خواتین کے خلاف تعصب اور سماجی رویے

عورت جب دائروں سے نکلنے کے لیے سر اٹھاتی ہے تو اسے صنفی تعصب کا سامنا کرتا پڑتا ہے۔

ماہرین نے گھروں میں بچوں کی تربیت خصوصاً بیٹیوں کی تربیت کو مساوی انداز پہ کرنے کی ضرورت کی جانب نشاندہی کی (اینواتو)

پچھلے دنوں بالی وڈ مووی ’انگلش ونگلش‘ دوبارہ دیکھی اور لگا کہ اس میں تو ’مسوجنی یا خواتین سے تعصب اور ڈس رسپیکٹ‘ جیسے موضوع پہ بڑے ہی خوبصورت انداز میں بات کی گئی ہے۔

فلم کی کہانی کار گوری شندے نے بڑے حساس موضوع کو انگلش زبان کی کمزوری سے جوڑ کے بیان کیا۔

ماہرین سے جب اس پہ رائے جانی تو اندازہ ہوا کہ ’مسوجنی یا جنسی تعصب‘ پدر شاہی سوچ کی ہی ایک شاخ ہے جہاں عورت کو بڑے نارمل انداز میں دبک کے رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اور کہیں بھی کسی کے سامنے سڑک پہ گاڑی چلاتے یا محفل میں عورت کو صنف کے سانچے میں رکھ کے کچھ بھی کہا یا سمجھا جا سکتا ہے۔

جینڈر اور انسانی حقوق پہ ریسرچ کرنے والی ماہر نازش بروہی کا ماننا ہے کہ معاشرے کو سمجھنے کے لیے پدر شاہی کا جو نظام ہے وہ پورا ایک فریم ورک دیتا ہے جس سے سمجھ میں آتا ہے کہ معاشرہ کس طرح دائرے قائم کرتا ہے اور لوگوں کو کس طرح ان کے اندر گرفتار رکھتا ہے۔

نازش بروہی کے بقول ’اس معاشرے میں خواتین کا رول کس طرح محدود کیا جاتا ہے وہ صنف اور جنس کا تضاد ہے۔

’جنس یعنی بائیولوجی کے حساب سے اور صنف یعنی جینڈر جو معاشرہ آپ کو سکھاتا ہے۔

’عورت بچہ پیدا کرنے کی قدرتی صلاحیت رکھتی ہے لیکن یہ قدرتی نظام عورت کو کھانا پکانے اور کپڑے دھونے اور گھر داری کی قید میں نہیں ڈالتا۔

’یہ ذمہ داریاں معاشرہ صنف کے دائرے میں رکھ کے قائم کرتا ہے اور خاندان کے مرد (باپ، بھائی، شوہر ، بیٹا، سسر) اس کو ان صنفی رولز تک محدود رکھتے ہیں۔‘

گویا عورت جب دائروں سے نکلنے کے لیے سر اٹھاتی ہے تو اسے صنفی تعصب نفرت یا ’مسوجنی‘ کا سامنا کرتا پڑتا ہے۔

حالیہ دنوں میں حنا جاوید قتل کیس بھی اسی رویے یا سوچ کی کڑی ہے۔

کیا یہ رویے عالمی سطح پہ بھی یکساں سوچ کی نشاندہی کرتے ہیں، فیمنسٹ سکالر ڈاکٹر صبا گل خٹک مانتی ہیں کہ خواتین عالمی سطح پہ ان ہی دائروں میں قید ملتی ہیں اور ان کو پھلانگتی نظر آتی ہیں۔

خواتین عالمی سطح پر عدم مساوات سے لڑتی نظر آتی ہیں۔ عدم مساوات کی عالمی رپورٹ 2022 کے مطابق خواتین کا آمدنی میں حصہ تین دہائیوں میں صرف چار فیصد تک بڑھ کے 34 فیصد ہوا ہے۔

دنیا بھر میں پدر شاہی اور سرمایہ دارانہ نظام ایک دوسرے سے جڑے ملتے ہیں۔

اسی لیے جنسی خلیج مستقل بڑھتی دیکھی جاتی ہے اور خواتین کی صورت حال میں بہتری کی رفتار انتہائی سست روی کا شکار ہے۔

تعلیم اور صحت کے میدان میں خواتین کی بہتری کی شرح ازیت ناک حد تک کم دیکھی جا سکتی ہے خاص کر ترقی پزیر ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے، جہاں ملکی آبادی کا نصف سے زائد غربت کے ملبے تلے دبا ہوا ہے۔

ڈاکٹر صبا کے مطابق ’پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن نے اسے جس طرح اندرونی ا ور بیرونی ’پراکسی‘ تنازعات میں گھیر رکھا ہے وہ بھی خواتین کے حقوق سے متعلق ایک خاص طرز فکر کو جنم دیتے ہیں اور خواتین کے کے حقوق کو مٹانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔‘

پاکستان کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ثقافتی مظاہر یعنی قدامت پسند سوچ اور رویوں کے باعث بھی ملک میں جنسی تعصب، نفرت یا مسوجنی اور عدم مساوات کی سوچ کو بڑھاوا مل رہا ہے۔

لیکن روشن خیال ازہان اس سوچ کو بدلنے کی اپنے تئیں کوشش بھی کرتے ہیں گو کہ یہ دشوار راستہ ہے لیکن اس پہ کام ہو رہا ہے۔

