پراسیکیوٹرز نے جمعرات کو اسرائیل کی داخلی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کے بھائی کے خلاف محصور غزہ میں سگریٹ کی مبینہ سمگلنگ پر ’جنگ کے دوران دشمن کی مدد‘ سمیت دیگر جرائم کے تحت الزامات عائد کیے۔
اسرائیل فلسطینی علاقے میں تمام سامان اور لوگوں کے داخلے کو کنٹرول کرتا ہے، جہاں اسرائیل اور حماس کے درمیان 10 اکتوبر کو نافذ العمل ہونے والی جنگ بندی کے باوجود انسانی حالات بدستور مخدوش ہیں۔
وزارت انصاف نے کہا کہ شن بیت کے سربراہ ڈیوڈ زینی کے بھائی بیزلیل زینی پر دیگر مدعا علیہان کے ساتھ ’جنگ کے دوران دشمن کی مدد، دہشت گردی کے مقاصد کے لیے جائیداد میں لین دین، سنگین حالات میں دھوکہ دہی سے کچھ حاصل کرنے اور رشوت لینے‘ کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
وزارت نے ایک بیان میں مزید کہا، ’پٹی میں سمگل کی جانے والی ممنوع اشیا کی ایک مرکزی کیٹیگری تمباکو اور سگریٹ تھی، جس نے جنگ کے آغاز سے اب تک حماس کے خزانے میں مجموعی طور پر کروڑوں شیکل جمع کروائے ہیں۔‘
اسرائیلی فوج کے ایک ریزروسٹ بیزلیل زینی پر تین مواقع پر غزہ میں سگریٹ کے تقریباً 14 کارٹن سمگل کرنے کا شبہ ہے، جس کے لیے انہیں 365,000 شیکل (تقریباً 117,400 ڈالر) ملے۔
جمعرات کو زینی کے ساتھ دو دیگر مدعا علیہان پر بھی فرد جرم عائد کی گئی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بیان میں مزید کہا گیا کہ سمگلنگ ’پٹی میں کراسنگ پر فوجیوں کو گمراہ کر کے اور ایسی جھوٹی صورت حال پیش کر کے کی گئی جیسے مدعا علیہان سیکورٹی مقاصد کے لیے اپنی فوجی سروس کے حصے کے طور پر داخل ہو رہے تھے۔‘
یہ ایک وسیع تر سمگلنگ نیٹ ورک کا حصہ ہے جسے وزارت انصاف نے ’منافع کے لیے غزہ کی پٹی میں مختلف سامان کی منظم اور جدید ترین سمگلنگ کا سنگین معاملہ‘ قرار دیا ہے، جس کا آغاز 2025 کے موسم گرما میں ہوا تھا، جب غزہ میں جنگ جاری تھی۔
پراسیکیوٹرز نے بدھ کے روز اس کیس کے سلسلے میں 12 افراد اور ایک کمپنی کے خلاف الزامات دائر کیے۔
بدھ کو وزارت انصاف کے ایک بیان میں کہا گیا کہ سمگل شدہ سامان کی مالیت لاکھوں شیکل تھی اور اس میں سگریٹ کے کارٹن، آئی فونز، بیٹریاں، کار کے پرزے اور دیگر اشیا شامل تھیں۔