امریکی فوج کے انخلا کے فیصلے سے صومالیہ میں مزید انتشار کا خدشہ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی فوجیوں کو صومالیہ سے نکالنے کے فیصلے سے انتشار میں گھرے افریقی ملک میں خوف پھیل گیا اور وہاں واشنگٹن سے اس فیصلے پر نظر ثانی کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔

طویل عرصے سے صومالیہ میں موجود  امریکی فوجی زیادہ تر  الشباب کے خلاف کارروائیوں میں صومالی سپیشل فورسز کی مدد کرتے ہیں(اے ایف پی)

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اپنے عہدِ صدارت کے اختتام پر امریکی فوجیوں کو صومالیہ سے نکالنے کے فیصلے سے انتشار کے شکار افریقی ملک میں خوف پھیل گیا اور وہاں واشنگٹن سے اس فیصلے پر نظر ثانی کرنے کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔

صومالی سینیٹر ایوب اسماعیل یوسف نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو القاعدہ سے منسلک شدت پسند تنظیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’الشباب اور ان کے عالمی دہشت گرد نیٹ ورک کے خلاف کامیاب لڑائی کے دوران اس نازک مرحلے پر صومالیہ سے فوجیوں کو نکالنے کا امریکی فیصلہ انتہائی افسوس ناک ہے۔‘ یوسف نے، جو صومالیہ کی سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے رکن بھی ہیں، مزید کہا: ’امریکی فوج نے صومالی فوجیوں کی تربیت اور آپریشنل تیاریوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔‘

سینیٹر یوسف نے صدر ٹرمپ کے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے ایک ٹویٹ بھی کی جس میں انہوں نے امریکہ کے نو منتخب صدر جو بائیڈن کو ٹیگ کیا۔ صدر ٹرمپ نے جمعے کو اعلان کیا تھا کہ وہ 15 جنوری تک صومالیہ سے تمام 700 امریکی فوجیوں کو واپس بلا لیں گے۔

صومالیہ کی بین الاقوامی حمایت یافتہ حکومت نے رواں ماہ پارلیمانی انتخابات اور فروری کے شروع میں قومی انتخابات کرانا ہیں جس کے بعد افریقی یونین کی امن فورس کے 17 ہزار فوجیوں کے انخلا پر بھی منصوبہ بندی کے مطابق عمل درآمد ہونا ہے۔

امریکی فوجی طویل عرصے سے صومالیہ میں موجود ہیں جہاں زیادہ تر وہ الشباب کے خلاف کارروائیوں میں صومالی سپیشل فورسز کی مدد کرتے ہیں۔ اس تنطیم کے صومالیہ کے علاوہ کینیا اور یوگنڈا جیسے ممالک میں کیے گئے حملوں میں امریکیوں شہریوں سمیت سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

انخلا کے صومالی فورسز پر اثرات

صومالی نیشنل فورس کی خصوصی بریگیڈ ’داناب‘ کو زیادہ بوجھ کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ باقاعدہ فوج اکثر کم تربیت یافتہ اور ناقص اسلحے سے لیس ہوتی ہیں۔ صومالی افواج علاقائی اور قومی حکومتوں کے مابین اقتدار کی جنگ میں بھی شامل ہو جاتی ہیں۔ داناب کمانڈر کی حیثیت سے 2019 تک خدمات انجام دینے والے کرنل احمد عبد اللہ شیخ نے کہا: ’اگر (امریکی افواج) مستقل طور پر انخلا کرتی ہیں تو اس سے صومالیہ میں انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو بہت بڑا نقصان پہنچے گا۔‘

کرنل شیخ نے کہا کہ انہوں نے امریکی فوج کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑی ہے اور ان کی کمان کے دوران دو امریکی اور سو سے زیادہ صومالی اہلکاروں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اور صومالی افواج نے پہلے بھی انخلا کی مخالفت کی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کرنل شیخ نے کہا امریکی منصوبے کے تحت داناب کو تین ہزار اہلکاروں تک بڑھانا اور اس پروگرام کو 2027 تک جاری رکھنا تھا  لیکن اب اس کا مستقبل واضح نہیں۔

ماہرین کے مطابق صومالیہ سے انخلا کے بعد ممکنہ طور پر کینیا اور جبوتی کے فوجی اڈوں سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے جاری رہیں گے اور یہ فوجی اڈے سرحد پار کارروائیوں کے لیے لانچ پیڈ بھی فراہم کرسکتے ہیں۔ حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ گذشتہ تین سالوں میں فضائی حملوں میں کم از کم 16 عام شہری ہلاک ہوئے ۔

امریکہ نے ایک ایسے وقت پر انخلا کا فیصلہ کیا ہے جب یہ افریقی خطہ پہلے ہی پریشان کن حالات کا سامنا کر رہا ہے۔ صومالیہ میں موجود امن فورس میں بڑا حصہ ڈالنے والے ہمسایہ ملک ایتھوپیا میں گذشتہ ماہ ہی ایک داخلی تنازعے نے سر اٹھایا ہے۔ ایتھوپیا نے اپنے سینکڑوں امن فوجیوں کو پہلے ہی غیر مسلح کردیا ہے۔

صومالیہ میں 1991 سے خانہ جنگی کا رجحان رہا ہے لیکن 2008 میں امن فوج کی تعیناتی سے صورت حال کو قابو کرنے میں مدد ملی تھی۔ صومالی فوج کو کرپشن اور سیاسی مداخلت سمیت بہت سارے مسائل کا بدستور سامنا ہے۔ جیسا کہ کرنل شیخ کا کہنا ہے کہ شاید انخلا صومالیہ کو ان (اپنی ہی فوج) کا مقابلہ کرنے پر مجبور کردے گی یا شاید حالات بدتر ہو جائیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی افریقہ