پروفیسر عدنان طارق کے جو واہ یونیورسٹی میں انجینیئرنگ کی فیکلٹی کے سربراہ ہیں مطابق ان کے ادارے میں جس حد تک ممکن ہوتا ہے وہ خواتین کولیگز کی حوصلہ افزائی اور احترام کو ملحوظ رکھتے ہیں۔

’ہم صنف کی بنا پہ استادوں کی کارکردگی کو تقسیم نہیں کرتے۔‘

ان کے بقول ’جامعہ میں دو کیسز جنسی ہراسانی کے بھی رپورٹ ہوئے تھے اور دونوں صورتوں میں ایک فیکلٹی ڈین سمیت مرد حضرات کو باقاعدہ انکوائری کے بعد برطرف کیا گیا جبکہ روزمرہ کے جامعاتی معاملات میں بھی خواتین اساتذہ کے ساتھ اخلاقی اور تدریسی تعاون برقرار رکھا جاتا ہے۔‘

پرفیسر عدنان کے مطابق وہ اپنی جامعہ میں شام کی کلاسز کے لیے ممکنہ کوشش کرتے ہیں کہ خواتین اساتذہ کو زحمت نہ دیں ان کے لیے رات کے آٹھ بجے تک کے تدریسی اوقات نبھانا مشکل ہو گا لیکن ہاں اس سے انکار نہیں کہ عدم  مساوات کا شکار ہمارے معاشرے میں سوچ اور رویوں کو بدلنے میں صدیاں لگ جائیں گی۔

سینیئر صحافی جنہوں نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی درخواست کی ان کے مطابق ’ابتدائی انسانی معاشرہ مادر سری پہ انحصار کرتا تھا اور خانہ بدوشانہ طرز زندگی تھا، اس میں مرد کا کردار صرف محافظ کا تھا لیکن جب زراعت کی دریافت ہوئی تو مرد کی لالچ نے پدر شاہانہ نطام کی بنیاد رکھی اور عورت کو زندگی کے ہر شعبے میں عدم مساوات کا سامنا ہوا۔ یہ ہی سماجی رویہ جنسی تعصب یا مسوجنی کی بنیاد بنا۔‘

عکس ریسرچ اینڈ ریسورس سینٹر کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر تسنیم احمر کا کہنا تھا کہ اس غم کا پوچھیں ان عورتوں سے جو پیدائش سے لے کر مرتے دم تک تشدد کا سامنا کرتیں ہیں۔

’سکون تو بہت سوں کو مرنے کے بعد بھی نہیں ملتا جب قبروں سے لاشیں نکال کر ان کا بھی ریپ کیا جاتا ہے۔ یہ تو غم سے بھی کئی درجہ زیادہ ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’کم عمری اور زبردستی کی شادیاں، تعلیم اور اپنی زندگیوں کا فیصلہ نہ کر سکنے کا غم، کھل کہ نہ جی سکنے کا غم۔

’نام نہاد ’غیرت‘ کے نام پہ قتل ہو جانے کا غم۔ کیا کیا گنوائیں۔ یہ سارے خود ساختہ معاشرتی رویے ہیں جو ہم اور آپ بدل سکتے ہیں۔‘

ماہرین یہ بھی مانتے ہیں کہ پدر شاہانہ سوچ عالمگیریت رکھتی ہے۔ بقول صحافی عمیر علوی ’آج سے سو سال قبل خواتین ووٹ ڈالنے کا حق نہیں رکھتی تھیں لیکن اپنی جنگ لڑ کے انہوں نے یہ حق حاصل کیا۔

’1893 میں خواتین کو یہ حق سب سے پہلے دنیا میں نیوزی لینڈ  اور پھر فن لینڈ نے دیا تھا، جس نےعدم مساوات کی سوچ کو پلٹا دیا۔

’لیکن دیگر ایشیائی افریقی اور عرب ممالک میں خواتین کو برسوں اپنے حق رائے دہی کے لیے حقوق کی جنگ لڑنا پڑی۔‘

خواتین صحافی لبنی جرار اور ماہر تعلیم و ریسرچر زیبا ہاشمی اسے پدر شاہانہ طرز فکر اور معاشی خود مختاری سے بھی جوڑ کر دیکھتی ہیں۔

ان کے بقول ’معاشی تسلط برقرار رکھنے کے لیے مرد سماج کو اپنے زیر نگوں رکھنا چاہتے ہیں جبکہ زمانہ بدل رہا ہےخواتین مردوں کے شانہ بشانہ چل رہی ہیں، کما رہی ہیں اور دوہری گھریلو ذمہ داریاں اٹھاتی ہیں کیونکہ ہم نے صنف اور جنس کے دائرے عورتوں کے لیے پنجروں کی مانند مقرر کر رکھے ہیں۔‘

بلاگ لکھتے ہوئے یہ اندازہ ہوا کہ سبھی ماہرین نے گھروں میں بچوں کی تربیت خصوصاً بیٹیوں کی تربیت کو مساوی انداز پہ کرنے کی ضرورت کی جانب نشاندہی کی۔

علامہ اقبال ضرب کلیم میں کہہ گئے ہیں ’وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ۔‘

لیکن یہ رنگ تصویر کائنات میں تبھی بھرے جا سکتے ہیں جب خواتین کو مساوی بنیادوں پہ سماج میں سر اٹھا کے چلنے اور جنسی تعصب سے متاثر ہونے ’نہ‘ دیا جائے۔

نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین