امریکی وسط مدتی انتخاب میں عبدال السید مشی گن میں مائیک راجرز کو شکست دے کر پہلے مسلمان سینیٹر منتخب ہو گئے ہیں۔
عبدال السید نے جیت کے بعد اپنی پہلی تقریر میں کہا کہ ’مشی گن ہم نے کر دکھایا۔‘
انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا نام عبدالرحمن محمد السید ہے اور مجھے آپ کے سینیٹر الیکٹ کے طور پر یہاں کھڑے ہو کر فخر محسوس کر رہا ہوں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے دیکھا ہو گا کہ ہم جب بھی ان نتائج کی بات کرتے تھے تو ساتھ انشا اللہ کہتے تھے لیکن آج ہم انشا اللہ کی جگہ الحمد اللہ کہیں گے۔‘
امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں عبدال السید کے علاوہ ڈیموکریٹک امیدوار آدم حموی نے بھی نیو جرسی کے 12ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے ریپبلکن امیدوار گریگ میلے کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی ہے۔
اس کامیابی کے بعد آدم حموی پیش گوئیوں کے مطابق امریکی کانگریس کے پہلے مسلم رکن بن گئے ہیں جن کا تعلق ریاست نیو جرسی سے ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مائیک راجرز کو شکست دینے والے عبدال السید امریکی ریاست مشی گن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر اور سیاست دان ہیں۔
ان کے والد مصری نژاد تارکِ وطن ہیں۔ ان کی تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی امریکی اداروں اور بین الاقوامی تعلیمی مراکز سے وابستہ رہی ہے جب کہ انہیں ڈیموکریٹ پارٹی کے ترقی پسند دھڑے سے تعلق رکھنے والا رہنما سمجھا جاتا ہے۔
عبدال السید کو انتخابی مہم کے دوران مسلمان ہونے کی وجہ سے نہ صرف ریپبلکنز بلکہ خود صدر ٹرمپ کی جانب سے بھی ’صنفی اور مذہبی امتیاز‘ کا سامنا رہا تھا۔
اپنی جیت کے بعد عبدال السید نے اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’مخالفین نے ہمیں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا اور ابتدا میں انہوں نے میرے نام اور مذہب کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ یہ مختلف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم نے بدترین مہم دیکھی اور انہوں نے میرے نام اور مذہب پر انگلی اٹھائی مگر آپ ایندھن اور گروسریز خرید نہیں پا رہے اس کی وجہ میرا نام اور میرا مذہب نہیں ہے۔‘