دنیا میں ایک ہی چترال ہے!

میری دنیا کا نام چترال ہے۔ اس کے پہاڑ میرے خوابوں کی بلندی ہیں، اس کی وادیاں میری یادوں کے دریچے، اس کی زبان میری شناخت اور اس کے لوگ میری محبتوں کا سرمایہ ہیں۔ میں جہاں بھی رہوں، چترال میرے اندر آباد رہے گا۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں واقع شندور پاس پر 20 جون 2025 کو شندور پولو فیسٹیول کے دوران تماشائی میچ دیکھ رہے ہیں، جبکہ کھلاڑی گیند کو دور پھینکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ (عبدالمجید/ اے ایف پی)

دنیا میں بے شمار خوب صورت خطے ہیں۔ کہیں سمندر کی وسعتیں ہیں، کہیں صحرا کی خاموشی، کہیں سرسبز میدان ہیں اور کہیں آسمان سے باتیں کرتے پہاڑ۔

ہر خطے کا اپنا حسن، اپنی تاریخ اور اپنی شناخت ہے، لیکن کچھ سرزمینیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں محض نقشے پر موجود ایک مقام نہیں کہا جا سکتا۔ وہ انسان کے دل میں آباد ہوتی ہیں، اس کی یادوں میں سانس لیتی ہیں اور اس کے وجود کا حصہ بن جاتی ہیں۔ چترال میرے لیے ایسی ہی ایک سرزمین ہے۔ دنیا میں ایک ہی چترال ہے اور چترال ہمارے لیے پوری کائنات ہے!

میری پیدائش چترال کے گاؤں موردیر میں ہوئی۔ زندگی نے مجھے تعلیم، ملازمت اور ذمہ داریوں کے سلسلے میں مختلف مقامات تک پہنچایا، لیکن چترال میرے اندر ہمیشہ آباد رہا۔

شہر کی مصروف زندگی میں جب کبھی فرصت کے چند لمحے میسر آتے ہیں تو ذہن انجانے میں ان پہاڑوں کی طرف لوٹ جاتا ہے جن کے سائے میں بچپن گزرا، ان راستوں کی طرف جن پر چلتے ہوئے زندگی کو سمجھنے کی کوشش کی اور ان بستیوں کی طرف جہاں لوگوں کی سادگی، محبت اور خلوص زندگی کا اصل سرمایہ محسوس ہوتے تھے۔

شاید اپنے وطن سے محبت بھی ایک عجیب کیفیت ہے۔ انسان اس سے دور ہو سکتا ہے، مگر اپنے اندر سے اسے کبھی نکال نہیں سکتا۔

چترال کی خوب صورتی کا ذکر ہو تو سب سے پہلے اس کے برف پوش پہاڑ، دریا، چشمے، جنگل اور سرسبز وادیاں ذہن میں آتی ہیں۔ یہاں قدرت نے حسن کو کسی ایک مقام پر جمع نہیں کیا بلکہ اسے ہر سمت بکھیر دیا ہے۔

کہیں دریا کی موجیں پتھروں سے ٹکرا کر موسیقی پیدا کرتی ہیں، کہیں برف پوش چوٹیاں آسمان سے ہم کلام دکھائی دیتی ہیں، کہیں سبزہ زار آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتے ہیں اور کہیں پہاڑوں کے دامن میں آباد چھوٹے چھوٹے گاؤں اپنی خاموش خوب صورتی سے دل موہ لیتے ہیں۔

چترال میں سفر کرتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قدرت ہر موڑ پر ایک نیا منظر تخلیق کرتی اور انسان کو دعوت دیتی ہے کہ ذرا ٹھہر کر اسے دیکھو، محسوس کرو اور اپنے اندر اتار لو۔

اس خطے کی ہر وادی اپنی الگ پہچان رکھتی ہے۔ لاسپور، یارخون، تورکھو، موڑکھو، گرم چشمہ، ارندو اور مستوج سمیت مختلف علاقوں کی جغرافیائی ساخت، ثقافتی روایات اور قدرتی مناظر ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود ایک ہی تہذیبی وحدت کا حصہ ہیں۔

ان وادیوں کے گاؤں صرف رہائش کے مقامات نہیں بلکہ صدیوں کے تجربات، خاندانی رشتوں، لوک داستانوں اور اجتماعی زندگی کے امین ہیں۔ ان بستیوں میں انسان کو احساس ہوتا ہے کہ ترقی کا مطلب محض بلند عمارتیں اور وسیع سڑکیں نہیں۔ اصل ترقی وہ زندگی بھی ہے جس میں انسان ایک دوسرے کے دکھ درد سے واقف ہو اور رشتوں کی حرمت باقی رہے۔

