سعودی عرب متاثرہ آئل آپریشن چند روز میں بحال کر سکتا ہے: آرامکو چیف

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران جنگ کے باعث سعودی عرب کی تیل تنصیبات اور برآمدی نظام کو ممکنہ حملوں کے خطرات کا سامنا ہے۔

24 نومبر 2020 کو لی گئی اس تصویر میں سعودی عرب کے شہر جدہ میں سعودی آرامکو کی تیل تنصیب کا منظر دیکھا جا سکتا ہے (روئٹرز)

سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کے چیف ایگزیکٹو امین ناصر نے کہا ہے کہ کمپنی کسی بھی متاثرہ آپریشن کو چند روز میں بحال کر سکتی ہے، جبکہ ایران جنگ کے باعث حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر تیل کی برآمد کے متبادل راستے بنانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

امین ناصر نے عالمی جریدے ’نکئی ایشیا‘ کو بتایا کہ آرامکو اپنے تیل کے آپریشنز میں کسی بھی تعطل کو چند روز میں بحال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور کمپنی متبادل برآمدی راستے بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران جنگ کے باعث سعودی عرب کی تیل تنصیبات اور برآمدی نظام کو ممکنہ حملوں کے خطرات کا سامنا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

دوسری جانب پاکستانی حکام نے منگل کو بتایا تھا کہ سعودی عرب سے بحیرہ احمر کے راستے پاکستان کو خام تیل کی ترسیل دوبارہ شروع ہوگئی ہے، جس سے خطے میں جاری تنازع کے باعث پیدا ہونے والی سپلائی میں رکاوٹ اور ملک میں ایندھن کی ممکنہ قلت کے خدشات کم ہوئے ہیں۔

سعودی عرب نے رواں ہفتے مشرقی علاقوں میں موجود تیل کے ذخائر سے بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع تک خام تیل پہنچانے والی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن دوبارہ فعال کردی ہے۔

ڈرون حملوں کے بعد 13 ستمبر کو یہ پائپ لائن بند ہوگئی تھی، جس کے باعث برآمدی ٹرمینل سے تیل کی لوڈنگ بھی رک گئی تھی۔

یہ راستہ سعودی خام تیل کو آبنائے ہرمز سے بچاتے ہوئے برآمد کرنے کی سہولت دیتا ہے۔

 فروری میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ینبع سے پاکستان آنے والے ٹینکر بحیرہ احمر اور باب المندب سے گزرتے ہوئے بحیرہ عرب میں داخل ہوتے ہیں۔

پاکستان درآمدی توانائی پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیجی ممالک سے سپلائی متاثر ہونے کے بعد اس نے ینبع کے راستے سے خام تیل کی درآمد بڑھا دی تھی۔

 صنعتی حکام کے اندازے کے مطابق بحیرہ احمر کا یہ راستہ اب پاکستان کی خام تیل کی ضروریات کا تقریباً ایک چوتھائی پورا کرتا ہے۔

 لڑائی کے باعث تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہوئی، مال برداری اور انشورنس کے اخراجات بڑھے اور ملک میں پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔

پاکستان کے پیٹرولیم کے وزیر علی پرویز ملک نے ہفتے کے آخر میں کہا تھا کہ اگر شدید قلت پیدا ہوئی تو پیٹرول کی قیمت ایک ہزار روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے۔

تاہم انہوں نے اسے پیش گوئی کے بجائے ممکنہ قلت کی صورت میں ایک ممکنہ نتیجے کے طور پر بیان کیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت