شمشال کی ثمانہ، دیر کی ثمر اور پشاور کی جنت کا ایک ہی جواب سامنے آیا: ’ایڈوینچر آزادی کی طرف ایک قدم، روح کو پر سکون رکھنے اور نئے معرکوں کو سر کرنے کا نام ہے۔‘
تھراپسٹ ایمان نیازی کے مطابق: ’جو بچے سکول یا گھر میں کسی بھی قسم کی زیادتی کو برداشت کرتے ہیں، ان کے اندر ایک اضطراب جاری رہتا ہے، جو انہیں سکون نہیں لینے دیتا۔ ایسے بچوں میں ’لڑائی اور فرار‘ کی کیفیت ہر وقت جاگی رہتی ہے۔‘