میرے بچپن میں صرف پی ٹی وی ہوا کرتا تھا اور پھر 1980 کی دہائی میں این ٹی ایم کا جنم ہوا۔ افشاں، ان کہی، تنہائیاں اور دھوپ کنارے دیکھتے دیکھتے ہم ڈرامے کی انٹرٹینمنٹ سے متعارف ہو گئے۔ کہیں کہانی نے اپنی طرف کھینچا اور کبھی کچھ کرداروں نے ہماری توجہ کو آن لیا۔ کہانی اور کردار دونوں ہی یادگار بنتے گئے۔
آج دو نہیں بلکہ دو درجن سے بھی کہیں زیادہ تعداد میں چینلز ہیں اور ہم اپنی پسند کے ڈرامے ان چینلز کے توسط سے دیکھ پاتے ہیں۔ پچھلے دو تین سال میں جیسے ڈراموں کے مزاج نے ایک نئی کروٹ لی اور ہم کہانیوں میں گم سے ہو جاتے ہیں، چاہے وہ میٹریآرک ’نور جہاں‘ ہو، کابلی پلاو کی ’باربینہ‘ ہو یا ’حاجی صاحب‘، کبھی میں کبھی تم کے فہد مصطفیٰ، ہانیہ عامر یا ان کرداروں کے والدین، ہر کردار اپنی چھاپ چھوڑتا اور کہانی سناتا ملا۔
لکھاری ہوں، ہدایت کار ہوں اور اداکار، سب نے رواں سال کے جاتے جاتے بھی جیسے منفرد رہنے کی ٹھان رکھی ہے۔ ’پرورش‘ کے موضوعات اور ان کی باریکیاں ہمیں جیسے ہر دوسرے گھر میں جیتے جاگتے ملیں، تو ’شیر‘ کی کاسٹ اور کہانی میں کئی جاگیردار گھرانوں کی بازگشت سنائی دی، اور وہ بھی ایک فیملی ڈرامہ تھا جو ’رومیو اینڈ جولیٹ‘ کی طرز پر تحریر ہوا۔
فی الحال ’جمع تقسیم‘ اور ’پامال‘ سب کے ذہنوں پر چھائے ہوئے ہیں۔ یہ ماجرا اور انفرادیت کیا ہے؟ ادب اور انٹرٹینمنٹ کے نقاد عمیر علاوی کے مطابق، ’انفرادیت تو بالکل ہے۔ سال کا اینڈ ہو رہا ہے، ’کیس نمبر نائن‘ چل رہا ہے، بہت ہی زبردست ڈرامہ ہے، کورٹ روم ڈرامہ جو ہم پہلے نہیں دیکھتے تھے۔ ’شر پسند‘ ایک ایسے موضوع پر لکھا گیا ہے جس میں ایک آدمی ہے جو خود کو بہت دانا سمجھتا ہے لیکن وہ ہے نہیں۔ اس کا سکرپٹ شر پسندی کے حوالے سے لکھا گیا ہے۔ دوسری طرف ’جمع تقسیم‘ فیملی ڈرامہ ہے جو جوائنٹ فیملی کے بھید بھاؤ پر لکھا گیا ہے۔‘
دیکھا جائے تو ان کہانیوں کے تسلسل کی کڑی ’نور جہاں‘ سے جا ملتی ہے، جس میں ایک میٹریآرک اپنے کنبے کو جوڑ کر بیٹھتی ہے۔ یہ تسلسل مکمل ہوتے 2025 کے دوران ’جمع تقسیم‘ میں بھی برقرار نظر آتا ہے، جہاں والدین اپنے بہو بیٹوں کے بکھرتے سنورتے رشتوں کو اپنے تجربے اور پیار کے دامن میں سمیٹنے کی کوشش میں لگے دکھائی دیتے ہیں۔
تو دوسری طرف بقول عمیر علاوی، ’ہارر کامیڈی میں ’جن کی شادی ان کی شادی‘ بھی سپر نیچرل قوتوں کے ساتھ ڈرامہ انڈسٹری میں اپنی جگہ بناتا ملا۔‘
موضوعات کے حوالے سے عوام کیا دیکھنا چاہتے ہیں، کہانی یا پروڈکشن کے گُر؟ ڈرامہ ’پرورش‘ کی لکھاری کرن صدیق کا ماننا ہے کہ ’ہم دوبارہ اسٹوری ٹیلنگ کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ ہمارے لیے کہانی سنانا سب سے اہم ہے بہ نسبت گلیمر اور کیمرے کی چکاچوند کے۔ ’جمع تقسیم‘ اور ’پامال‘ ہمارے سماج سے اٹھائی گئی، اپنی جڑیں ہمارے گھروں میں پھیلاتی کہانیاں ہیں۔ ان کی پروڈکشن بھی کمال کی ہے لیکن صرف پروڈکشن پر زور نہیں بلکہ کہانی کو بننے کا فن دکھائی دیتا ہے، اور یہی ان کی کامیابی کا باعث ہے۔‘
ناقد عمیر علاوی اور لکھاری کرن صدیق اس تبدیلی کو بھی سراہتے ملے کہ اب ان موضوعات پر بھی بات کی جا رہی ہے اور ڈرامے بنائے جا رہے ہیں جن کو ہم موضوعات کی نزاکت کے مدنظر خیالات کی فائل میں سب سے نیچے دبا دیا کرتے تھے۔ جیسے ’کیس نمبر نائن‘، جنسی زیادتی کے حوالے سے لکھی گئی ایک مضبوط اور جامع کہانی ہے۔
شاہزیب خانزادہ نے پوری تفصیل اور باریکی سے ایک سچی روداد کو سکرپٹ کے پیرائے میں ڈھالا ہے۔
موضوعات کے اعتبار سے ہمیں اپنے لکھاری ’بولڈ‘ دکھائی دیے، اور نوجوانوں کے مسائل کے حوالے سے ذہنی صحت کو خاص طور پر توجہ دی گئی۔ کہیں ’بائی پولر‘ جیسے پرسنالٹی ڈس آرڈر کو کردار میں ڈھالا گیا اور کہیں ڈپریشن میں مبتلا نوجوان بچوں کے لیے بات کرنے کی کھڑکی کھلی۔
کیا سبھی موضوعات پر بات کرنے کے لیے ٹی وی بہترین پلیٹ فارم ہے یا ’او ٹی ٹی‘ کے میڈیم سے بھی بات کرنا بہتر ہوگا؟ منجھے ہوئے اداکار و ہدایت کار شمعون عباسی نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ: ’ٹی وی، سینیما اور او ٹی ٹی کی سینسر پالیسیاں اپنے اپنے پلیٹ فارم کے حساب سے ترتیب دی جاتی ہیں۔ جو سماجی باریکیاں کہانیوں کے توسط سے ڈراموں میں بیان کرنے کی کوشش کی جاتی ہے وہ اکثر سینسر کر دی جاتی ہیں، گوکہ اب کئی ڈرامے ایسے ہیں جو ان سینسر پالیسیوں کے برعکس بھی چل رہے ہیں۔ جو فیملی ڈرامے کے زمرے میں نہیں آتے، اور ابھی ہم اتنے ماڈرن نہیں ہوئے—کہیں نہ کہیں شرم کا پردہ رہنا چاہیے۔ ایسے موضوعات کے لیے او ٹی ٹی ایک بہترین پلیٹ فارم ہے، جسے متبادل انڈسٹری کے معنوں میں دیکھا جانا چاہیے، جہاں عمر کی ریٹنگ کے حساب سے سبسکرائب کر کے ہم دیگر موضوعات پر کام بنا کر شو کیس کر سکیں۔‘
یہاں ریٹنگ سے مراد ’فحش مواد‘ نہیں بلکہ وہ باریک اور حساس موضوعات ہیں جو ہم گھر کے لانج میں بیٹھ کر بچوں کے ساتھ نہیں دیکھ سکتے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تو دوسری جانب ناقد عمیر علاوی کا کہنا تھا کہ ’ٹی وی ڈراموں کے موضوعات میں جدت آنی چاہیے، سسپنس ہونا چاہیے، ایکشن تھرلر، مرڈر مسٹری اور کامیڈی بھی ہونی چاہیے۔ ہم ابھی اتنی ورائٹی نہیں لا پائے ہیں، لیکن ہم صحیح راستے پر ہیں۔‘
بہت سے ٹی وی ڈراموں اور او ٹی ٹی دیکھنے والوں کا جاتے سال کے ان ڈراموں کی ہدایت کاری کے حوالے سے یہ بھی ماننا ہے کہ ان سبھی ڈراموں میں حقیقی رنگ بھرنے میں ہدایت کاری کا بھی بہت ہاتھ ہے۔ کہیں بیک گراؤنڈ لائٹنگ، کہیں باریک بینی سے لکھے گئے سین کو مزید باریک ہدایت کاری سے جیسے رقم کر دیا گیا ہو، سبھی کا ساجھا ہے کہ یہ ڈرامے دلوں پر نقش ہوتے چلے گئے ہیں۔
ہدایت کار و اداکار شمعون عباسی کا کہنا ہے کہ ’او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر دنیا بھر کی پروڈکشن کو دیکھا، سراہا اور فلیپ کیا جا رہا ہے، اس لیے پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کو ہدایت کاری کے حوالے سے سخت مقابلے کا سامنا ہے اور اس پر ہمیں پورا اترنا ہوگا۔‘
دیکھنا یہ ہے کہ 2025 کے رخصت ہوتے ہوتے مزید کون سے ڈرامے زنجبیل عاصم، کرن صدیق اور میثم نقوی جیسے کہانی کار و ہدایت کاروں کے بنائے شاہکار اپنے دیکھنے والوں کو دے پائیں گے۔
