امیروں اور غریبوں کی تاریخ جدا جدا ہے۔ غریبوں کی تاریخ میں نہ شان و شوکت ہے نہ جنگیں ہیں اور نہ لوگوں کا قتل عام ہے۔ غریب لوگ کسی جائیداد کے مالک نہیں ہوتے اور اپنی روزی کے لیے محنت و مشقت کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ پھر تاریخ بھی انہیں بھول جاتی ہے۔
ہر معاشرے میں امیر و غریب کے طبقے ہوتے ہیں۔ غربت اور مفلسی کی وجہ سے حکمران طبقوں کی طاقت اور امارت کا اظہار ہوتا ہے۔ برطانیہ کی ریاست نے اگرچہ اپنے سامراجی عزائم کو پورا کرنے کے لیے ایشیا اور افریقہ کی دولت پر قبضہ کیا لیکن یہ ساری دولت حکمران طبقے میں منتقل ہو گئی۔ غریب عوام اپنی روز مرہ کی زندگی کے لیے محنت و مشقت کر کے گزارا کرتے رہے۔
اس دوران انہوں نے زندگی کے سارے دکھ سہے۔ ان کا خاندان تقسیم ہو کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتا رہا۔ یہ روزگار، رہائش، بھوک اور فاقے سے نجات کے لیے اپنی زندگی گزار کر چلے گئے۔ عام لوگوں کی تاریخ اور دنیا کیسی تھی۔ اس موضوع پر Peter Stubley کی کتاب Pauper’s History ہے۔جو عہد وسطی سے لے کر موجودہ دور تک آئی ہے۔ مورخ نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ برطانیہ کے غریب اور مفلس عوام میں سیاسی شعور موجود تھا اور وہ سیاسی نظام کو بدل کر اپنے حقوق حاصل کرنا چاہتے تھے۔
مصنف نے اس کی مثال بارہویں صدی کے واقعات سے دی ہے۔ جس میں ایک رہنما کی تقریروں کے حوالے ہیں جسے لمبی داڑھی والا کہا گیا ہے۔ جب وہ تقریر کرتا تو ہزاروں غریبوں کا مجمع اس کو سننے کے لیے آ جاتا تھا اور اس کی تقریر سے سخت متاثر ہوتا تھا۔ عوام میں اس کی مقبولیت کی وجہ سے ریاست کو خطرہ پیدا ہوا کہ غریب لوگ انقلابی نہ ہو جائیں۔ اس لیے ریاست نے اس پر غداری کا مقدمہ چلایا اور اسے پھانسی کی سزا دی۔ لیکن عوام نے اسے ولی کا درجہ دے کر اس مقام کو زیارت گاہ بنایا جہاں اسے پھانسی دی گئی۔
عیسائیت میں فرانسسکن نامی ایک مذہبی فرقہ وجود میں آیا تھا۔ جس کے ماننے والے غربت کو اختیار کر کے دولت مندوں پر تنقید کرتے تھے۔ اس فرقے کے اراکین انتہائی سادہ زندگی گزارتے تھے۔ اپنا زیادہ تر وقت عبادت میں صرف کرتے تھے۔ اس لیے اس فرقے کا اثر برطانیہ کے غریبوں پر ہوا کہ انہیں بھی غربت کی تکالیف کو برداشت کرنا چاہیے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مصنف نے غریبوں کی اس حالت کا ذکر کیا ہے جس سے وہ گزر رہے تھے۔ جب بھی کسی معاشرے میں غربت بڑھ جاتی ہے تو اس کے ساتھ ہی سماجی قدریں بھی تبدیل ہو جاتی ہیں۔ غربت میں نہ ایمان داری رہتی ہے نہ فرد کی عزت اور نہ اپنی حالت کو بدلنے کا احساس۔ یہ سب ختم ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ دھوکہ دہی، فریب اور جھوٹ لے لیتا ہے۔ لہذا اس عہد میں گدا گروں اور فقیروں کے ایسے گینگ وجود میں آئے جن کا مقصد تھا کہ اپنی ظاہری شکل و صورت کو اس قدر بدل دیا جائے کہ لوگ انہیں دیکھ کر رحم کھائیں اور انہیں خیرات دے کر ثواب حاصل کریں۔ انگریز ناول نگار چارلس ڈکنز نے گداگروں کی جماعتوں کا ذکر کیا ہے۔
