گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کا دوسرا روز، حکومت کی مسائل ’جلد حل‘ کیے جانے کی یقین دہانی

وفاقی وزیر مواصلات نے گڈز ٹرانسپورٹروں کو یقین دلایا ہے کہ ان کے ’جائز مطالبات‘ ترجیحی بنیادوں پر پورے کیے جائیں گے۔

پاکستان کے شہر صوابی میں 24 نومبر 2024 کو سڑک کو شپنگ کنٹینرز اور مال بردار ٹرکوں کے ذریعے بند کیے جانے کا فضائی منظر۔ (اے ایف پی/فائل)

پاکستانی حکومت نے کہا ہے کہ گڈز ٹرانسپورٹرز کو درپیش مسائل جلد حل کر لیے جائیں گے اور ان کے نمائندوں کو پیر کے روز اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے مدعو کیا گیا ہے، جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل اور ٹول ٹیکس میں اضافے کے خلاف ملک گیر ہڑتال دوسرے روز میں داخل ہو گئی ہے۔

وفاقی وزیر مواصلات علیم خان نے گڈز ٹرانسپورٹروں کو یقین دلایا ہے کہ ان کے ’جائز مطالبات‘ ترجیحی بنیادوں پر پورے کیے جائیں گے اور ان کے مسائل جلد حل کر دیے جائیں گے۔

حکومت سے مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہونے کے بعد آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز الائنس نے ہفتے کو ہڑتال شروع کی جس سے ملک میں سامان کی ترسیل اور برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، کیوں کہ بندرگاہوں، کارخانوں اور منڈیوں کے درمیان سامان پہنچانے کے لیے پاکستان کا زیادہ انحصار سڑکوں کے ذریعے مال برداری پر ہے۔

ٹرانسپورٹروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ تبدیلی کا فیصلہ واپس لے اور اس کے بجائے قیمتوں کا تعین ماہانہ بنیاد پر کرے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد توانائی کی عالمی منڈیوں میں قیمتوں کے تیزی سے اتار چڑھاؤ کے باعث پاکستان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہر 15 دن بعد ردوبدل کا نظام ختم کرکے روزانہ قیمتیں مقرر کرنا شروع کر دی تھیں۔

ہفتے کو آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز الائنس کے نمائندوں کے ساتھ ویڈیو لنک پر ملاقات میں علیم خان نے ٹرانسپورٹروں کے تحفظات پر تفصیلی بات چیت کے لیے ان کے وفد کو پیر کو اسلام آباد آنے کی دعوت دی۔

گڈز ٹرانسپورٹرز الائنس کا مطالبہ ہے کہ ٹول ٹیکس کی وہ شرح بحال کی جائے جو یکم جون 2024 کو نافذ تھی۔ مزید اضافہ روکا اور ایک سال تک نئے ٹول پلازے قائم نہ کیے جائیں۔

الائنس نے مال بردار ٹرانسپورٹروں پر عائد سات فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کم کرکے دو فیصد کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

اتحاد کا کہنا ہے کہ ایکسل لوڈ کے ضوابط پورے ملک میں یکساں طور پر نافذ کیے جائیں اور سامان لادنے کی جگہ ہی پر زائد وزن روکا جائے۔

وزارت مواصلات کی جانب سے جاری بیان کے مطابق علیم خان نے کہا ہے کہ حکومت اپنی ایکسل لوڈ پالیسی پر فوری عمل درآمد شروع کرے گی اور واضح کیا کہ ’ایک بھی زائد وزن والی گاڑی‘ کو موٹرویز پر داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

علیم خان نے اجلاس میں کہا کہ ’اگر ہم مل بیٹھ کر اپنے مسائل پر بات نہیں کریں گے تو آگے کیسے بڑھیں گے؟‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہڑتال سے یومیہ اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے:  کراچی گڈز کیریئرز 

اتوار کو انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کراچی گڈز کیریئرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ندیم اختر آرائیں نے ملکی معیشت اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کے بحران پر گفتگو میں کہا کہ 'جب بھی ٹرانسپورٹرز ہڑتال پر جاتے ہیں تو ملک بھر میں فعال چار لاکھ سے زائد گاڑیوں میں سے تقریباً 90 فیصد کا پہیہ رک جاتا ہے۔

’اس کے نتیجے میں قومی معیشت کو روزانہ کی بنیاد پر اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے، جس کے راست اثرات افراط زر اور مہنگائی میں اضافے کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔‘

 ندیم اختر آرائیں نے مزید کہ کہ ’ٹرانسپورٹرز کبھی بھی فوری يا ناگہانی ہڑتال کے حامی نہیں رہے۔ ہم ہمیشہ پہلے باقاعدہ اعلان اور پیشگی اطلاع دیتے ہیں تاکہ حکومت کو بات چیت کا موقع مل سکے اور قومی معیشت کو ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکے۔‘

آل پاکستان گڈز کیریئرز ایسوسی ایشن کے رہنما عماد حسین نقوی نے کہا کہ ہڑتال کا بنیادی مقصد گڈز ورکرز کو درپیش شدید مسائل کی جانب حکومت کی توجہ مبذول کرانا ہے۔ 

انہوں نے خبردار کیا کہ ’ہڑتال کی صورت میں خام مال بندرگاہوں پر ہی پڑا رہ جاتا ہے جس سے ملک کا تمام کاروبار بیٹھ جاتا ہے۔ اگر یہ ہڑتال طویل یا مکمل طور پر جام ہو جائے تو مارکیٹ میں اشیائے خور و نوش اور دیگر ضروری اشیا کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے۔‘

 

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت