آسٹریلیا کا ایک پورا قصبہ تقریباً 50 لاکھ پاؤنڈ (ایک ارب، 89 کروڑ پاکستانی روپے سے زائد) میں فروخت کے لیے پیش کر دیا گیا ہے، جس سے ملک کی سب سے چھوٹی اور منفرد کمیونٹیوں میں سے ایک کے مستقبل کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
لیکولا، وکٹورین ہائی کنٹری میں میلبرن سے تقریباً 250 کلومیٹر مشرق میں واقع ایک دور افتادہ علاقہ ہے، جہاں صرف پانچ افراد کی رہائش گاہ ہے۔ اس شہر میں ایک جنرل سٹور، پیٹرول سٹیشن، کاروان پارک اور کئی ویدر بورڈ کی عمارتیں شامل ہیں، جو تقریباً 42 ایکڑ رقبے پر پھیلی ہوئی ہیں۔
اس قصبے کو خاموشی سے فروخت کے لیے آن لائن لسٹ کیا گیا ہے، جب اس کے طویل عرصے سے مالکان نے کہا کہ اس کو چلانا اب مالی طور پر ممکن نہیں رہا۔
لیکولا 50 سال سے زیادہ عرصے سے وکٹوریا اور سدرن نیو ساؤتھ ویلز کے لائنز کلبز کی ملکیت میں رہا ہے، جنہوں نے 1960 کی دہائی کے آخر میں سابقہ لکڑی کی مل کی زمین حاصل کی اور اسے ایک گاؤں میں تبدیل کر دیا، جہاں محروم بچوں، نوجوانوں اور خصوصی ضروریات والے گروپوں کے لیے کیمپ لگائے جاتے تھے۔
میکلسٹر دریا کے کنارے قائم یہ قصبہ الپائن نیشنل پارک جانے والے مسافروں کے لیے بھی ایک اہم سٹاپ کے طور پر کام کرتی رہی، جہاں وہ ایندھن، خوراک اور رہائش حاصل کر سکتے ہیں، بصورت دیگر اس علاقے میں سہولیات کم ہیں۔
یہ وکٹوریا کا واحد علاقہ ہے جو ریاستی بجلی کے گرڈ سے منسلک نہیں، بلکہ اپنی بجلی ایک سولر مائیکرو گرڈ کے ذریعے پیدا کرتا ہے اور اپنا پانی اور فضلہ خود سنبھالتا ہے۔
اس فروخت نے رہائشیوں اور حامیوں کو، خاص طور پر اس خاندان کو، جس کے زیر انتظام جنرل سٹور چل رہا ہے، پریشان کر دیا ہے۔
لیان او ڈونل، جو اپنے ایک بچے، اپنی بہترین دوست اور دو دیگر بچوں کے ساتھ لیکولا میں رہتی ہیں، نے کہا کہ انہیں گذشتہ سال کے آخر میں آن لائن لسٹنگ دیکھنے کے بعد اس فروخت کے بارے میں معلوم ہوا۔ ان کی لیز کی تجدید نہیں کی گئی اور انہیں پراپرٹی خالی کرنے کو کہا گیا ہے۔
لیان او ڈونل نے بی بی سی کو بتایا: ’مجھے یہ شہر بے حد پسند ہے۔ اگر یہ کسی ڈویلپر کے ہاتھ لگ گیا اور کچھ ایسا بن گیا جو یہ نہیں ہے، تو یہ میرا دل توڑ دے گا۔‘
ایک آن لائن پٹیشن جس میں سٹور کو کھلا رکھنے اور لیان او ڈونل کو رہنے کی اجازت دینے کی درخواست کی گئی ہے، پر آٹھ ہزار سے زائد دستخط کیے جا چکے ہیں۔
لیان او ڈونل نے شہر کو مکمل طور پر خریدنے اور اسے کمیونٹی کے کنٹرول میں رکھنے کے لیے فنڈ ریزنگ مہم بھی شروع کی ہے۔
انہوں نے گو فنڈ می پیج پر لکھا: ’لیکولا صرف ایک شہر نہیں ہے، یہ وکٹوریا کی ہائی کنٹری میں ایک نایاب، پرامن، مکمل طور پر آف گرڈ کمیونٹی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ لیکولا نے اس علاقے میں رہنے والے اور گزرنے والے لوگوں کے لیے ’ضروری خدمات فراہم کیں، عیش و آرام کے لیے نہیں بلکہ لائف لائن کے طور پر۔‘ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ اگر شہر نجی ڈویلپرز کو فروخت ہو گیا تو یہ خدمات ختم ہو سکتی ہیں۔
مہم کا مقصد پورے قصبے کے لیے بولی لگانے کے لیے زیادہ سے زیادہ 8 ملین آسٹریلوی ڈالر جمع کرنا ہے اور طویل مدتی مقصد کی حامل کمیونٹی کی ملکیت قائم کرنا ہے، چاہے وہ ٹرسٹ یا کوآپریٹو ماڈل کے تحت ہو۔
لیان او ڈونل نے کہا کہ اگر خریداری کامیاب نہ ہوئی تو عطیات واپس کر دیے جائیں گے، تاہم بدھ کو فنڈ ریزنگ مہم عارضی طور پر روک دی گئی۔
بی بی سی کو دیے گئے بیان میں لائنز ویلیج لیکولا بورڈ کے ترجمان نے کہا کہ یہ فیصلہ سائٹ کے آپریشنز کے جائزے کے بعد کیا گیا، جس میں یہ پایا گیا کہ تنظیم کے لیے علاقے کی ملکیت جاری رکھنا اب قابل عمل نہیں رہا۔ بڑھتی ہوئی لاگت، انشورنس کے دباؤ، پرانی رہائش اور سکول اور کیمپ میں شرکت میں کمی کو کلیدی وجوہات کے طور پر بیان کیا گیا۔
بورڈ کے چیئرمین ڈینس کیرادرز نے کہا کہ تنظیم کی ذمہ داری صرف جسمانی سائٹ کی حفاظت نہیں بلکہ اس کے وسیع مشن کی حفاظت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’فروخت کا فیصلہ آسانی سے نہیں کیا گیا۔‘ بقول ان کے، ڈسٹرکٹ گورنرز کو بریفنگ دی گئی اور وہ اس اقدام کی حمایت کرتے ہیں۔
بورڈ نے کہا کہ فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی سے وکٹوریا بھر میں محروم بچوں کے لیے پیشہ ورانہ کیمپ چلانے کے لیے نئی فاؤنڈیشن میں دوبارہ سرمایہ کاری کی جائے گی، حالانکہ لیکولا میں کیمپ کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال باقی ہے اور جنوری کے لیے پہلے سے شیڈول کیمپ کو کم داخلوں کی وجہ سے منسوخ کر دیا گیا۔
ڈینس کیرادرز نے کہا کہ اس پراپرٹی میں ’کافی دلچسپی‘ رہی ہے۔ تاہم، رہائشیوں اور حامیوں کے لیے خدشہ ہے کہ یہ فروخت ایک نایاب، خود کفیل علاقے کے خاتمے کی علامت بن سکتی ہے، جس کی بقا طویل عرصے سے تجارتی ترقی کے بجائے کمیونٹی کی سرپرستی پر منحصر رہی ہے۔
© The Independent