امریکی مڈٹرم الیکشن پر جاری بحث کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ اس کے بعد امریکہ کی خارجہ پالیسی میں کیا تبدیلی آئے گی، ایران سے جنگ ختم ہو گی یا نہیں اور مشرق وسطیٰ کا منظرنامہ کیسا ہو گا؟
یہ سب سوالات یقیناً اہم ہیں، لیکن ایک اور سوال بھی ہے جو اس ساری بحث میں کہیں جگہ نہیں پا سکا۔ وہ یہ کہ کیا ہم بھی بطور قوم اس الیکشن سے کچھ سیکھ سکیں گے؟
چند پہلو بہت اہم ہیں۔
سب سے پہلے تو امریکی نظام کی طاقت کو دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ ملک اگر سپر پاور ہے تو اس کی وجہ صرف اس کی عسکری قوت نہیں بلکہ اس کا نظام بھی ہے۔
یہاں چیک اینڈ بیلنس کا ایسا غیر معمولی اور خودکار بندوبست موجود ہے، جو ہر چیز کو اس کے مقام پر رکھتا ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
یہاں ٹرمپ جیسا آدمی بھی اختیارات کا گھنٹہ گھر نہیں بن سکتا اور وہ بھی صدارتی نظام میں غیر معمولی اختیارات ہونے کے باوجود۔
اس سے پہلے کہ کسی کے غلط فیصلے ملک کو زوال کی دلدل میں دھکیل دیں، خودکار چیک اینڈ بیلنس کا یہ نظام آگے بڑھ کر ریاست کو سنبھال لیتا ہے۔
وہاں پارٹیاں طاقتور ہیں، افراد نہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ جو اقتدار میں آ گیا، پارٹی اسی کی جاگیر ہو گئی۔ وہاں ری پبلکن تو ہیں، لیکن ری پبلکن (ٹرمپ) نام کی کوئی جماعت نہیں ہے۔ پارٹی پر کوئی شخصی چھاپ نہیں ہے۔ سیاسی جماعتیں ادارے کے طور پر کام کرتی ہیں۔
چنانچہ ہمیں یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ ری پبلکن اور ڈیموکریٹس میں مقابلہ ہے، لیکن کیا ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ان دونوں پارٹیوں کے سربراہان کے نام کیا ہیں؟ کتنے لوگوں کو قیادت وصیت کے ذریعے میراث میں آئی ہے؟
کیا ٹرمپ کے بعد اقتدار ٹرمپ کی اولاد کو منتقل ہو گا؟ کیا ٹرمپ کی اہلیہ یہ دعویٰ کر سکتی ہیں کہ ہمارا خاندان پیدا ہی حکمرانی کے لیے ہوا ہے؟
جب پارٹیاں خاندانی جاگیر کی بجائے ادارہ بنتی ہیں تو سماج اور سیاست دونوں میں ارتقا کا عمل جاری رہتا ہے۔
نئے لوگ آتے ہیں اور ان نئے لوگوں کے لیے اپنی صلاحیت کے بل بوتے پر راستے کھلے ہوتے ہیں، نہ کہ موروثیت کے بل بوتے پر۔ اس کے نتیجے میں سیاسی عمل جوہڑ کی طرح بدبودار نہیں ہوتا۔
چنانچہ آج یہ امکان تو موجود ہے کہ کوئی پاکستانی نوجوان امریکہ چلا جائے، شہریت لے اور اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر وہاں کی سیاست میں نام کما لے۔ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے، کسی عام نوجوان کو یہ سہولت کیا پاکستانی سیاست میں بھی دستیاب ہے؟
امریکہ میں انتخابات کے لیے کسی نگران حکومت کا کوئی تصور نہیں۔ وہی انتظامیہ برقرار رہتی ہے اور انتخابات ہو جاتے ہیں۔ ایسا کوئی خطرہ نہیں ہوتا کہ قبلہ عالی جاہ ڈونلڈ ٹرمپ، جیسے باقی دنیا کو ہانک رہے ہیں، اسی طرح الیکشن کے عمل کو بھی ہانک لیں گے۔
دنیا کا طاقت ور ترین آدمی بھی اس انتخابی عمل کے آگے بے بس ہے۔ اس کے ہاتھ میں یہ طاقت تو ہے کہ آدھی دنیا کو تہہ و بالا کر دے، لیکن اس کے پاس یہ طاقت نہیں کہ ہارے ہوئے الیکشن کو جیت میں بدل دے۔
ایسا نہیں کہ یہ اس کی میانہ روی ہے یا وہ ایسا نہیں کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ نظام کے اندر چیک اینڈ بیلنس اتنے ہیں کہ وہ چاہے بھی تو ایسا نہیں کر سکتا۔
امریکی نظام اقتدار میں توازن بھی غیر معمولی ہے۔ بھلے یہ ایک صدارتی نظام ہے اور صدر کے پاس بہت زیادہ اختیارات ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
لیکن یہ دیکھیے کہ صدر کی مدت اقتدار آدھی گزرتی ہے تو مڈٹرم یعنی کانگریس کے انتخابات آ جاتے ہیں۔ یہ ایک سیفٹی والو ہے۔
اب اگر عوام صدر کی پالیسیوں سے مطمئن نہیں تو ایوان نمائندگان اور کانگریس میں دوسری پارٹی جیت کر آ جاتی ہے۔
صدر تو وہی رہتا ہے، لیکن اس کے اختیارات کا عالم وہ نہیں رہتا۔ کانگریس کی صورت میں اس پر چیک اینڈ بیلنس کا کڑا نظام قائم ہو جاتا ہے۔
مثلاً جنگ کا اعلان کانگریس نے کرنا ہے، صدر نے نہیں۔ اگر صدر جنگ کا اعلان کر دے تو وار پاورز ریزولیوشن کے تحت 60 دن میں کانگریس کی اجازت لینا ضروری ہے۔
پاور آف دا پرس بھی کانگریس کے پاس ہے، یعنی کانگریس کی منظوری کے بغیر صدر جنگ کے لیے درکار رقم بھی خزانے سے نہیں لے سکتا۔
ہنگامی حالات میں اگرچہ صدر کے پاس یہ اختیار ہے کہ جنگ کے لیے درکار رقم لے لے، تاہم یہ بالکل عارضی انتظام ہے۔
60 دن کے بعد اسے کانگریس کے پاس ہی جانا ہوتا ہے۔ اگر کانگریس ڈی فنڈنگ کا فیصلہ کر لے، جیسے ویت نام میں کیا تھا، تو صدر کو نہ چاہتے ہوئے بھی جنگ ختم کرنا پڑتی ہے۔
اختیارات اور محدودات میں یہ وہ توازن ہے جس نے امریکہ کو تھام کر رکھا ہوا ہے۔ چیزیں اپنے مقام پر رہتی ہیں۔ کوئی اونچ نیچ ہو بھی جائے تو اسے جلد ہی سنبھال لیا جاتا ہے۔ طاقت کا کوئی گھنٹہ گھر نہیں ہے۔ اختیارات مختلف جگہوں پر منقسم ہیں۔
اس سارے بندوبست میں ہمارے لیے سیکھنے اور سمجھنے کے لیے بہت کچھ ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