چترال کی شناخت اس کی منفرد تاریخ اور ثقافت کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ یہاں کے تاریخی مقامات، قدیم قلعے، روایتی مکان اور نسل در نسل منتقل ہونے والی روایات ماضی سے ہمارا رشتہ جوڑتی ہیں۔

کھوار زبان اس تہذیبی ورثے کا ایک اہم حصہ ہے۔ اپنی مادری زبان میں گفتگو کرتے ہوئے انسان محض الفاظ ادا نہیں کرتا بلکہ اپنے بزرگوں کی یادیں، اپنی زمین کی خوش بو اور اپنے لوگوں کے تجربات بھی اپنے ساتھ لے کر چلتا ہے۔

کھوار کے لوک گیتوں، کہاوتوں اور داستانوں میں اس خطے کی اجتماعی یادداشت محفوظ ہے۔ زبان کی بقا دراصل ایک پوری دنیا کی بقا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ نئی نسل کو اپنی مادری زبان سے محبت بھی سکھائی جائے اور اسے پڑھنے، لکھنے اور آگے منتقل کرنے کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں۔

چترال کے حسن کا ایک منفرد باب کیلاش کی تین وادیاں، بمبوریت، رمبور اور بریر ہیں۔ یہاں آباد کیلاش برادری اپنی قدیم روایات، مخصوص لباس، موسیقی، رقص اور تہواروں کے ذریعے اس خطے کو دنیا بھر میں ممتاز بناتی ہے۔

ان کے تہواروں میں زندگی کے رنگ، موسموں سے وابستگی اور اجتماعی خوشیوں کی جھلک نظر آتی ہے۔ یہ وادیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ کسی علاقے کی اصل خوب صورتی صرف قدرتی مناظر میں نہیں بلکہ وہاں آباد لوگوں کی شناخت، ثقافت اور تنوع میں بھی پوشیدہ ہوتی ہے۔ اس ورثے کا احترام، تحفظ اور فروغ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پھر ترچ میر ہے، ہندوکش کے پہاڑی سلسلے کی عظیم الشان چوٹی، جو تقریباً 7,708 میٹر بلند ہے۔ اس کی بلندی دیکھ کر انسان کو اپنی محدودیت اور قدرت کی وسعت کا احساس ہوتا ہے۔ برف پوش پہاڑوں کی قطاریں، گہری وادیاں اور دشوار گزار راستے چترال کو کوہ پیماؤں، سیاحوں اور فطرت سے محبت کرنے والوں کے لیے غیر معمولی کشش عطا کرتے ہیں۔

ان پہاڑوں کے دامن میں زندگی آسان نہیں، مگر یہاں کے لوگوں نے مشکل حالات میں جینے، آگے بڑھنے اور اپنی روایات کو محفوظ رکھنے کا ہنر سیکھا ہے۔ شاید پہاڑوں کی سختی نے ہی ان کے مزاج میں استقامت اور ان کے دلوں میں ایک خاص طرح کی مضبوطی پیدا کی ہے۔

چترال کا ذکر ہو اور پولو کی بات نہ ہو، یہ کیسے ممکن ہے! شندور پولو فیسٹیول اس خطے کی ثقافتی شناخت کا ایک نمایاں استعارہ ہے۔ بلند پہاڑوں کے درمیان واقع دنیا کے بلند ترین پولو گراؤنڈ میں گھوڑوں کی ٹاپیں، کھلاڑیوں کا جوش اور تماشائیوں کی آوازیں ایک ایسا سماں باندھتی ہیں جس میں کھیل، روایت اور قدرتی حسن یکجا ہو جاتے ہیں۔

چترال میں پولو محض کھیل نہیں، بلکہ ایک زندہ ثقافتی روایت ہے۔ اسی طرح موسمِ بہار میں قاقلشٹ کا جشن، بروغل کی دور افتادہ وادی میں منعقد ہونے والا جشن بروغل اور مدک لشٹ کے سرمائی کھیل چترال کی ثقافتی زندگی کو نئے رنگ عطا کرتے ہیں۔ یہ تقریبات مقامی لوگوں کے لیے خوشی اور میل جول کا ذریعہ ہونے کے ساتھ سیاحت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

چترال کی موسیقی بھی اس کی روح کا حصہ ہے۔ چترالی ستار کے تاروں سے نکلنے والی دھن، ڈھول کی تھاپ، شہنائی کی آواز اور بانسری کی مدھر تان میں اس سرزمین کی خوشیاں اور اداسیاں سمٹ آتی ہیں۔ کھوار کے گیتوں میں محبت، جدائی، فطرت اور زندگی کے تجربات اس طرح بیان ہوتے ہیں کہ سننے والا اپنے آپ کو ان سے جڑا ہوا محسوس کرتا ہے۔

اسی طرح چترالی پٹی، چغہ، روایتی ٹوپیاں، شالیں، انگوٹھیاں اور دیگر دست کاریاں مقامی ہنرمندی کی علامت ہیں۔ ان مصنوعات میں صرف فن نہیں بلکہ محنت، روایت اور نسلوں سے منتقل ہونے والا تجربہ بھی محفوظ ہے۔ اگر ان ہنروں کو جدید منڈیوں اور سیاحتی صنعت سے مؤثر طور پر جوڑا جائے تو یہ مقامی معیشت کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

چترال میں معدنی وسائل کے ذخائر اور سیاحت کے بے شمار امکانات بھی موجود ہیں۔ تاہم ان وسائل سے حقیقی فائدہ اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب ترقی کے ساتھ ماحول کا تحفظ، مقامی آبادی کے حقوق اور آنے والی نسلوں کی ضروریات کو بھی اہمیت دی جائے۔

بہتر سڑکیں، معیاری رہائش، محفوظ سفری سہولتیں، بنیادی صحت کی خدمات اور روزگار کے مواقع چترال کی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔ سیلاب، دریائی کٹاؤ، زلزلے، شدید برف باری اور دشوار گزار راستے یہاں کے لوگوں کے لیے مسلسل آزمائش بن سکتے ہیں۔

اس لیے چترال سے محبت کا تقاضا صرف اس کی خوب صورتی کے گیت گانا نہیں، بلکہ اس کے لوگوں کی زندگی بہتر بنانے اور اس کے قدرتی و ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے عملی کوششیں کرنا بھی ہے۔

اپنی زندگی کے تجربات نے مجھے یہ سمجھایا ہے کہ وطن سے تعلق صرف جائے پیدائش کا حوالہ نہیں ہوتا۔ یہ ایک ایسی نسبت ہے جو انسان کے مزاج، سوچ، زبان اور یادداشت میں رچ بس جاتی ہے۔

چترال سے میری وابستگی بھی اسی نوعیت کی ہے۔ میں جب اپنے بچپن، اپنے گاؤں، لوگوں اور زبان کے بارے میں سوچتا ہوں تو محسوس کرتا ہوں کہ میری شخصیت کی تشکیل میں اس سرزمین کا حصہ ناقابلِ فراموش ہے۔

زندگی نے مجھے دوسرے شہروں میں رہنے اور مختلف ماحول میں کام کرنے کے مواقع دیے، مگر چترال کی سادگی اور خلوص کا احساس ہمیشہ میرے ساتھ رہا۔ شاید اسی لیے چترال کی بات کرتے ہوئے میں اسے محض ایک خوب صورت وادی نہیں کہہ سکتا بلکہ یہ میری شناخت اور میرے باطن کی ایک اہم حقیقت ہے۔

چترال کی سب سے بڑی خوبصورتی، میرے نزدیک، اس کے پہاڑوں اور وادیوں کے ساتھ اس کے لوگوں کی محبت، مہمان نوازی اور خلوص بھی ہے۔ یہاں کی مٹی میں یادیں، فضاؤں میں اپنائیت، موسیقی میں جذبات اور روایات میں اجتماعی زندگی کی جھلک موجود ہے۔

یہ ہی عناصر مل کر ایک ایسے چترال کی تصویر بناتے ہیں جسے کسی ایک مضمون، کسی ایک تصویر یا کسی ایک سفر میں مکمل طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔

دنیا میں بہت سی خوب صورت جگہیں ہیں، مگر ہر انسان کی اپنی ایک دنیا بھی ہوتی ہے۔ میری دنیا کا نام چترال ہے۔ اس کے پہاڑ میرے خوابوں کی بلندی ہیں، اس کی وادیاں میری یادوں کے دریچے، اس کی زبان میری شناخت اور اس کے لوگ میری محبتوں کا سرمایہ ہیں۔

میں جہاں بھی رہوں، چترال میرے اندر آباد رہے گا، کیوں کہ بعض سرزمینوں کو انسان صرف دیکھتا نہیں، اپنے وجود میں محسوس کرتا ہے۔

دنیا میں ایک ہی چترال ہے اور چترال ہمارے لیے پوری کائنات ہے!

مصنف ماہرِ تعلیم، محقق اور کالم نگار ہیں۔ وہ گذشتہ دو دہائیوں سے شعبۂ تعلیم سے وابستہ ہیں اور اس وقت آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ، کراچی سے منسلک ہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی