عورت یا تو محض ’صنفِ نازک‘ کے طور پر دیکھی جاتی ہے، یا پھر اگر وہ رائج حسن کے معیار پر پوری نہ اترے تو گویا دائرۂ حسن سے خارج کر دی جاتی ہے۔
سکول میں ایک بچہ صرف درسی کتابوں کا بستہ لیے نہیں آتا بلکہ اپنی شخصیت کے وہ سب پہلو بھی ساتھ لاتا ہے جو اسے کتابی رہنمائی سے زیادہ اخلاقی مضبوطی کی طرف لے جاتے ہیں۔