معاشیات ایک ٹول کٹ ہے، کوئی عقیدہ نہیں

چین کوئی ایسا نمونہ نہیں جسے من و عن اپنایا جا سکے، اور اس کی حدود حقیقت پسندی کے حق میں دلیل کو مزید مضبوط ہی کرتی ہیں۔ چین کی تاریخ اور اس کے سیاسی نظام کو پاکستان میں نقل نہیں کیا جا سکتا۔

11 جون، 2021 کو کراچی میں ایک خیراتی مرکز پر لوگوں کو کھانا فراہم کیا جا رہا ہے (اے ایف پی)

حال ہی میں اعداد و شمار کے دو مجموعے سامنے آئے ہیں اور دونوں میں سے کوئی بھی اطمینان بخش نہیں۔

ورلڈ بینک کی نئی MENAAP اکنامک اپ ڈیٹ کے مطابق خطے کے انتہائی غریب افراد میں سے تقریباً 48 فیصد پاکستان میں رہتے ہیں، یعنی وہ لوگ جو یومیہ 3 ڈالر کی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ اس خطِ غربت کے مطابق غربت کی شرح 2018-19 سے 2024-25 کے درمیان 6.4 فیصد پوائنٹس بڑھی۔

عالمی بینک اس بگڑتی ہوئی صورت حال کو یکے بعد دیگرے آنے والے کئی جھٹکوں سے منسوب کرتا ہے، جن میں کوویڈ، 2022 کے سیلاب، بلند مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی شامل ہیں، اس کے علاوہ معاشی ایڈجسٹمنٹ کا ایک طویل دور بھی رہا جس نے حقیقی آمدن اور روزگار کو نقصان پہنچایا۔

پاکستان کے اس حصے کی ایک وجہ محض جمع تفریق بھی ہے۔ پاکستان کی آبادی 25 کروڑ سے زیادہ ہے جبکہ افغانستان، شام اور یمن مجموعی طور پر باقی ماندہ حصے کی اکثریت، یعنی مزید 47 فیصد، پر مشتمل ہیں۔ لیکن اصل مسئلہ صورت حال کا رخ ہے اور پاکستان کے اپنے شماریات کے ماہرین بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ ادارہ شماریات کے گھریلو مربوط اقتصادی سروے (HIES) 2024-25 سے ظاہر ہوتا ہے کہ گھرانوں میں معتدل سے شدید غذائی عدم تحفظ کی شرح تقریباً 16 سے بڑھ کر 24 فیصد ہو گئی۔ شدید غذائی عدم تحفظ دو گنا سے بھی زیادہ بڑھ کر تقریباً 5 فیصد تک پہنچ گیا۔ گندم اور چاول کی کھپت میں بھی کمی آئی۔ گھرانوں کی قوت خرید چھ سال پہلے کی نسبت کم ہو چکی ہے اور وہ پہلے سے زیادہ بھوک کا شکار ہیں۔

اسی بے چینی کے ماحول میں ایک جانا پہچانا نسخہ سامنے آتا ہے۔ حال ہی میں ایکس پر ملٹن فریڈمین کے ایک کلپ کے گرد بنائی گئی ایک پوسٹ میں دلیل دی گئی کہ لوگ خوش حالی حاصل کرنے کے لیے خود سرمایہ کاری، اختراع، مسابقت اور قدر پیدا کرتے ہیں، ناکہ ریاست ہر کام خود کرنے کی کوشش کرے۔ میں خود بھی اس دلیل کی مختلف شکلیں پیش کرتا رہا ہوں اور اس میں بہت کچھ درست ہے۔ اس پوسٹ میں قانون کی حکمرانی، تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے، سماجی تحفظ اور منصفانہ ضابطہ کاری میں حکومت کے بنیادی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ اس کی تشخیص بھی درست معلوم ہوتی ہے۔ ایسی ریاست جو سب سے بڑی قرض لینے والی، مالک، آجر اور مواقع تقسیم کرنے والی بن جائے، وہ نجی کاروباری سرگرمیوں کے لیے گنجائش کم کر دیتی ہے۔