بھیک مانگنے والوں میں فقیر بھی ہوا کرتے تھے جو اپنا بھیس بدل کر خیرات دینے والوں میں رحم دلی کے جذبات کو پیدا کرتے تھے۔ نہ ان کا کوئی گھر ہوتا تھا اور نہ ہی کوئی خاندان۔ رات کو یہ کھیتوں میں، باغوں میں شہر کے فٹ پاتھوں پر سوتے تھے۔ لندن کی پولیس ان سے پوچھ گچھ کرتی رہتی تھی کیونکہ بھیک مانگنا اور آوارہ گردی کرنا جرم تھا۔ لیکن غربت کو سزاؤں اور قانون کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے فقیروں کے گینگ اور انفرادی فقیر تمام پابندیوں کے باوجود بھیک مانگتے رہے۔
ریاست کی جانب سے اصلاحات کی کوششیں کیں گئیں تاکہ غربت کا خاتمہ ہو۔ مثلاً ورکنگ ہاؤس کا قیام عمل میں لایا گیا۔ یہاں غریب خاندانوں کو ملازمت دی جاتی تھی۔ سخت محنت اور مشقت کے بعد انہیں کھانے کو بہت کم دیا جاتا تھا۔ ان (Working Houses) کا ایک کام یہ بھی تھا کہ یہاں جانوروں کی ہڈیوں کو لایا جاتا تھا تاکہ انہیں توڑ کر اور پیس کر کسانوں کو بطور کھاد دیا جائے۔
کام کرنے والے مزدور اس قدر بھوکے ہوتے تھے کہ ان ہڈیوں سے گودا نکال کر اسے کھا جاتے تھے۔ بعض اوقات ان مزدوروں کے ہاتھ پرانی ہڈیاں بھی کھانے کے لیے آ جاتی تھیں۔ جب ورک ہاؤس میں کام کرنے والے بھوک کو برداشت نہ کر پاتے تھے تو ہاؤس چھوڑ کر چلے جاتے تھے۔
غریب لوگوں کے لیے ریاست نے کچھ دوسرے ادارے بھی بنائے تھے۔ جہاں ان سے مختلف کام کرائے جاتے تھے۔اگر کوئی کام کو پورا نہیں کر پاتا تھا یا سستی کا ثبوت دیتا تھا تو اس صورت میں اسے سخت سزا دی جاتی تھی۔ اس کی ننگی پیٹھ پر کوڑے مارے جاتے تھے۔ لہذا غریب لوگ فرار ہو کر آوارہ گردی اور بھیک مانگنے کو ترجیح دیتے تھے۔
غربت اس وقت اور زیادہ بڑی جب 1844 سے 1846 تک آئرلینڈ میں آلوؤں کا قحط پڑا۔ ہزاروں کی تعداد میں آئرش لوگ امریکہ گئے اور برطانیہ بھی آئے۔ ان لوگوں کے پاس نہ گھر تھا نہ روزگار اور نہ کھانے کے لیے کوئی انتظام۔ ان لوگوں کو مختلف عمارتوں میں رکھا گیا۔ انہیں جو کھانا دیا جاتا تھا اس سے ان کا پیٹ تو نہیں بھرتا تھا مگر وہ انہیں زندہ رکھنے کے لیے کافی تھا۔
آئرلینڈ کے لوگوں کے علاوہ برطانیہ میں کریبین آئرلینڈ سے افریقی بھی آئے۔ برطانیہ میں انہیں سخت نفرت اور تعصب کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں نہ تو کوئی ملازمت ملتی تھی اور نہ کسی قسم کی رہائش کا انتظام تھا ان کے لیے اور نہ ہی لوگ انہیں بھیک دیتے تھے۔ لہذا انہوں نے اپنی روزی کے لیے یہ طریقہ نکالا کہ وہ جگہ جگہ رقص کرتے اور گانا گاتے تھے۔ جب لوگوں کے لیے یہ تفریح کا باعث بنے تو انہیں لوگوں نے کچھ پیسے بھی دینا شروع کیے۔
برطانوی حکومت نے غربت کے خاتمے کے لیے روزگار کی سہولتیں مہیا نہیں کیں۔ بھیک اور خیرات کے ذریعے غربت کا خاتمہ کرنا چاہا۔ سزاؤں کا سلسلہ شروع ہوا اور جب یہ سب پالیسیاں ناکام ہوئیں تو غریبوں کو آسٹریلیا، امریکہ، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ آباد کیا گیا۔
اس تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان سے غربت کا خاتمہ کیسے ہو۔
