پاکستان اور افغانستان کے حکام نے ایک مرتبہ پھر پیر کو رات گئے افغانستان میں ایک جان لیوا حملے سے متعلق متضاد دعوے کیے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے پی نے افغان حکام کے حوالے سے بتایا کہ پیر کو پاکستان کی جانب سے مبینہ طور پر داغے گئے مارٹر گولوں اور میزائلوں نے شمال مشرقی افغانستان میں ایک یونیورسٹی اور شہری مکانات کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں سات افراد جان سے گئے اور اور کم از کم 85 زخمی ہوئے۔
پاکستان نے یونیورسٹی کو نشانہ بنانے کے الزام کی تردید کی ہے۔ یہ حملے اس ماہ کے اوائل میں چین کی ثالثی میں ہونے والے امن مذاکرات کے بعد پہلا پُرتشدد واقعہ تھا۔
پاکستان اور افغانستان گذشتہ کئی ماہ سے جان لیوا جھڑپوں میں الجھے ہوئے ہیں، جن میں فروری کے آخر سے اب تک سینکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں۔
یہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب افغانستان نے پاکستان کے اندر فضائی حملوں کے جواب میں سرحد پار حملہ کیا۔ اسلام آباد نے اعلان کیا تھا کہ وہ افغانستان کے ساتھ کھلی جنگ کی حالت میں ہے، جس سے بین الاقوامی برادری میں تشویش پیدا ہوئی۔
کنڑ کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے ڈائریکٹر نجیب اللہ حنفی کے مطابق مرنے والوں کی تعداد سات ہے جبکہ 85 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
فطرت نے کہا کہ زخمیوں میں خواتین، بچے اور سید جمال الدین افغانی یونیورسٹی کے طلبہ شامل ہیں، اور انہوں نے ان حملوں کو ’ناقابلِ معافی جنگی جرم، بربریت اور اشتعال انگیز اقدام‘ قرار دیا۔
افغانستان کی وزارتِ اعلیٰ تعلیم کے مطابق یونیورسٹی پر حملے میں تقریباً 30 طلبہ اور اساتذہ زخمی ہوئے، جبکہ عمارتوں اور کیمپس کو شدید نقصان پہنچا۔
معلومات کے مطابق حملوں میں کنڑ کے صدر مقام اسد آباد، سرکانو اور مروڑہ اضلاع کو نشانہ بنایا گیا۔
پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات کے فیکٹ چیکر ونگ نے تاہم کہا ہے کہ افغان میڈیا میں نشر ہونے والی یہ خبر فیک نیوز ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ’پاکستانی فوج نے افغانستان کے صوبہ کنڑ میں میزائل یا فضائی حملے کیے۔‘
انڈپینڈنٹ اردو نے سکیورٹی ذرائع سے اس بارے میں رابطہ کیا تو انہوں نے یہ فیکٹ چیک ٹویٹ فارورڈ کیا۔
وزارت اطلاعات و نشریات کے فیکٹ چیکر اکاؤنٹ پر کہا گیا ہے کہ طلوع نیوز کی جانب سے 27 اپریل 2026 کو شائع ہونے والی حملوں کی خبر جس میں ’سید جمال الدین افغان یونیورسٹی‘ اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، اور جس کے نتیجے میں تین افراد جان سے گئےاور 45 زخمی ہوئے، ’سراسر جھوٹ ہے۔‘
وزارت کے مطابق یہ بات ’بے بنیاد اور من گھڑت‘ ہے اور اس کا مقصد افغان طالبان کی جانب سے شدت پسند گروہوں، خصوصاً ’فتنہ الخوارج‘، کی مبینہ حمایت کو چھپانا ہے۔
فیکٹ چیکر ونگ نے مزید کہا ہے کہ پاکستان کی کارروائیاں انٹیلی جنس بنیادوں پر اور انتہائی درستگی پر مبنی ہوتی ہیں، اور مذکورہ یونیورسٹی پر کسی قسم کا کوئی حملہ نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بیان میں بتایا گیا کہ ’یہ ایک پرانا طریقہ کار ہے جس کے تحت بعض افغان میڈیا ادارے دہشت گرد گروہوں کی حمایت کو چھپانے کے لیے جھوٹی خبریں پھیلاتے ہیں، جنہیں بعد ازاں انڈین میڈیا بھی بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔‘
وزارت اطلاعات نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ’سچ ہمیشہ جھوٹ پر غالب آتا ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’اس قسم کی افسوس ناک حرکتیں اور الزامات بے بنیاد ہیں۔ تاہم یہ واضح رہنا چاہیے کہ آپریشن غضب لِلحق کے تحت جب بھی اور جہاں بھی پاکستان افغانستان میں موجود دہشت گرد انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے گا، تو ماضی کی طرح اس کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا، اس کی مکمل ذمہ داری قبول کی جائے گی اور دہشت گردوں کی معاونت کرنے والے ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے ٹھوس شواہد بھی فراہم کیے جائیں گے۔‘
دوسری جانب باجوڑ پولیس نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ افغانستان کی جانب سے توپوں کی فائرنگ سے تقریباً دو گولے تھانہ لؤی ماموند کے علاقے لعڑی میں آ گرے تاہم تاحال کسی جانی و مالی نقصان کے اطلاع نہیں ملی۔