متاثرہ خاندان کے مطابق لاہور کے رہائشی محمد احمد 20 سال سے گوادر میں آٹو الیکٹریشن کی ورکشاپ پر کام کرتے تھے۔ وہاں فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ان کے ایک دوست کو نامعلوم مسلح افراد نے 23 اکتوبر کو قتل کیا تو احمد نے اس کی میت کو کفن پہنا کر اس کے آبائی شہر فیصل آباد روانہ کیا۔
لیکن 28 اکتوبر کو احمد بھی نامعلوم مسلح افراد کی گولیوں کا نشانہ بن گئے اور ان کی میت پولیس نے لاہور پہنچائی۔
بلوچستان میں کئی دہائیوں سے امن و امان کی خراب صورت حال کے باعث سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ دوسرے صوبوں سے وہاں روزگار کمانے کے لیے آنے والوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
سکیورٹی فورسز کے آئے روز بڑے پیمانے پر آپریشنز کے باوجود یہ سلسلہ تھم نہیں سکا۔
بلوچستان میں کالعدم تنظیموں اور انتہا پسندوں نے کچھ عرصہ قبل ایک مسافر ٹرین پر بھی بڑا حملہ کیا، تاہم سکیورٹی اہلکاروں کی جوابی کارروائی میں حملہ آوروں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
اس کے بعد بھی بلوچستان کے مختلف شہروں میں انتہا پسندی کے علاوہ تعصبانہ ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے۔
دہشت گردی کے واقعات کا ڈیٹا جمع کرنے والے ادارے ساؤتھ ایشیا ٹیررازم پورٹل کے مطابق صوبہ بلوچستان میں رواں سال یکم جنوری سے 31 اکتوبر تک انتہا پسندی سے متعلق واقعات میں 436 عام شہریوں کی اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔
لاہور کا شہری گوادر میں کیسے نشانہ بنا؟
یہ گھر لاہور کے علاقے باغبانپورہ میں واقع ہے، لیکن اس کا خرچ چلانے والا واحد کفیل محمد احمد گوادر میں روزی کمانے کی جدوجہد کے دوران ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن چکا ہے۔
مقتول کی بیوہ فرحت بی بی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’میری دو بیٹیاں ہیں اور ہم کرائے کے مکان میں رہتے ہیں۔ میرے شوہر شادی سے پہلے ایران اور پھر گوادر میں آٹو الیکٹریشن کا کام کرتے تھے۔
’ہماری شادی 14 سال پہلے ہوئی، تب سے وہ وہیں روزگار کما کر پیسے بھیجتے تھے۔ اس دوران کبھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ وہ ایک سال میں ایک دو بار گھر آتے تھے اور ہم جو مل رہا تھا، اس پر خوش تھے۔‘
فرحت کے بقول ’میرے شوہر نے رنجیدہ حالت میں فون پر بتایا کہ میرے فیصل آباد کے رہائشی ایک دوست کو نامعلوم افراد نے قتل کر دیا ہے۔ میں نے اس کی لاش کو کفن پہنا کر اس کے شہر روانہ کر دیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وہ پانچ بچیوں کا باپ تھا اور وہ یتیم ہو گئیں۔ لیکن چار دن بعد، 28 اکتوبر کو ہمیں اطلاع ملی کہ محمد احمد کو ورکشاپ پر بیٹھے ہوئے نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر قتل کر دیا ہے۔‘
’انہوں نے اپنے دوست کی لاش تو گوادر سے روانہ کر دی، لیکن احمد کی میت گوادر پولیس نے ہی لاہور بھجوائی۔ ہم نے یہاں سے وصول کی اور جنازے کے بعد تدفین کر دی گئی۔‘
گوادر پولیس نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’احمد کو 28 اکتوبر کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کیا اور فرار ہو گئے۔ ہمیں ان کی جیب سے شناختی کارڈ اور موبائل فون سے اہل خانہ کا نمبر ملا تو ہم نے انہیں اطلاع دی۔
ان کی میت گوادر سے لاہور بھجوا دی گئی، جبکہ تھانہ سٹی گوادر میں پولیس نے اپنی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔‘
اہل خانہ کی اپیل
مقتول کے بھائی غلام حسن نے کہا کہ ’میرے چھوٹے بھائی احمد کو بلاوجہ بے دردی سے قتل کر دیا گیا ہے۔ ہم اپنے بھائی کو ہمیشہ کہتے تھے کہ حالات ٹھیک نہیں، واپس آ جاؤ، تو میرا بھائی ہمیشہ کہتا تھا کہ گوادر اور بلوچستان کے شہری پرامن ہیں اور محبت سے رہتے ہیں۔
’وہاں کام بھی ٹھیک چلتا ہے، کوئی تنگ نہیں کرتا۔ بس کچھ گروپ ہیں جو لوگوں کے ساتھ سکیورٹی اہلکاروں پر بھی حملے کرتے ہیں۔ تاہم سکیورٹی فورسز وہاں امن و امان برقرار رکھنے کی پوری کوشش کر رہی ہیں۔ جلد حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔ گھبرانے کی بات نہیں، کچھ عرصہ اور یہیں کام کرنا چاہتا ہوں۔‘
’بھائی کے بقول ’ہم گوادر انتظامیہ اور پولیس کے مشکور ہیں۔ انہوں نے ہمارے ساتھ بہت تعاون کیا۔ میرے بھائی کی میت وہاں سے لاہور پہنچائی اور ہمیں وہاں کسی کو بھیجنے کی ضرورت نہیں پڑی۔
ہم سے میت لانے کا ایک پیسہ بھی نہیں لیا گیا۔ ہم بلوچستان حکومت کے مشکور ہیں۔ پولیس نے ہمیں یقین دہانی کرائی کہ وہ میرے بھائی کے قاتلوں کو ضرور پکڑ کر سزا دلوائیں گے۔‘
غلام حسن نے روتے ہوئے کہا: ’میرا بھائی تو چلا گیا، لیکن ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر بلوچستان میں دوسرے صوبوں سے کام کے لیے آنے والوں کو تحفظ نہیں دیا جا سکتا تو پھر انہیں وہاں جانے کی اجازت ہی نہ دی جائے، تاکہ وہ لوگ غریبوں کی جانیں لے کر ان کے گھر نہ اجاڑیں۔‘
’میرا بھائی تو اب واپس نہیں آ سکتا، لیکن ہم حکومت پاکستان اور بلوچستان حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ میری بیوہ بھابھی کو اپنے گھر کی چھت اور یتیم بھتیجیوں کی پڑھائی کے اخراجات فراہم کیے جائیں تو ہماری مشکلات کم ہو سکتی ہیں۔‘