ملتان کی تاریخی فضا میں جب شام ڈھلتی ہے تو گھنٹہ گھر اور چھتوں پر روشنیوں کا رقص شروع ہو جاتا ہے۔
اسی شہر کی ایک دکان ’ماما جی کے مشہور مرغ پیس‘ پر ایک ایسا انسان کام کرتا ہے جس کی اپنی پوری زندگی رنگ و سخن، مکالموں، قہقہوں اور پھر ہولناک سناٹے کی ایک طویل داستان ہے۔
یہ کہانی ہے جمیل بھٹہ کی۔ وہی جمیل بھٹہ جو کبھی ملتان کے سٹیج کا چمکتا ہوا ستارہ تھے، آج ایک دکان پر کام کے دوران اپنے سنہری ماضی کو یاد کرتے ہیں۔
اپنے ماضی کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے جمیل بتاتے ہیں ’ملتان میں ایک وقت تھا جب 12 تھیٹر ہوا کرتے تھے۔ پاکستان کی سٹیج اور فلم انڈسٹری کے تمام فنکار ملتان کو دبئی خیال کرتے تھے۔
’اگر کسی نے ڈرامے سے بہت زیادہ پیسے کمانے ہوتے تو وہ ملتان کی ڈیٹس رکھتا تھا، یہاں پیسے ہی پیسے تھے۔
’لوگوں کا ایک بڑا رجحان تھا کیونکہ یہاں بہت بہترین اور تاریخی ڈرامے پیش کیے جاتے تھے۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ ماضی میں یہاں فنکاروں کی قدر ہوتی تھی، کام کا معیار بلند تھا اور شائقین کا ایک ایسا جم غفیر تھا جو تھیٹر کے باہر لائنیں لگا کر کھڑا ہوتا تھا۔
مگر وقت کا پہیہ گھوما اور صورتحال یکسر بدل گئی۔ جمیل بھٹہ کے مطابق اب وہ حال نہیں رہا۔
’اب آپ یہ دیکھیں کہ ملتان میں جہاں 12 تھیٹر تھے، اس وقت صرف ایک تھیٹر کام کر رہا ہے اور اس میں بھی فنکار خوش نہیں ہیں کیونکہ اب اتنی پبلک نہیں آتی۔
’جتنی فنکاروں کی ڈیمانڈ ہے، اس حساب سے ان کی پیمنٹس وغیرہ کے مسائل رہتے ہیں۔
’بہرحال، اس کے باوجود اپر پنجاب میں تھیٹر اب بھی بہترین چل رہا ہے۔ ملتان ایک بڑا شہر ہے مگر شوبز کے حوالے سے یہاں اب بالکل کوئی کام نہیں ہو رہا۔‘
مقامی سطح پر بننے والے میڈیا اور سرائیکی چینلز کے حوالے سے ان کا شکوہ تلخ ہے۔
ان کا کہنا ہے ’کچھ عرصہ پہلے یہاں ایک دو سرائیکی چینلز آئے، انہوں نے کام شروع کیا لیکن بعد میں انہوں نے بھی فنکاروں کا استحصال کیا۔ ہم جیسے سینیئرز سے دن رات کام کروایا مگر پیسے ویسے کچھ نہیں دیے۔
’ظاہر ہے جو ادارے اپنے ورکرز کا خیال نہیں رکھتے، وہ ایک دن بند ہو جاتے ہیں اور وہ بھی بند ہو گئے۔ ہم پھر ویسے ہی ویران ہو گئے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے زندگی بھر صرف سٹیج ہی کیا کیونکہ ملتان میں واحد آپشن سٹیج ہی تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آپ ایک محدود پلیٹ فارم پر کتنا کام دکھا سکتے ہیں؟
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’ہم نے اپنے کیریئر میں ٹاپ کلاس ڈرامے کیے مگر آگے بڑھنے کا کوئی چانس نہیں بنا۔‘
زندگی نے پلٹا تب لیا جب 2016 یا 2017 کے قریب نامور فن کار افتخار ٹھاکر کا گزر ملتان سے ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ افتخار ٹھاکر صاحب یہاں ملتان سے مجھے لاہور لے کر گئے۔ انہوں نے کہا، یار! یہاں تمہاری جگہ نہیں، تمہیں وہاں کام کرنا چاہیے۔ وہ مجھے اپنے ساتھ لے گئے اور وہاں میں نے کافی جدوجہد کی۔
شوبز کی دنیا کیسی ہے؟ اس سوال پر جمیل بھٹہ کے چہرے پر ایک طمانیت بھری مسکراہٹ آ جاتی ہے۔
وہ کہتے ہیں ’شوبز فیلڈ تو بہت اچھی ہے، جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا کہ یہ آپ کو دنیا میں نام اور فیم دیتی ہے۔
’دنیا میں کروڑوں روپے کے مالک لوگ ہوتے ہیں جنہیں کوئی جانتا تک نہیں، لیکن جمیل بھٹہ اگر کسی گلی سے بھی گزرے تو الحمدللہ لوگ کہتے ہیں، یار یہ جمیل بھٹہ جا رہا ہے۔
’شوبز کا یہ تو مزہ ہے نا، اور یہ ایک نشہ بھی ہے۔‘