وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو پنجاب میں کرپشن کے بیان پر پانچ ارب روپے ہرجانے کا نوٹس بھجوایا ہے، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں پنجاب کے دو بڑے گھرانوں کے سیاسی جانشینوں کے درمیان تناؤ کو سنجیدہ سمجھا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب ڈی سی گجرات کے تبادلے، جبکہ چوہدری سالک پنجاب میں کرپشن اور مریم نواز کے رویے کو تنازعے کی وجہ قرار دے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ جھگڑا تبادلے یا کرپشن کا نہیں بلکہ ’پنجاب کی چوہدراہٹ‘ کا ہے۔
پاکستان میں کرپشن سے متعلق بیان بازی نئی بات نہیں بلکہ ہر دور میں حکمران اور اپوزیشن ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات کو ہی سیاست کا محور بناتے آئے ہیں۔
پنجاب کی سیاست میں کئی دہائیوں سے شریف خاندان اور چوہدری خاندان کا مرکزی کردار چلا آ رہا ہے، جو پہلے ایک ہی جماعت مسلم لیگ سے ایوانوں تک پہنچے۔ پھر دونوں الگ ہو کر اپنی اپنی مسلم لیگ بنا کر اقتدار تک پہنچتے آئے ہیں۔
اس بار مسلم لیگ ن کے ساتھ اگرچہ مسلم لیگ ق کا اتحاد ہے، مگر اپنی اپنی الگ سیاسی پہچان کی جڑیں مضبوط ہونے کی وجہ سے دونوں خاندانوں کے جانشینوں، مریم نواز اور چوہدری سالک، کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف کھل کر بیان بازی میں سنجیدگی اختیار کرنے لگی ہے۔
موجودہ سیاسی صورت حال کے پیش نظر اگر ’بڑوں‘ نے دوبارہ مداخلت کر کے معاملات حل کرا بھی دیے تو فرق کی یہ لکیر ختم ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔
حالیہ اختلافات کتنے سنجیدہ ہیں؟
تجزیہ کار وجاہت مسعود نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’اگرچہ دونوں خاندان ایک ہی گملے کی پیداوار ہیں، لیکن جس فریق کی آبیاری جس دور میں طاقتور حلقے کرتے ہیں، وہ مسند اقتدار پر بیٹھ جاتا ہے۔
دوسرا یا تو اپوزیشن میں ہوتا ہے یا ساتھ مل جاتا ہے۔ لیکن شریف خاندان اور چوہدری خاندان کے درمیان اب پنجاب کی چوہدراہٹ اپنا اپنا حق سمجھی جانے لگی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار دونوں جماعتیں اتحادی ہونے اور عہدے ملنے کے باوجود ایک دوسرے کی سیاسی قوت میں اضافے کو روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
’حالانکہ چوہدری سالک حسین کو وفاقی وزارت ملی ہے اور مریم نواز کو بھی پنجاب کی وزارت اعلیٰ حاصل ہے۔ دونوں خاندانوں کے بڑے بھی موجود ہیں۔
پھر بھی دونوں ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب ان دونوں خانوادوں کے جانشین ایک دوسرے کے ساتھ خوشی سے چلنے کو تیار نہیں۔ جب بھی مجبوری ختم ہوئی، یہ آمنے سامنے ہوں گے۔‘
سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ اختلافات اس لیے اہمیت اختیار کرنے لگے ہیں کہ چوہدری سالک نے پنجاب حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھاتے ہوئے چوہدری پرویز الٰہی کے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب دور کو بہترین قرار دے دیا۔
اس لیے یہ معاملہ ڈی سی گجرات کے تبادلے سے آگے نکل گیا ہے۔ یہاں اہم بات یہ ہے کہ چوہدری برادران میں تو پی ٹی آئی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے دوران اختلافات ہو گئے تھے۔ اب اگر چوہدری شجاعت کا بیٹا اپنے ماموں کو دوبارہ اچھا حکمران کہہ رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ چوہدری خاندان دوبارہ متحد ہونے لگا ہے، جو مسلم لیگ ن کے لیے پنجاب میں خطرہ بن سکتا ہے۔‘
دونوں میں سیاسی اختلافات دور ہونے کا کتنا امکان؟
وجاہت مسعود کے بقول: ’ابھی میاں نواز شریف اور چوہدری شجاعت موجود ہیں۔ اپنے اپنے خاندانوں پر ان کا اثر و رسوخ بھی برقرار ہے۔ لہٰذا عین ممکن ہے کہ وہ دونوں مداخلت کر کے معاملہ ختم کرا دیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
لیکن جس طرح مریم نواز اور سالک حسین نے ایک دوسرے کے خلاف سخت ردعمل دیا ہے، اس سے مستقبل میں دونوں سیاسی گھرانوں کی سیاسی سمت ایک دکھائی نہیں دے رہی۔ ابھی تو مسلم لیگ ق اتنی مضبوط یا مؤثر نہیں کہ وہ مسلم لیگ ن کو چیلنج کر سکے، مگر پاکستان میں سیاسی صورت حال غیر متوقع ہوتی ہے۔‘
سلمان غنی نے کہا کہ ’وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کی جانب سے پنجاب حکومت پر کرپشن کے الزامات نے پنجاب کے سیاسی محاذ پر نئی صورت حال پیدا کر دی ہے، جس کا وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے فوری نوٹس لیتے ہوئے انہیں پانچ ارب روپے ہرجانے کا نوٹس بھجوا دیا ہے۔
اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی حکومت اور اس کی ساکھ کے معاملے کو نہایت سنجیدگی سے لے رہی ہیں۔ چاہے کوئی بھی ہو، اپنی حکومت پر الزامات کو ہضم کرنے کو تیار نہیں۔‘
’حکومت کوئی بھی ہو، اگر مخالفین کسی حکومت پر کرپشن کے الزامات لگاتے ہوں تو بات سمجھ میں آتی ہے، مگر جب خود کوئی حکومت کا حصہ ہو اور اس کے چھوٹے بھائی پنجاب حکومت میں وزیر ہوں تو پنجاب حکومت کو ٹارگٹ کرنا کیسے برداشت ہو سکتا ہے؟ یہ کہنا کہ کرپشن کی فائلیں نہیں بلکہ یہاں تو الماریاں بھری پڑی ہیں، اسے کوئی حکمران نظر انداز نہیں کرے گا۔‘
سلمان کے بقول: ’اگر مسئلہ ڈی سی کے تبادلے کا ہوتا تو شاید حل ہو جاتا، حالانکہ مریم نواز اتحادی تو کیا، اپنی جماعت کے اراکین کی جانب سے بھی افسران کے تبادلوں میں مداخلت برداشت نہیں کرتیں۔ مگر یہاں معاملہ چوہدری خاندان کے متحد ہو کر پنجاب میں اپنی جماعت کو متحرک کرنے کا دکھائی دے رہا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو تنازعہ مزید بڑھنے کا امکان زیادہ ہے۔‘