لیکن ’فریڈمین کی پیروی کرو‘ ایک نعرہ ہے، پالیسی نہیں۔ پاکستان پہلے ہی معاشی ایڈجسٹمنٹ کر چکا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً ختم ہو جانے کے بعد معیشت کا استحکام کوئی اختیاری معاملہ نہیں تھا۔ تاہم جب استحکام کی یہ ہی کوشش آمدن اور سرمایہ کاری کو نچوڑنے لگے تو وہ ترقی کی حکمت عملی کی ابتدا نہیں رہتی۔ کوئی ملک اپنے حسابات متوازن کر سکتا ہے، لیکن اگر استحکام کو روزگار اور پیداواری صلاحیت میں تبدیل کرنے کے لیے کچھ نہ کیا جائے تو خاندان اس کے باوجود پہلے سے بدحال ہو سکتے ہیں۔ خود عالمی بینک نے طویل معاشی ایڈجسٹمنٹ کو آمدنی کمزور ہونے کی وجوہات میں شامل کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چین اس حوالے سے زیادہ مفید سبق فراہم کرتا ہے، اگرچہ وہ سبق نہیں جو عموماً اخذ کیا جاتا ہے: نظریاتی خالص پن سے زیادہ عملیت پسندی اہم ہے۔ چین کے رہنماؤں نے نہ فریڈمین کی پیروی کسی عقیدے کے طور پر کی اور نہ مارکس کی۔ انہوں نے تجربات کیے، اسی جذبے کے ساتھ جس کی عکاسی ڈینگ ژیاؤپنگ سے منسوب اس کہاوت میں ہوتی ہے کہ دریا پار کرتے ہوئے پتھروں کو ٹٹولتے ہوئے آگے بڑھو۔ انہوں نے پالیسیوں کو بڑے پیمانے پر نافذ کرنے سے پہلے خصوصی اقتصادی زونز میں آزمایا۔ انہوں نے دوہرے نظام کے تحت قیمتیں مقرر کیں، یعنی بعض اشیا کے لیے منصوبہ بند قیمتیں برقرار رکھیں جبکہ محدود سطح پر مارکیٹ کی قیمتوں کی اجازت دی، تاکہ معیشت کو منصوبہ بند نظام سے اچانک جھٹکے کے ساتھ باہر نکالنے کی بجائے بتدریج اس سے آگے بڑھنے دیا جائے۔

انہوں نے سڑکوں، بندرگاہوں، بجلی اور تعلیم پر بھاری سرمایہ کاری کی، غیر ملکی سرمائے اور ٹیکنالوجی کے لیے دروازے کھولے اور کمپنیوں، حتیٰ کہ مقامی حکومتوں کو بھی سخت مسابقت کرنے دی۔ نتیجہ غیر معمولی تھا۔ عالمی بینک کا اندازہ ہے کہ چار دہائیوں میں تقریباً 80 کروڑ چینی انتہائی غربت سے نکل آئے، جو اس عرصے میں دنیا بھر میں غربت میں ہونے والی کمی کا تقریباً تین چوتھائی حصہ بنتا ہے۔

چین کوئی ایسا نمونہ نہیں جسے من و عن اپنایا جا سکے، اور اس کی حدود حقیقت پسندی کے حق میں دلیل کو مزید مضبوط ہی کرتی ہیں۔ چین کی تاریخ اور اس کے سیاسی نظام کو پاکستان میں نقل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے سرکاری ادارے اب بھی بہت بڑے ہیں جبکہ حالیہ برسوں میں جائیداد اور قرضوں سے متعلق اس کے مسائل ظاہر کرتے ہیں کہ وہی ریاست جس نے معاشی عروج کی تعمیر میں مدد دی، بہت بڑے پیمانے پر سرمائے کو غلط جگہ مختص بھی کر سکتی ہے۔ جس چیز کو اپنایا جا سکتا ہے وہ ماڈل نہیں بلکہ طریقۂ کار ہے: پالیسی کو آزمائش، پیمائش اور اصلاح کے عمل کے طور پر دیکھا جائے، اور جو طریقہ کارگر ثابت ہو اسے برقرار رکھا جائے۔

عالمی بینک کی یہ رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ پاکستان میں اصل خلا کہاں ہے۔

