صومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے پاکستانی شہریوں نے پیر کو جاری کی گئی ایک ویڈیو میں پاکستانی قیادت اور آرمی چیف سے اپنی جلد از جلد رہائی کے لیے اقدامات کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے جہاز کی مالک کمپنی قزاقوں سے کسی قسم کی بات چیت نہیں کر رہی۔
21 اپریل کو صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں نے ’ایم ٹی آنر 25‘ نامی آئل ٹینکر کو اغوا کر لیا تھا، جس پر سوار 17 رکنی عملے میں 10 پاکستانی شہری بھی شامل تھے، جنہیں قزاقوں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔
یہ افراد گذشتہ 43 روز سے ان قزاقوں کی قید میں ہیں، جن کی بحفاظت واپسی کے سلسلے میں اہلِ خانہ کراچی میں احتجاج بھی کر چکے ہیں اور حکومتِ پاکستان سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
یکم جون کو قزاقوں کی جانب سے ایک نئی ویڈیو جاری کی گئی جس میں یاسر حسین سمیت دیگر پاکستانی شہریوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں تمام یرغمالی بظاہر نڈھال دکھائی دیتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یاسر خان نے ویڈیو پیغام میں اپنی اور دیگر ساتھیوں کی ابتر صورت حال بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پینے کے لیے زرد رنگ کا آلودہ پانی دیا جا رہا ہے، جو ٹینک کا پانی ہے، جبکہ خوراک کے نام پر صرف 24 گھنٹوں میں ایک مرتبہ ابلے ہوئے چاول فراہم کیے جاتے ہیں۔
یاسر خان نے کہا کہ جہاز چلانے والی کمپنی کی جانب سے بھی کوئی واضح معلومات یا پیش رفت سے آگاہ نہیں کیا جا رہا۔ ’ہماری کمپنی وارف شارٹرنگ کمپنی ہے، وہ کسی قسم کی ان سے بات چیت نہیں کر رہی ہے۔۔۔ جو یہ (قزاق) چاہ رہے ہیں ان کی ڈیمانڈ نہ پوری کی جا رہی ہے، نہ ہمیں بتایا جارہے کہ ہم کب تک یہاں سے ریلیز ہو سکیں گے یا کیا ہوگا؟‘
انہوں نے پاکستانی وزیراعظم، صدر مملکت اور آرمی چیف سے اپیل کی کہ ان کی جلد از جلد رہائی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
بقول یاسر خان: ’ہماری مدد کریں، ورنہ ہم مزید زندہ نہیں رہ پائیں گے۔‘
انڈپینڈنٹ اردو نے اس حوالے سے پاکستانی دفتر خارجہ سے رابطہ کیا، جہاں ترجمان اندرابی نے نمائندہ قرۃ العین شیرازی کو بتایا کہ صومالی قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی جلد رہائی کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا: ’ہم صومالی حکومت اور جہاز کے مالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، جو قزاقوں کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھا رہے ہیں۔‘
دوسری جانب یاسر خان کی اہلیہ مہوش خان نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’ان کی شوہر سے صرف دو سے تین منٹ کی بات کروائی جاتی ہے، جس کے دوران وہ مختصر طور پر اپنی خیریت اور مشکلات سے آگاہ کرتے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’عید کے روز ہونے والی آخری گفتگو میں یاسر نے بتایا تھا کہ مزید قزاق گروہ بھی جہاز تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
مہوش کے مطابق جہاز کی حالت پہلے ہی انتہائی خراب تھی اور اسے سکریپ کیے جانے کی باتیں کی جا رہی تھیں۔
دوسری جانب یرغمالی امین بن شمس کی اہلیہ عائشہ امین نے بتایا کہ شوہر سے ان کی آخری بار بات عید کے روز ہوئی تھی، جس میں انہوں نے مطلع کیا کہ ’جہاز کا انجن خراب ہو چکا ہے اور وہ سمندر میں ایک ہی مقام پر کھڑا ہے جبکہ سمندر میں خراب موسم کے باعث صورت حال مزید سنگین ہو چکی ہے اور دوسرے قزاق گروہ بھی جہاز پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم موجودہ قزاق مبینہ طور پر جوابی فائرنگ کر کے انہیں دور بھگا رہے ہیں۔‘
امبرین یوسف کے شوہر بھی اسی جہاز پر یرغمال ہیں، انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’یکم جون کو موصول ہونے والی ویڈیو قزاقوں کی جانب سے اہلِ خانہ کو بھیجی گئی ہے۔‘
ان کے مطابق اس سے قبل بھی ان کے شوہر اور دیگر افراد سے ویڈیو بنوا کر اہلِ خانہ تک پہنچائی گئی تھی۔
امبرین یوسف نے روتے ہوئے کہا کہ ان کے خاندان کے لیے ہر دن ایک نئی آزمائش بن چکا ہے۔ ’بچے روز پوچھتے ہیں کہ بابا کب واپس آئیں گے، لیکن میرے پاس ان کے سوال کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’ہمیں نہیں معلوم کہ ہماری حکومت اس معاملے میں کیا اقدامات کر رہی ہے۔ وہاں انہیں آلودہ پانی پینے کے لیے دیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے ان کی صحت مسلسل خراب ہو رہی ہے اور ان کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔‘