پاکستان بھر میں ٹرانسپورٹر کی جانب سے احتجاج اور ہڑتال گذشتہ چھ روز سے جاری ہے جس سے ملکی میعشت کو شدید نقصان پہنچنے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں۔
حکومت سے مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہونے کے بعد آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز الائنس نے 8 اگست کو ہڑتال شروع کی جس سے ملک میں سامان کی ترسیل اور برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا، کیوں کہ بندرگاہوں، کارخانوں اور منڈیوں کے درمیان سامان پہنچانے کے لیے پاکستان کا زیادہ انحصار سڑکوں کے ذریعے مال برداری پر ہے۔
ٹرانسپورٹروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ تبدیلی کا فیصلہ واپس لے اور اس کے بجائے قیمتوں کا تعین ماہانہ بنیاد پر کرے۔
حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان دو مرتبہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد جمعرات کو ہونے والا مذاکراتی دور بھی بے نتیجہ ختم ہو گیا ہے۔
آل ٹرانسپورٹر کے صدر محمد اویس چودھری نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ ’حکومت کے ساتھ تفصیلی مذاکرات ہوئے، لیکن ٹرانسپورٹرز کے بنیادی مطالبات پر ابھی تک کوئی حتمی اور قابلِ عمل فیصلہ سامنے نہیں آیا۔‘
تاہم حکومت کی جانب سے تاحال اس بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس سے قبل پاکستانی حکومت نے گڈز ٹرانسپورٹرز کو درپیش مسائل کے حل کے لیے پیر کو ان کے نمائندوں کو اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے مدعو کیا تھا جبکہ وفاقی وزیر مواصلات علیم خان نے گڈز ٹرانسپورٹروں کو یقین دلایا تھا کہ ان کے ’جائز مطالبات‘ ترجیحی بنیادوں پر پورے کیے جائیں گے اور ان کے مسائل جلد حل کر دیے جائیں گے۔
جبکہ کراچی کمشنر کے ترجمان نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’کمشنر کراچی سید حسن نقوی کی صدارت میں ان کے دفتر میں پیر کو اہم جائزہ اجلاس ہوا تھا جس کا مقصد شہر میں ٹرانسپورٹ سے وابستہ مختلف مسائل کا حل تلاش کرنا تھا۔‘
تاہم ان تمام کوششوں کے باوجود گڈ ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال گذشتہ چھ روز سے جاری ہے۔
آل ٹرانسپورٹر کے صدر اویس چوہدری نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں ملکی معیشت اور ٹرانسپورٹر کو درپیش مالی بحران کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’چھ روز کی معطلی کے باعث اب تک معیشت کو 50 ارب روپے کا بھاری نقصان ہو چکا ہے۔‘
اس ہڑتال سے جہاں قومی معیشت متاثر ہو رہی ہے، وہیں ٹرانسپورٹرز کو بھی ذاتی طور پر بڑا مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، ٹرانسپورٹر اس نقصان کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں۔