پاکستان میں کاروباری اور تکنیکی صلاحیت خاصی موجود ہے، جس میں ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت سے متعلق مہارت رکھنے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد بھی شامل ہے۔ تاہم کمزور انوویشن، محدود نجی شعبہ اور عالمی معیشت کے ساتھ سطحی انضمام اس صلاحیت کو آگے بڑھنے سے روکے ہوئے ہیں۔ مسئلہ صلاحیت کی کمی نہیں۔ کمی ایسے سازگار ماحول کی ہے جو اس صلاحیت کو پنپنے دے۔ ایک قابل ریاست کا کام ہی یہ ہی ہے: قابل پیش گوئی قوانین، مسابقتی منڈیاں، قابل اعتماد توانائی، تجارت کے لیے کشادگی اور ملکیتی حقوق اور معاہدوں پر مؤثر عمل درآمد۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں ’ریاست کو چھوٹا کرو‘ یا ’ریاست کو بڑا کرو‘ جیسے نعروں سے کہیں زیادہ مشکل ایجنڈے کی ضرورت ہے۔ ٹیکس کے نظام کو درست کیا جائے تاکہ اس کا بوجھ ان لوگوں پر پڑے جو اسے برداشت کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔ بجٹ کو مسلسل نقصان پہنچانے والے سرکاری اداروں کی تنظیمِ نو کی جائے یا ان کی نجکاری کی جائے اور ساتھ ہی ریگولیٹرز کو اتنا مضبوط بنایا جائے کہ سرکاری اجارہ داریوں کی جگہ نجی اجارہ داریاں نہ لے لیں۔

ان شعبوں میں سرمایہ کاری کی جائے جہاں منڈیاں ضرورت کے مطابق سہولیات فراہم نہیں کرتیں: غذائیت، تعلیم، صحت اور ایسا سماجی تحفظ کا نظام جو خاندانوں کو اس سے پہلے سہارا دے کہ بھوک بچوں میں نشوونما کی مستقل کمی کا سبب بن جائے۔ نئے پروگراموں کو پہلے آزمائشی بنیادوں پر چلایا جائے، ان کے نتائج کا موازنہ ایک تقابلی گروپ کے ساتھ کیا جائے اور صرف ان پروگراموں کو بڑے پیمانے پر نافذ کیا جائے جو کارگر ثابت ہوں۔ اور ہر پالیسی کو ایک سادہ کسوٹی پر پرکھا جائے: کیا گھرانے زیادہ محفوظ، بہتر خوراک یافتہ اور بہتر تعلیم یافتہ ہو رہے ہیں؟

اصل بحث ریاست بمقابلہ منڈی نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایسی قابل ریاست کیسے بنائی جائے جو مسابقتی منڈیوں کو مؤثر طور پر کام کرنے دے۔ پاکستان کے لیے خطرہ فریڈمین کے خیالات استعمال کرنے یا چین سے سیکھنے میں نہیں ہے۔ خطرہ ان دونوں میں سے کسی ایک یا کسی بھی دوسرے فرد یا نظریے کی اندھی تقلید میں ہے۔

معاشیات کوئی مذہب نہیں۔ یہ ایک ٹول کٹ ہے۔ ایک ایسا گھرانہ جو اپنے اگلے کھانے کا خرچ برداشت نہیں کر سکتا، اسے اس بات سے کوئی سروکار نہیں ہو گا کہ ہم کس مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے لیے اہم صرف یہ ہو گا کہ آیا ہم نے نتائج کی نگرانی کی اور جب اعداد و شمار نے بتایا کہ سمت بدلنے کی ضرورت ہے تو ہم نے اپنا راستہ تبدیل کیا یا نہیں۔ وہاں تک پہنچنے کے لیے ایک ایسے سیاسی نظام کی ضرورت ہے جو نہ صرف اکثریت کی امنگوں کی نمائندگی کرے بلکہ اسے بعد میں بننے والی پالیسیوں کی تشکیل میں بھی کردار ادا کرنے دے۔ اس کے بغیر بہترین ٹول کٹ بھی ڈبے میں بند پڑی رہتی ہے۔

مصنف پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر منافع بخش اور غیر منافع بخش، دونوں شعبوں میں اعلیٰ انتظامی عہدوں پر کام کر چکے ہیں۔ وہ شنگھائی کی فوڈان یونیورسٹی میں سابق سینیئر وزٹنگ فیلو بھی رہ چکے ہیں۔ یہ تحریر، جو اس سے قبل عرب نیوز پاکستان پر شائع ہوچکی ہے، ان کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