تھائی لینڈ: گالف ٹورنامنٹ کے دوران آسمانی بجلی گرنے سے 15 سالہ کھلاڑی کی موت

آییاوارین ’آیا‘ پرادوبیارٹ یکم نومبر کو بنکاک کے مشرق میں واقع صوبے چاچوینگساؤ کے ایک گالف کورس میں مقابلے میں شریک تھیں، جب 11ویں ہول کے قریب آسمانی بجلی گری۔

آیا تھائی سٹوڈنٹ گالف یونین کی رکن تھیں اور ایک ابھرتی ہوئی باصلاحیت جونیئر کھلاڑی کے طور پر پہچانی جا رہی تھیں (آییاوارین ’آیا‘ پرادوبیارٹ انسٹاگرام اکاؤنٹ)

تھائی لینڈ میں جونیئر گالف ٹورنامنٹ کے دوران آسمانی بجلی گرنے سے 15 سالہ گالفر جان سے چلی گئیں۔

آییاوارین ’آیا‘ پرادوبیارٹ اتوار (یکم نومبر) کو بنکاک کے مشرق میں واقع صوبے چاچوینگساؤ کے ایک گالف کورس میں مقابلے میں شریک تھیں، جب 11ویں ہول کے قریب آسمانی بجلی گری۔ اس واقعے میں 31 سالہ خاتون کیڈی بھی زخمی ہوئیں۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امدادی کارکنوں کو آیا بے ہوش اور زندگی کی علامات سے محروم حالت میں ملیں۔

امدادی کارکنوں نے انہیں فوری طور پر مصنوعی طریقے سے سانس دینے اور دل کی دھڑکن بحال کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد ان کی دھڑکن بحال ہو گئی اور انہیں قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ بعد ازاں مزید علاج کے لیے انہیں بدھاسوتھورن ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ان کی والدہ ناچا پرادوبیات نے بتایا کہ آسمانی بجلی گرنے کے بعد ان کی بیٹی کا دل تقریباً ایک گھنٹے تک دھڑکنا بند رہا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رات بھر بار بار دل کی دھڑکن بحال کرنے کی کوششوں اور طبی مداخلت کے باوجود نوعمر لڑکی کی حالت تشویش ناک رہی۔

ناچا پرادوبیات نے پیر کو فیس بک پر اپنی بیٹی کی موت کا اعلان کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔

انہوں نے لکھا: ’کوئی بھی والدین اپنی اولاد کو اپنی مرضی سے کبھی رخصت نہیں کرنا چاہیں گے۔ لیکن اگر اسے اپنے پاس رکھنے کا مطلب ہماری پیاری بیٹی کو مزید تکلیف دینا ہے تو ہمیں اسے سکون سے جانے دینا ہوگا۔

’میری پیاری آیا، تم نے بہت جدوجہد کی۔ سکون سے آرام کرو، میری جان۔‘

’نیشن تھائی لینڈ‘ کی رپورٹ کے مطابق آیا کے والد واقعے کے وقت پڑوسی ملک میانمار میں کام کر رہے تھے اور حادثے کے بعد تھائی لینڈ واپس آئے۔

نوعمر لڑکی کے اہل خانہ نے سوال اٹھایا ہے کہ علاقے میں آسمانی بجلی گرنے کے باوجود ٹورنامنٹ جاری رکھنے کی اجازت کیوں دی گئی۔

ناچا نے مقامی تھائی میڈیا کو بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق سہ پہر تقریباً 3 بجے گالف کورس کے ساتھ درختوں کی ایک قطار کے قریب آسمانی بجلی گری، جس کے بعد بارش شروع ہونے پر مزید بجلی بھی گری۔

ان کا الزام ہے کہ منتظمین نے فوری طور پر کھیل معطل نہیں کیا اور نہ ہی نوجوان گالفرز کو کورس چھوڑنے کی ہدایت کی۔

ان کے بیان کے مطابق مقابلہ صرف اس وقت روکا گیا جب آسمانی بجلی گرنے کی ایک اور زور دار آواز سنائی دی، جس کے بعد منتظمین نے کھلاڑیوں کو واپس لانے کے لیے گالف گاڑیوں کا انتظام کیا۔

ناچا نے بتایا کہ ابتدا میں انہیں کورس سے واپس آنے والے کھلاڑیوں میں اپنی بیٹی نظر نہیں آئیں۔

بعد ازاں انہیں معلوم ہوا کہ آیا آسمانی بجلی کی زد میں آ گئی ہیں اور انہیں ابتدائی طبی امداد دی جا رہی ہے۔

ان کی 67 سالہ دادی اپھورن پرادوبیات نے بھی مقابلہ جاری رکھنے کے منتظمین کے فیصلے پر سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق آیا گالفرز اور کیڈیز کے ایک چھوٹے گروپ کے ساتھ کھیل رہی تھیں اور آسمانی بجلی گرنے کے وقت 11ویں ہول کے قریب موجود تھیں۔

ناچا نے گالف کورسز اور ٹورنامنٹ منتظمین سے مطالبہ کیا کہ وہ حفاظتی اقدامات مزید سخت کریں، جن میں گرج چمک کے طوفان کے دوران کھیل معطل کرنے کے واضح طریقہ کار اور ہنگامی طبی امداد کی فوری دستیابی کو یقینی بنانا شامل ہے۔

آیا تھائی سٹوڈنٹ گالف یونین کی رکن تھیں اور ایک ابھرتی ہوئی باصلاحیت جونیئر کھلاڑی کے طور پر پہچانی جا رہی تھیں۔

مارچ میں انہوں نے پلے آف کے بعد جونیئر ایشین ٹور 2026 کے افتتاحی مرحلے میں لڑکیوں کے کلاس بی مقابلے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ ان کی دادی کے مطابق وہ گالف کے مقابلوں میں اپنے صوبے کی نمائندگی بھی کر چکی تھیں اور انہیں چون بوری کی صوبائی گالف ٹیم کے لیے متبادل کھلاڑی کے طور پر بھی زیر غور رکھا جا رہا تھا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل