وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے منگل کو صومالیہ کی حکومت سے سمندری جہاز ’اونر 25‘ پر موجود پاکستانی عملے کی بحفاظت بازیابی کے لیے فوری تعاون کی اپیل کی ہے۔
21 اپریل کو صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں کی جانب سے ’آنر 25‘ نامی آئل ٹینکر کو یرغمال بنانے کی خبریں سامنے آئی تھیں، جس میں 10 پاکستانی بھی سوار تھے۔
سوشل میڈیا پر ان افراد کے اہل خانہ کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیوز اور وائس نوٹس میں یرغمال بنائے گئے افراد کی حالت سے متعلق تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے ان کی بازیابی میں مدد کی اپیل کی گئی ہے۔
جہاز کے عملے کے ارکان میں سے 10 پاکستانی، چار انڈونیشین، ایک میانمار، ایک انڈیا اور ایک سری لنکا کے شہری ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسی تناظر میں منگل کو وزارت بحری امور کی جانب سے صومالیہ کے سفیر شیخ نور محمد حسن کو ارسال کیے گئے خط میں کہا گیا کہ یہ ’جہاز صومالیہ کے ساحلی پانیوں میں مبینہ طور پر قزاقی حملے کا نشانہ بنا ہے، جس کے باعث جہاز پر موجود پاکستانی عملے کی سلامتی اور بہبود کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے۔‘
خط میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے صومالیہ کی حکومت سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ حکام کے ساتھ رابطہ کر کے پاکستانی عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے اور ان کی محفوظ واپسی کے لیے اقدامات کرے۔
وزارت بحری امور نے اپنے پیغام میں پاکستان اور صومالیہ کے درمیان خوشگوار تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ’صومالیہ اس انسانی ہمدردی کے معاملے میں مکمل تعاون فراہم کرے گا۔‘
خط میں اس معاملے پر فوری توجہ دینے کی بھی درخواست کی گئی اور کہا گیا ہے کہ پاکستانی عملے کی بحفاظت رہائی حکومتِ پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔
اس سے قبل وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے 25 اپریل کو فیس بک پوسٹ میں بتایا تھا کہ صومالیہ کے قریب سمندر میں بحری قزاقوں کے آئل ٹینکر پر حملے کے واقعے کے بعد پاکستانی حکام نے فوری طور پر ریسکیو کوششیں تیز کر دی ہیں۔
انہوں نے بتایا تھا کہ وزارت بحری امور نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے اور متعلقہ اداروں کو ریسکیو آپریشن مزید مؤثر بنانے کی ہدایت جاری کی ہے۔
وزارت بحری امور کے مطابق تمام متعلقہ ادارے مسلسل رابطے میں ہیں اور صورت حال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