال مشرقی علاقے پنٹ لینڈ کے قریب سے قبضے میں لیا گیا تھا۔
اس پر 17 افراد سوار تھے، جن میں 10 پاکستانی سیلرز بھی شامل تھے جن کے اہل خانہ پانچ ماہ سے زائد عرصے سے اپنے پیاروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور ان کی رہائی کی اپیلیں کر رہے ہیں۔
پنٹ لینڈ صومالیہ کا ایک نیم خودمختار علاقہ ہے، جہاں میری ٹائم پولیس نے قزاقوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے عرب نیوز کو بتایا: ’جبوتی میں ہمارا مشن، جو بیک وقت صومالیہ کے لیے بھی تسلیم شدہ ہے، نے جہاز کی رہائی سے متعلق غیر مصدقہ اطلاعات موصول کی ہیں۔ مشن متعلقہ حکام سے رابطے میں ہے تاکہ حقائق کا تعین کیا جا سکے۔ باضابطہ تصدیق دستیاب ہونے کے بعد مزید معلومات شیئر کی جائیں گی۔‘
پاکستانی انسانی حقوق کی تنظیم انصار برنی ٹرسٹ نے منگل کو عرب نیوز کو فون کالز کی ریکارڈنگز فراہم کیں۔ تنظیم کے مطابق اسے یہ ریکارڈنگز اسی روز موصول ہوئی تھیں۔
ریکارڈنگز میں آوازیں گولیوں کی فائرنگ، اموات اور زخمی سیلرز کے بارے میں بتا رہی تھیں۔
عرب نیوز نے یہ ریکارڈنگز سنیں، تاہم آزادانہ طور پر یہ تعین نہیں کر سکا کہ یہ کب بنائی گئی تھیں، ان میں موجود افراد کی شناخت کی تصدیق نہیں کر سکا اور نہ ہی ان کے بیانات کی آزادانہ طور پر تصدیق کر سکا۔
دوسری جانب صومالیہ کے ایک نیوز ادارے نے رپورٹ کیا کہ پنٹ لینڈ کی میری ٹائم پولیس نے جہاز کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور اس کا عملہ محفوظ ہے۔
یہ دعویٰ ریکارڈنگز میں سامنے آنے والی اطلاعات سے متصادم ہے۔ عرب نیوز اس نیوز ادارے کی رپورٹ کی بھی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا اور نہ ہی پنٹ لینڈ کے حکام سے باضابطہ تصدیق حاصل کر سکا۔
انصار برنی ٹرسٹ نے کہا کہ ایک شخص، جسے اس نے ٹینکر کا انڈونیشی کپتان قرار دیا، نے فون پر بتایا کہ عملے کے پانچ ارکان جان سے گئے ہیں، جن میں تین پاکستانی، ایک انڈین اور میانمار کا ایک شہری شامل ہے۔
ٹرسٹ کے مطابق ایک اور شخص، جسے اس نے پاکستانی انجینیئر سید حسین یوسف کے طور پر شناخت کیا، نے بتایا کہ چار افراد زخمی ہوئے ہیں اور فوری طبی امداد کی اپیل کی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تاہم اموات کی تعداد اور جان سے جانے والے افراد کی شناخت کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
یوسف سے منسوب ریکارڈنگ میں فون کرنے والے شخص نے کہا کہ جہاز کا سٹیئرنگ خراب ہو گیا ہے اور ایک اور جہاز اسے پنٹ لینڈ کی بندرگاہ بوساسو کی جانب کھینچ کر لے جا رہا ہے۔
عرب نیوز ٹینکر کی موجودہ جگہ، اس کی حالت یا اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ جہاز پر موجود کسی شخص تک طبی امداد پہنچی ہے یا نہیں۔
یہ اطلاعات گZشتہ ہفتے ایک اور ٹینکر سیبو ون کے عملے کو قزاقوں سے بچائے جانے کے بعد سامنے آئی ہیں۔
منگل کی اطلاعات سے قبل ایم ٹی آنر 25 کے عملے کے طور پر شناخت کیے جانے والے افراد نے ٹرسٹ کو خبردار کیا تھا کہ اگر سکیورٹی فورسز نے ان کے جہاز کے خلاف اسی طرح کی کارروائی کی تو قزاق یرغمالیوں کو قتل کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔
رواں سال صومالیہ اور خلیج عدن کے اطراف قزاقوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اگست میں بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن نے کہا تھا کہ خطے میں 90 سے زیادہ ملاح قید ہیں اور خبردار کیا تھا کہ ان میں سے بعض کو مناسب خوراک، پانی اور طبی سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